Wed, September 16, 2026

پشاور ہائیکورٹ کا پی ٹی اے کو غیر اخلاقی مواد ہٹانے کا حکم، سوشل میڈیا ریگولیشن کی ضرورت پر زور

پشاور ہائیکورٹ کا پی ٹی اے کو غیر اخلاقی مواد ہٹانے کا حکم، سوشل میڈیا ریگولیشن کی ضرورت پر زور

پشاور: پشاور ہائیکورٹ نے پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی (پی ٹی اے) کو ٹک ٹاک سے غیر اخلاقی مواد فوری طور پر ہٹانے کی ہدایت دیتے ہوئے سوشل میڈیا کی نگرانی کے لیے ایک موثر اتھارٹی کے قیام کی ضرورت پر زور دیا ہے۔

یہ حکم شہری ثاقب الرحمان کی درخواست پر سنایا گیا جس میں ٹک ٹاک کے لائیو سیشنز میں بڑھتے ہوئے غیر اخلاقی مواد اور پشتو زبان میں نازیبا حرکات کی شکایت کی گئی تھی۔ درخواست گزار کا مؤقف تھا کہ ٹک ٹاک کے لائیو فیچرز کو فحاشی اور بدعنوانی کے پھیلاؤ کے لیے منظم طریقے سے استعمال کیا جا رہا ہے، اور ویورشپ بڑھانے کے لیے جان بوجھ کر نازیبا اشارے، بے ہودہ زبان اور خواتین کے خلاف توہین آمیز رویے کو فروغ دیا جا رہا ہے۔

پی ٹی اے کے وکیل نے عدالت کو بتایا کہ پی ٹی اے غیر قانونی اور غیر اخلاقی مواد کو بلاک کرنے کے لیے اقدامات کر رہی ہے اور ٹک ٹاک نے اسلام آباد میں دفتر قائم کر لیا ہے جہاں اس قسم کے مواد کی روک تھام کی جاتی ہے۔

عدالت نے اس سلسلے میں پی ٹی اے کو ٹک ٹاک سے فوری طور پر غیر اخلاقی مواد ہٹانے کا حکم دیا اور کہا کہ پییکا ایکٹ کے تحت کام کرنے والے اداروں کو بھی مزید متحرک کرنے کی ضرورت ہے تاکہ اس طرح کے مواد کی روک تھام کی جا سکے۔ عدالت نے درخواست نمٹا دی۔
 
 

ٹیگز: