Wed, September 16, 2026

مویا: جدید ٹیکنالوجی سے لیس انسان نما روبوٹ کی دنیا میں انٹری

مویا: جدید ٹیکنالوجی سے لیس انسان نما روبوٹ کی دنیا میں انٹری

بیجنگ:  چین کی ٹیکنالوجی کمپنی ڈریوڈ اپ نے ایک جدید روبوٹ 'مویا' تخلیق کیا ہے جو انسانی شکل و صورت اور حرکات و سکنات کے لحاظ سے بہت حد تک انسان کی طرح نظر آتا ہے۔ اس روبوٹ کی خاص بات یہ ہے کہ اس کی جلد حقیقی انسان کی طرح گرم ہوتی ہے، جس کا درجہ حرارت 32 سے 36 ڈگری سینٹی گریڈ کے درمیان ہوتا ہے۔

کمپنی کے بانی لی چنگڈو کے مطابق، حقیقی انسان جیسا تاثر دینے کے لیے روبوٹ کی جلد کا گرم ہونا نہایت ضروری ہے۔ مویا کی چلنے پھرنے کی صلاحیت بھی تقریباً 92 فیصد انسانوں جیسی ہے اور اس میں جدید ترین آرٹیفیشل انٹیلی جنس (AI) ٹیکنالوجی شامل کی گئی ہے، جس کی وجہ سے اسے دنیا کا پہلا بایومیمیٹک AI روبوٹ کہا جا رہا ہے۔

اس روبوٹ کو خاص طور پر طبی دیکھ بھال، تعلیمی شعبے اور انسانوں کے ہمراہ دوست یا ساتھی کے طور پر استعمال کرنے کے لیے تیار کیا گیا ہے۔ مویا کی آنکھوں میں کیمرہ نصب ہے جو اسے انسانوں کے ساتھ مؤثر بات چیت کرنے اور جذباتی تاثرات کا اظہار کرنے کے قابل بناتا ہے۔

مویا نے اپریل 2025 میں دنیا کی پہلی روبوٹ ہاف میراتھون ریس میں کانسی کا تمغہ حاصل کیا تھا، جو اس کی کارکردگی کا ثبوت ہے۔ کمپنی کا منصوبہ ہے کہ یہ روبوٹ 2026 میں تقریباً ایک لاکھ 73 ہزار امریکی ڈالر کی قیمت پر مارکیٹ میں پیش کیا جائے گا۔
 
 
 

ٹیگز: