ہم حالت جنگ میں ہیں، جنگی تیاریاں ہو رہی ہیں، جنگ کی تیاریاں ہو چکی ہیں۔ ویسے تو ہم 2001ء سے ہی حالت جنگ میں ہیں جب 9/11کے بعد امریکہ نے دہشت گردی کیخلاف عالمی جنگ کا اعلان کیا تھا تو پاکستان اس جنگ میں فرنٹ لائن سٹیٹ بننے پر مجبور کر دیا گیا تھا ہم 20سال تک فرنٹ لائن ریاست ہے۔ اپنے اس دوران 70ہزار سے زائد انسانی جانوں کی قربانی کے ساتھ ساتھ 130ارب ڈالر کا مالی نقصان بھی اٹھایا۔ اگست 2021ء میں امریکی افواج کے افغانستان سے انخلا کے بعد کابل میں طالبان کی حکومت قائم ہوئی۔ ہم نے خوشی منائی کہ اب ہماری شمالی مغربی سرحدی علاقے محفوظ ہو جائیں گے لیکن بدقسمتی سے ایسا نہیں ہو سکا۔ افغانستان ہمارے دشمن طالبان کے لئے پناہ گاہ بن گیا۔ افغان طالبان نے تمام قیدی رہا کئے جن میں ہمارے دشمن طالبان بھی رہا ہو گئے جنہوں نے نئے عزم اور حوصلے کے ساتھ پاکستان کے خلاف دہشت گردی کرنا شروع کر دی۔ پاکستان کے پی اور بلوچستان میں حالت جنگ میں ہی نہیں ہے بلکہ جنگ جاری ہے۔ ریاست پاکستان اپنی رٹ دکھا رہی ہے۔ وطن کے دشمنوں کا قلع قمع کر رہی ہے۔ ایسے میں ہندوستان کے پیٹ میں مروڑ اٹھنے لگے تھے۔ پہلگام کا واقعہ اسی اٹھتے ہوئے مروڑوں کی کارروائی ہے۔ پاکستان نے جس طرح ترکی بہ ترکی جواب دیا ہے وہ انڈیا کے لئے حیران کن ہی نہیں بلکہ پریشان کن بھی ہے۔ پاکستان نے بڑی وضاحت کے ساتھ کہا ہے کہ پاکستان اس واقعے کی تحقیقات کا حصہ بننے کے لئے تیار ہے یعنی انڈیا تحقیقات کرے تو پاکستان اس ٹیم کا حصہ بننے اور تحقیقات کا حصہ بننے اور مکمل تعاون کرنے کے لئے تیار ہے۔ انڈین میڈیا میں بھی آوازیں اٹھ رہی ہیں کہ یہ سب کچھ کیسے ہو گیا کہ 9لاکھ سے زائد انڈین فوج کشمیر میں تعینات ہے۔ وہاں کرفیو جیسی صورتحال ہے۔ پہلگام پاکستانی سرحد سے 400کلومیٹر دور ہے پھر کیسے 4پاکستانی دہشت گرد پہلگام پہنچے۔ دہشت گردی کی اور پھر صحیح سالم جنگل میں روپوش بھی ہو گئے۔ عقل سلیم یہ بات ماننے کو تیار نہیں ہے۔ انڈیا ابھی تک کوئی جھوٹا موٹھا ثبوت بھی پیش نہیں کر سکا ہے جو اسلحہ و ہتھیار پاکستان میں ٹرین دہشت گردی میں استعمال کئے گئے تھے وہی ہتھیار پہلگام دہشت گردی میں استعمال کئے گئے۔ یہ ہتھیار امریکی افغانستان میں چھوڑ کر گئے تھے۔ ان ہتھیاروں تک افغان طالبان کی دسترس ہے۔ طالبان نے یہ ہتھیار بیچے بھی ہیں۔ پاکستان کو نہیں دہشت گردوں کو، جن کی سرپرستی ہندوستان کر رہا ہے۔ یہ ہتھیار ہندوستان کے پاس پہنچے ہیں۔
بہرحال ہندوستان نے ہم پر جنگ مسلط کر دی ہے ہم نے جس طرح اس کا جواب دیا ہے وہ بہت اعلیٰ ہے۔ اختلافات میں گھری پاکستانی قوم نے جس یکجہتی کا مظاہرہ کیا ہے۔ گنڈا پور نے صوبائی اسمبلی میں متفقہ طور پر قرارداد پاس کرا کر محب الوطنی کا بے مثال مظاہرہ کیا ہے۔ ہمارے پشتون لاریب محب وطن پاکستانی ہیں اور مشکل کی اس گھڑی میں قوم کے ساتھ کھڑے ہیں۔
عادل راجہ ایک یو ٹیوبر/ وی لاگر ہے۔ فوج کا بھگوڑا، پی ٹی آئی کا حمایتی اور پاک فوج دشمن شخص ہے۔ اس نے حال ہی میں ایک سروے کرایا ہے کہ پہلگام آپریشن اصلی ہے یا فالس فلیگ ہے۔ نتائج کے مطابق 78فیصد کے مطابق یہ بھارتی کارستانی ہے اور یہ فالس فلیگ ہے جبکہ 22فیصد کے مطابق اس میں کسی حد تک پاکستان کی انوالومنٹ ہو سکتی ہے۔ ذرا غور کریں عادل راجہ جیسا ملک دشمن بھی کہہ رہا ہے کہ یہ فالس فلیگ آپریشن ہے۔ ایک اور سروے کے مطابق پاک بھارت محاذ آرائی میں 60فیصد لوگوں نے مکمل طور پر فوج کے ساتھ ہونے کا کہا ہے جبکہ 24فیصد نیوٹرل ہیں، 14فیصد نے فوج کے خلاف رائے دی ہے۔ 2/3فیصد نے کہا کہ انہیں کچھ معلوم نہیں ہے۔ یہ سروے بھی ایک غیر ملکی تنظیم نے کنڈکٹ کیا ہے۔
اس وقت پاکستان، ہندوستان کے ساتھ، اس کی طرف سے کی جانے والی کسی بھی جارحیت کا جواب دینے اور نمٹنے کے لئے پوری طرح تیار ہو چکا ہے۔ ہماری فضائیہ مکمل طور پر الرٹ پوزیشن میں آ چکی ہے، موٹرویز پر پہلے سے تعمیر کردہ رن ویز کھل چکے ہیں جہاں طیارے اڑانے اور اتارنے کی عملی مشقیں کی جا چکی ہیں۔ کئی ہوائی اڈے کمرشل پروازوں کے لئے بند کئے جا چکے ہیں اور وہاں ہمارے جنگی طیارے ہینگروں سے نکال کر رن ویز تک پہنچائے جا چکے ہیں۔ ہماری افواج چھائونیوں سے نکل کر مطلوبہ محاذوں کی طرف روانہ ہو چکی ہیں۔ ہماری بحری افواج کھلے سمندر تک جا پہنچی ہیں۔ ہماری دفاعی تیاری مکمل ہو چکی ہے جبکہ ہم نے حملہ کہاں کرنا ہے اور کیسے کرنا ہے یہ بھی طے پا چکا ہے۔ ہمارے میزائل ایستادہ کر دیئے گئے ہیں، کسی بھی ہوائی حملے کی صورت میں جوابی کارروائی کرنے کے لئے معاملات تیار کئے جا چکے ہیں۔ دشمن کو اندازہ ہو چکا ہے کہ اس کے سب اندازے غلط ثابت ہونے جا رہے ہیں۔ سفارتی محاذ پر بھی پاکستان مستعدی دکھا رہا ہے۔ چین نے کسی بھی ہنگامی صورت میں پاکستان کا ساتھ دینے کا اعلان کر دیا ہے، ہندوستان اقوام متحدہ میں اپنی مرضی کی قرارداد پاس کرانے میں ناکام ہو چکا ہے۔ امریکہ نے بھی بھارتی موقف ماننے سے انکار کر دیا ہے۔ اس نے دہشت گردی کے واقع پر بھارت سے ہمدردی اور یکجہتی کا اظہار تو کیا ہے لیکن کسی ثبوت کی عدم موجودگی کے باعث اس واقعہ کے لئے پاکستان کو ذمہ دار قرار دینے سے احتراز کیا ہے۔ پاکستان نے ہندوستان کو تحقیقات کرنے اور اس میں شمولیت اور تعاون کرنے کی پیشکش کرکے ہندوستانی موقف کی کمزوری عیاں کر دی ہے۔
پاکستان عسکری و سفارتی طور پر موثر پوزیشن میں نظر آ رہا ہے۔ اندرون ملک قومی یکجہتی کا مظاہرہ بھی قابل ستائش ہے۔ ہاں ایسے حالات میں حکومت کو چاہئے کہ وہ کوئی ایسا بیانیہ تشکیل دے جس سے قومی یکجہتی کی سوچ عملی طور پر نظر آنے لگے حکومت سیاسی پوائنٹ سکورنگ کے لئے نہیں بلکہ عوامی جذبات، جنگی جذبات، پاک فوج کے لئے محبت کے جذبات کو عملی شکل دینے کے لئے کوئی فوری سکیم تیار کرے جس سے جذبات عملی صورت میں نظر آنے لگیں۔ بات بیان بازی سے آگے بڑھے اور قومی یکجہتی عملاً نظر آنے لگے۔
فوری طور پر حکومت اعلان کرے کہ تمام شہری اپنی ایک دن کی یافت، کمائی، تنخواہ یا مزدوری دفاعی فنڈ میں دے۔ اس طرح قومی یکجہتی کے خیالات کو عملی شکل دی جا سکتی ہے۔ پوری قوم، مرد، عورتیں، بوڑھے، جوان اور بچے سب اپنا ایک دن اپنی فوج پر قربان کریں، نچھاور کریں۔ اس سے ملک دشمن، پاک فوج دشمن جذبات و پروپیگنڈے کی نفی ہوگی۔ قومی یکجہتی کی عملی صورت نظر آنے لگے گی۔ دشمن پر ہمارا رعب طاری ہوگا۔ ہم جنگ جیت چکے ہیں۔ اب بس اعلان ہونا باقی ہے۔ ان شاء اللہ۔