Wed, September 16, 2026

تحریک لبیک پاکستان پر پابندی !

تحریک لبیک پاکستان پر پابندی !

وفاقی کابینہ کی منظوری کے بعد ، وزارت داخلہ نے تحریک لبیک پاکستان پر پابندی عائد کر دی ہے۔ یہ اقدام انسداد دہشت گردی ایکٹ (ATA)1997  کے تحت اٹھایا گیا ہے۔ اس قانون کی شق B(1)-11(a) وفاقی حکومت کو اختیار دیتی ہے کہ کسی تنظیم کے دہشت گردی میں ملوث ہونے کے قابل اعتماد شواہد موجود ہوں تو اسے کالعدم قرار دیا جا سکتا ہے۔ پابندی لگانے کے بعد حکومت متعلقہ تنظیم کے اراکین کو حراست میں لے سکتی ہے۔ اس کے دفاتر بند کر سکتی ہے۔ اس کے اثاثے منجمد کر سکتی ہے اور جلسے جلوسوں پر پابندی لگا سکتی ہے ۔ وزارت داخلہ کے جاری کردہ مراسلے کے مطابق وفاقی حکومت کے پاس ٹی ایل پی کے دہشت گردی میں ملو ث ہونے کی’’ معقول وجوہات‘‘ ہیں۔ماضی میں ایک مرتبہ پہلے بھی یعنی 2021ء میں اس تنظیم کو کالعدم قرار دیا گیا تھا۔ اس وقت اس کے احتجاج کے دوران کئی افراد جاں بحق ہوئے تھے۔ تاہم چند ہی ماہ بعد حکومت اور ٹی ایل پی کے درمیان ایک ’’سیاسی سمجھوتے‘‘ کے نتیجے میں پابندی ختم کر دی گئی تھی۔بادی النظر میں اس مرتبہ حکومت پابندی کے فیصلے کو دیرپا بنانے کے لئے پر عزم ہے۔ 

حکومتی فیصلے کا پس منظر یہ ہے کہ تحریک لبیک نے غزہ مارچ کے نام پر احتجاج شروع کیا تھا ۔ مظاہرین اسلام آباد جانا چاہتے تھے۔ اس مارچ کے دوران کارکنوں اور پولیس کے درمیان پر تشدد جھڑپیں ہوئیں۔احتجاج میں ہلاکتیں ہوئیں اور لوگ زخمی بھی ہوئے۔ سیکیورٹی اور نظم و نسق کے تناظر میں حکومت نے اس جماعت کے خلاف سخت کارروائی کرنے کا فیصلہ کیا۔ تحریک لبیک کا موقف ہے کہ ان کی سرگرمیاں پرامن مذہبی احتجاج کے زمرے میں آتی ہیں اور حکومت غزہ کے مسئلے پر ان کی آواز دبانا چاہتی ہے۔اس کے مطابق حکومتی فیصلہ’’ غیر آئینی‘‘اور’’ سیاسی انتقام‘‘ ہے۔ یہ امکان موجود ہے کہ تحریک لبیک ایک رجسٹرڈ سیاسی جماعت کے طور پر عدالت کا رخ کر سکتی ہے اور آئین کے آرٹیکل 17 کے تحت اپنے ’’سیاسی حقوق‘‘ کی خلاف ورزی کا حوالہ دے کر ریلیف لے سکتی ہے۔ اس جماعت کا ماضی بھی ایک کہانی سناتا ہے۔ بریلوی مکتبہ فکر سے تعلق رکھنے والی یہ جماعت یا تحریک 2015 ء میں منظر عام پر آئی تھی۔ اس نے توہین مذہب اور مذہبی غیرت کا نعرہ لگاکر ملک گیر توجہ حاصل کی۔ اس تحریک نے سڑکوں پر احتجاج ، راستوں کی ناکہ بندی، دھرنے ، اور حکومت کے ساتھ ٹکرائو جیسی سرگرمیوں کی وجہ سے شہرت حاصل کی۔ ماضی میں اس کو مختلف حلقوں کی حمایت حاصل تھی۔ ا س مرتبہ لیکن یہ تنہا دکھائی دیتی ہے۔ کسی بھی مکتبہ فکر سے تعلق رکھنے والی کسی قابل ذکر یا بڑی مذہبی تنظیم نے بھی تحریک لبیک کے حق میں آ واز نہیں اٹھائی ہے۔ کہا جا سکتا ہے کہ ماضی کے برعکس اسے مذہبی برادری کی حمایت حاصل نہیں ہے۔ 

اس صورتحال کا ایک اہم یا دلچسپ پہلو یہ ہے کہ اگرچہ ٹی ایل پی پر انسداد دہشت گردی قانون کے تحت پابندی عائد کر دی گئی ہے ، تاہم الیکشن کمیشن آف پاکستان کے ریکارڈ میں یہ بدستور ایک رجسٹرڈ سیاسی جماعت ہے۔ یہاں ایک قانونی سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا ٹی ایل پی کی انتخابی حیثیت برقرار رہے گی ؟ کیا یہ سیاسی سرگرمیوں میں حصہ لیتی رہے گی؟ وزیراعظم کے مشیر رانا ثنا اللہ کے مطابق یہ پابندی کسی کے مذہبی نظریات کے خلاف نہیں ہے ۔ پابندی ان عناصر کے خلاف ہے جو ریاست مخالف اور دہشت گردانہ سرگرمیوں میں ملوث ہیں۔ بہرحال اس ضمن میں الیکشن کمیشن کی وضاحت کی ضرورت ہے جو فی الحال میری نگاہ سے تو نہیں گزری۔ 

اس ساری کارروائی میں پنجاب حکومت نے 3800 سے زائد مالی معاونت کرنے والوں کی نشاندہی کی ہے، 95 بینک اکاونٹس منجمد کئے ہیں۔ کئی مدارس سیل کئے ، اور جائیدادوں کا کھرا لگایا ہے۔ اس کے باوجو د سوال اٹھتا ہے کہ کیا یہ پابندی برقرار رہے گی؟ کیا جماعت کی مرکزی قیادت اور مالی معاونین کے خلاف عدالتوں میں کیس چلیں گے؟ کیایہ کیس اپنے انجام کو پہنچ سکیں گے ؟ ان سوالات کی وجہ یہ ہے کہ ماضی میں بھی متعدد تنظیموں پر پابندیاں لگیں لیکن ان کی قیادت یا مالی نیٹ ورک کے خلاف مستقل کاروائی نہ ہونے کے باعث یہ تنظیمیں دوبارہ نئے ناموں سے سرگرم ہو گئیں۔انسانی حقوق کے ضمن میں یہ نکتہ نظر بھی موجود ہے کہ ٹی ایل پی پر لگنے والی پابندی کو سیاسی مقاصد کے لئے استعمال کیا گیا تو یہ خطرناک ہو سکتا ہے۔ ایک ایسی نظیر قائم ہو سکتی ہے کہ ریاست مخالف جماعتوں پر دہشت گردی کا لیبل لگا کر انہیں راستے سے ہٹایا جا سکتا ہے یا خاموش کروایا جا سکتا ہے۔ اس صورتحال سے بچنے کے لئے لازم ہے کہ شفاف اور تیز رفتار عدالتی کاروائی کو یقینی بنایا جائے۔ 
بہرحال ٹی ایل پی پر پابندی ریاست کا ایک اہم فیصلہ ہے۔ اس فیصلے کے اثرات کا دارومدار اس بات پر ہے کہ حکومت محض پابندی کے نوٹیفیکیشن تک محدود رہتی ہے یا اس سے جڑے عملی اقدامات کو بھی یقینی بناتی ہے۔ اس ضمن میں لازم ہے کہ عدالت میں مقدمات دائر ہوں اور ان کی پیروی کی جائے۔ مالی معاملات کی تحقیقات انجام کو پہنچے ۔ اس ساری کہانی میں نظریاتی اصلاحات اور عوامی مکالمے کی بھی اشد ضرورت ہے۔ اس سوال کا جواب بھی تلاش کرنا ضروری ہے کہ کیا وجہ ہے کہ ریاست کی آنکھوں کے سامنے یہ تنظیمیں نمو پاتی ہیں۔ پروان چڑھتی ہیں۔ اپنے قدم جماتی ہیں۔ کہیں نا کہیں سے تھپکی اور شاباشی لیتی ہیں۔ اور آخر کار جب بے قابو ہو جاتی ہیں تو ریاست کو ان پر پابندی عائد کرنا پڑتی ہے۔

اس امر کی تفہیم ضروری ہے کہ تحریک لبیک پر پابندی پاکستان کے لئے صرف داخلی معاملہ نہیں ہے۔ یہ ہمارے بین الاقوامی امیج اور سفارتی تعلقات سے بھی جڑا ہوا ہے۔ برسوں سے ہم پر دبائو ہے کہ پاکستان مذہبی انتہا پسندی پر قابو پائے۔ فاٹف ، یورپی یونین جیسے عالمی ادارے اکثر یہ سوال اٹھاتے اور ہماری توجہ دلاتے رہے ہیں۔ لیکن یہ ایک ایسی دو دھاری تلوار ہے جس پر چلنا کسی حکومت کے لئے آسان نہیں ہے۔ عالمی دبائو کے ساتھ ساتھ ، داخلی دبائو کا سامنا بھی کرنا پڑتا ہے۔ ملک میں حکومت کے پابندی وغیرہ جیسے اقدامات کو بسا اوقات ’’مذہب دشمنی‘‘ کے طور پر پیش کیا جاتا ہے ماضی میں عمران خان حکومت نے فاٹف اور فرانس کے ساتھ سفارتی تعلقات کا حوالہ دے کرتحریک لبیک پاکستان پر پابندی لگائی تھی۔ لیکن داخلی دبائو کے تحت انہوں نے یہ پابندی ہٹا دی۔ 

 اب ریاست نے کوئی قدم اٹھایا ہے تو اس پر قائم رہنا چاہیے۔ پابندی والا قصہ ماضی کی طرح چند دنوں تک محدود رہنا ہے یا چند ماہ بعد حکومت کی توجہ اس سے جڑے معاملات سے ہٹ جاتی ہے یا ٹی ایل پی اپنی سرگرمیاں کسی اور نام سے شروع کر دیتی ہے تو اس ساری محنت کا کوئی فائدہ نہیں ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ڈاکٹر لبنیٰ ظہیر 

ٹیگز: