Wed, September 16, 2026

انسانی سمگلنگ کے خلاف اقوام متحدہ میں قرارداد منظور

انسانی سمگلنگ کے خلاف اقوام متحدہ میں قرارداد منظور

نیو یارک: اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی نے انسانی سمگلنگ کی روک تھام کے لیے ایک تاریخی قرارداد منظور کر لی ہے۔ اس قرارداد میں انسانی سمگلنگ کو نہ صرف ایک سنگین جرم قرار دیا گیا ہے بلکہ اسے انسانیت کے خلاف بھی ایک حملہ سمجھا گیا ہے۔ قرارداد کا عنوان "2025 پولیٹیکل ڈیکلریشن برائے نفاذ گلوبل پلان آف ایکشن ٹو کمبیٹ ٹریفیکنگ ان پرسنز" رکھا گیا ہے، جس میں اس بات پر زور دیا گیا ہے کہ اس مسئلے کا حل عالمی سطح پر مشترکہ کوششوں سے ہی ممکن ہے۔

قرارداد میں خاص طور پر خواتین اور بچوں کے حوالے سے انسانی سمگلنگ کی روک تھام پر زور دیا گیا ہے اور اس کے بنیادی اسباب جیسے معاشی ناہمواری، تنازعات اور ماحولیاتی مسائل پر کام کرنے کی ضرورت پر بھی بات کی گئی ہے۔

پاکستان کے نائب مستقل مندوب عثمان جدون نے اپنے خطاب میں کہا کہ انسانی سمگلنگ نہ صرف ایک عالمی مسئلہ ہے بلکہ یہ دنیا بھر کے معاشروں اور افراد کو شدید متاثر کر رہا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ پاکستان کے لیے یہ مسئلہ خاص طور پر اہمیت رکھتا ہے کیونکہ یہ نہ صرف انسانی نقل و حرکت کا گزرگاہ ہے بلکہ افراد کی روانگی اور میزبان ملک کی حیثیت بھی رکھتا ہے۔

عثمان جدون نے کہا کہ پاکستان اس مسئلے کے بنیادی اسباب کے خلاف اقدامات کی حمایت کرتا ہے، جیسے کہ معاشی عدم مساوات کو کم کرنا اور قانونی ہجرت کے محفوظ راستوں کو فروغ دینا۔ انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ پاکستان اس مسئلے کے حل کے لیے عالمی تعاون کا بھرپور حامی ہے۔

ٹیگز: