ذوالحجہ کی 9 تاریخ ہمیشہ سے اہم چلی آ رہی ہے کہ اس دن حج کا رُکن اعظم وقوف عرفات ادا کرنے کے لئے عازمین حج میدان عرفات میں جمع ہوتے ہیں۔ صبح فجر کی نماز کی ادائیگی کے بعد لبیک اللھم لبیک لبیک لا شریک لک لبیک ان الحمد والنعمتہ لک والملک لا شریک لک کی صدائیں بلند کرتے ہوئے عازمین حج کی منیٰ سے میدان عرفات کو روانگی ہوتی ہے۔ منیٰ سے عرفات کا میدان زیادہ سے زیادہ بارہ چودہ کلو میٹر کے فاصلے پر ہے لیکن عازمین حج کو منیٰ سے وہاں پہنچنے میں کئی گھنٹے لگ جاتے ہیں۔ موجودہ دور میں کم و بیش بیس ، بائیس لاکھ بلکہ پچیس لاکھ تک عازمین حج کو زوال کے وقت یعنی دوپہر بارہ ساڑھے بارہ بجے تک میدان عرفات میں پہنچنا یا پہنچانا ہوتا ہے جس کے لئے ہزاروں کی تعداد میں سواریاں جن میں زیادہ بسیں ہوتی ہیں استعمال میں لائی جاتی ہیںاس طرح منیٰ سے عرفات جانے والی کشادہ شاہراہوں اور پیدل چلنے کے راستوں پر بے پناہ رش ہو جاتا ہے۔ بسیں یا دوسری سواریاں ہجوم میں پھنسی رہتی ہیں یا پھر انتہائی سُست رفتاری سے انہیں اپنا سفر کرنا ہوتا ہے۔ عرفات کا میدان حدود حرم میں شامل نہیں ہے اور شمالاً جنوباً 12 کلو میٹر اور شرقاً غرباً5 کلو میٹر تک پھیلا ہوا ہے ۔ اس میں مسجد نمرہ اور جبلِ رحمت اہم ترین جگہیں ہیں۔ جبلِ رحمت سبزی مائل چھوٹے بڑے پتھروں سے بنا ہوا تقریباً100 میٹر قطر میں پھیلا ہوا اور زیادہ سے زیادہ 200 میٹر تک اُونچا پہاڑ ہے جس پر ایک مینار بھی بنا ہوا ہے جہاں پر ہمارے پیارے نبی حضرت محمد نے ہجرت کے دسویں برس حج الوداع کے موقع پر وقوف عرفات کیا تھا اور ایک لاکھ یا سوا لاکھ صحابہ کرامؓ کے مجمع سے خطاب کیا تھا۔ جبلِ رحمت کو جبلِ عرفہ بھی کہا جاتا ہے۔ مسجد نمرہ میدانِ عرفات کی سب سے بڑی اور مرکزی مسجد ہے جہاں ہر سال 9 ذوالحجہ کو امامِ حج ، حج کا خطبہ دیتے ہیں اور ظہر اور عصر کی قصر نمازیں ملا کر ادا کی جاتی ہیں۔ مسجد نمرہ اور اُس کے صحن میں 4 لاکھ تک نمازیوں کی گنجائش ہے اور اس کا کچھ حصہ میدانِ عرفات سے باہر بھی ہے۔
بیت اللہ شریف یعنی خانہ کعبہ اور مسجد الحرام کا ذکر ہو یا مشاعر مقدسہ یعنی منیٰ ، مزدلفہ اور عرفات کا ذکر ہو، اس ذکر کی بڑی سعادت اور فضیلت سمجھی جا سکتی ہے کہ اس کا تعلق اسلام کے بنیادی ارکان میںشامل اہم رکن حج کے ساتھ ہے۔ قرآن پاک کی سورہ آل عمران میں ارشادِ باری تعالیٰ ہے ،”اس میں کھلی نشانیاں ہیں (ان میں سے ایک) ابراہیم علیہ السلام کی جائے قیام ہے اور جو اس میں داخل ہو گیا امان پا گیا، اور اللہ کے لئے لوگوں پر اس گھر کا حج فرض ہے جو بھی اس تک پہنچنے کی
استطاعت رکھتا ہو ، اور جو (اس کا ) منکر ہو تو بے شک اللہ سب جہانوں سے بے نیاز ہے“۔اللہ کریم کا لاکھ لاکھ شکر کہ اس بندہ پُر تقصیر کو 1983ءمیں اپنی والدہ محترمہ بے جی مرحومہ و مغفورہ اور اپنے بڑے بھائی حاجی ملک غلام رزاق کے ساتھ حج بیت اللہ کی سعادت نصیب ہوئی ۔ مجھے یاد ہے کہ 9 ذوالحجہ(غالباً ستمبر 1983 ءکی 10 تاریخ تھی)جمعتہ المبارک کا دن تھا ، اس طرح ہمیں حجِ اکبر کی سعادت نصیب ہوئی ۔ پھر دو سال قبل جولائی 2024 ء(محرم 1445 ) میں اپنی اہلیہ محترمہ اوراپنے کچھ عزیزوں کے ساتھ عمرے کی سعادت نصیب ہوئی۔
میں نے اپنی کتاب ”دیارِ حجاز میں“ جو دو سال پہلے عمرے کی ادائیگی کے بعد تصنیف کی گئی میں مشاعرِ مقدسہ (منیٰ، مزدلفہ اور عرفات) کا ذکر کر رکھا ہے ۔ میدانِ عرفات کے بارے میں ، میں نے لکھا ہے کہ ”بس جبلِ رحمت کی طرف رواں دواں تھی تو باہر بڑی بڑی عمارات اور اُونچے اُونچے درخت دیکھ کر مجھے یا دآ رہا تھا کہ 1983 ءمیں ہم حج پر آئے تھے تو اُس وقت میدانِ عرفات میں نہ کوئی پختہ عمارات تھیں اور سڑکیں بھی شاید اتنی نہیں تھیں ۔ پودے وغیرہ ضرور لگے ہوئے تھے لیکن ابھی تک تن آور درخت نہیں بنے تھے ۔ میدانِ عرفات میں پودے لگانے کا کام ستر کے عشرے کے آخری برسوں کے دوران پاکستان کے تعاون سے شروع کیا گیا تھا۔ اللہ کریم والدِ محترم حاجی ملک محمد خان مرحوم کی مغفرت فرمائے کہ انہیں 1980 ءمیں حج کی سعادت نصیب ہوئی تو وہ میدانِ عرفات کا ذکر کرتے ہوئے بتایا کرتے تھے کہ اس میں بے شمار پودے لگے ہوئے ہیں جو ابھی چھوٹے ہیں۔ 1983 ءمیں جیسے اُوپر کہا گیا ہے والدہ محترمہ بے جی مرحومہ و مغفورہ اور بڑے بھائی حاجی ملک غلام رزاق کے ہمراہ حج پر جانا ہوا تو میدانِ عرفات میں لگے پودے قدِ آدم یا اُس سے کچھ بڑے ہو گئے تھے اور ہم نے ان پودوں کے سائے میں ہی وقوفِ عرفات کیا تھا“۔
مزدلفہ کا ذکر کرتے ہوئے میں نے 1983 ءکے اپنے حج کا حوالہ دے کر لکھ رکھا ہے ”نویں ذوالحجہ کی شام کو ہم عرفات سے مزدلفہ روانہ ہوئے تھے کہ نویں اور دسویں ذوالحجہ کی درمیانی رات مزدلفہ میں گزارنے کے حج کے رُکن کو پورا کر سکیں تو ہم پیدل عرفات سے مزدلفہ چل کر آئے تھے۔ والدہ محترمہ بے جی مرحومہ مغفورہ بڑی ہمت، حوصلے اور صبر و شکر سے ہمارے ساتھ پیدل چل رہی تھیں۔ سورج غروب ہو رہا تھا ۔ ملگجا اندھیرا پھیل رہا تھا اور ہماری خواہش تھی کہ ذرا روشنی میں ہی میدانِ عرفات کی حدود سے نکل کر مزدلفہ کی حدود میں پہنچ جائیں۔ سچی بات ہے کہ بے جی مرحومہ و مغفورہ کی ہمت تھی کہ اتنی کمزور اور لاغر ہونے کے باوجود انہوں نے ہمارا ساتھ دیا اور پانچ ، چھ کلو میٹر کا فاصلہ پیدل طے کر ہم مزدلفہ کی حدود میں داخل ہوئے اور سڑک کے ساتھ ہی ایک کھلی جگہ دیکھ کر اُس پر اپنی چٹائیاں بچھا کر نیم دراز ہو گئے۔ ہمیں رات وہیں گزارنا تھی۔ وضو کے لئے ہمیں پانی نہ مل سکا اور ہم نے تیمم کر کے مغرب اور عشاءکی قصر نمازیں ادا کیں“۔
منیٰ کے بارے میں ، میں نے اپنی کتاب ”دیارِ حجاز میں“ لکھا ہے کہ ”1983ءمیں ہم حج پر گئے تھے تو منیٰ میں ہمارا قیام کبری الملک عبدالعزیز کے قریب تھا۔ یہاںمزدلفہ سے منیٰ آنے والی کئی سڑکیں اکٹھی ہوتی ہیں۔ مجھے ابھی تک وہ وقت نہیں بھولا کہ رات مزدلفہ میں گزارنے کے بعد دسویں ذوالحجہ کو صبح صبح ہی میں ، بھائی صاحب اور بے جی مرحومہ و مغفورہ مزدلفہ سے منیٰ کے لئے چل پڑے تھے۔ ڈیڑھ دو گھنٹوں کے پیدل سفر کے بعد جب کبری الملک عبدالعزیز کے نیچے جہاں مزدلفہ والی سڑکیں باہم اکٹھی ہوتی ہیں پہنچے تو وہاں بہت رش تھا پھر کچھ ایسا ہوا کہ بے جی مرحومہ کے ہاتھ جو ہم نے تھام رکھے تھے ہم سے چھوٹ گئے اور دیکھتے ہی دیکھتے بے جی ہجوم میں کھو گئیں ۔ ہم دونوں بھائیوں کا پریشانی سے بُرا حال تھا۔ ہم بے جی ، بے جی کہہ کر چیخ رہے تھے کبھی اِدھر ہجوم میں دیکھتے کبھی اُدھر 15سے 20منٹ یا اس سے کچھ زیادہ وقت ہماری یہ کیفیت رہی ۔ ہم دونوں بھائی دوبارہ اُس جگہ پر اکٹھے ہوئے جہاں بے جی ہم سے بچھڑی تھیں تو سامنے بے جی کھڑی تھیں۔ ہم بے جی ، بے جی کہہ کر اُن سے لپٹ گئے اور ہماری آنکھوں سے آنسوﺅں لڑیاں جاری تھیں“۔
مشاعر مقدسہ یعنی عرفات، مزدلفہ اور منیٰ کا یہ ذکر اس لیے ضروری ہے کہ عازمینِ حج نے عرفات میں 9 ذوالحجہ کو وقوف عرفات کرنا ہوتا ہے تو نویں اور دسویں کی درمیانی رات انہیں مزدلفہ میں کھلے آسمان کے نیچے گزارنا ہوتی ہے جہاں وہ مغرب اور عشاءکی قصر نمازیں ادا کرتے ہیں اور اگلے تین دنوں کے دوران شیطان یعنی جمرات کو مارنے کے لئے کنکریاں بھی اکٹھی کرتے ہیں۔ دسویں ، گیارہویں اور بارہویں ذوالحجہ کو عازمین حج کا منیٰ ہی میں قیام ہوتا ہے جہاں وہ قربانی کرتے ہیں اور شیطان کو تینوں دن کنکریاں مارتے ہیں۔ اس دوران انہیں مکہ مکرمہ میں جا کر مسجد الحرام میں خانہ کعبہ کا طواف بھی کرنا ہوتا ہے جسے طوافِ زیارت کہا جاتا ہے۔بارہویں ذوالحجہ کی شام یا رات کو اُن کی مکہ مکرمہ میں واپسی ہوتی ہے اور اس کے ساتھ حج کے ارکان مکمل ہو جاتے ہیں۔