Wed, September 16, 2026

پاکستان کی قرارداد اقوام متحدہ کی کمیٹی میں منظور، حقِ خود ارادیت کی اہمیت پر زور

پاکستان کی قرارداد اقوام متحدہ کی کمیٹی میں منظور، حقِ خود ارادیت کی اہمیت پر زور

نیویارک : اقوام متحدہ کی تیسری کمیٹی نے پاکستان کی پیش کردہ قرارداد کو اتفاقِ رائے سے منظور کر لیا ہے، جس میں ان اقوام اور عوام کے حقِ خود ارادیت کی اہمیت کو دوبارہ اجاگر کیا گیا ہے جو ابھی تک غیر ملکی تسلط یا نوآبادیاتی قبضے کے تحت ہیں۔

یہ قرارداد پاکستان کے مستقل مندوب برائے اقوام متحدہ، سفیر عاصم افتخار احمد کی جانب سے پیش کی گئی، جسے 65 ممالک کی حمایت حاصل تھی۔ اس قرارداد کا مقصد عالمی سطح پر ان عوام کی آواز بلند کرنا ہے جو اب بھی اپنے ناقابل تنسیخ حقِ خود ارادیت کے لیے جدوجہد کر رہے ہیں، خاص طور پر فلسطین اور کشمیر کے عوام۔

پاکستان نے اقوام متحدہ پر زور دیا کہ وہ اپنے مقاصد اور اصولوں کے مرکز میں اس حق کو رکھے، جو اقوامِ متحدہ کے چارٹر کا ایک بنیادی حصہ ہے۔ پاکستان کا کہنا تھا کہ یہ قرارداد اس بات کا غماز ہے کہ دنیا ان عوام کی مشکلات پر توجہ دے رہی ہے جو غیر قانونی قبضوں اور فوجی مداخلت کا شکار ہیں۔

قرارداد میں کہا گیا کہ جنرل اسمبلی غیر ملکی فوجی مداخلت اور قبضے کی کارروائیوں کی سخت مخالفت کرے گی، جو ان اقوام کے حقِ خود ارادیت کو دبا کر ان کے حقوق پامال کرتی ہیں۔ اس کے علاوہ، ان اقدامات کے ذمہ دار ممالک سے فوری طور پر ان کو روکنے کا مطالبہ بھی کیا جائے گا۔

پاکستانی مندوب عاصم افتخار احمد نے اس موقع پر کہا کہ دنیا میں اب بھی بہت سے علاقے ہیں جہاں لوگ غیر قانونی قبضے یا تسلط کے تحت زندگی گزار رہے ہیں اور انہیں اپنے بنیادی حقوق سے محروم رکھا جا رہا ہے۔ ان کی جائز امنگوں کا جواب اکثر طاقت کے بے جا استعمال، جبری گمشدگیوں، من مانے حراستوں اور غیر قانونی بستیاں بنانے جیسے ظالمانہ اقدامات سے دیا جاتا ہے۔

سفیر عاصم افتخار نے مزید کہا کہ حقِ خود ارادیت اقوام متحدہ کے چارٹر اور مختلف بین الاقوامی معاہدوں میں تسلیم شدہ ایک بنیادی اصول ہے، جو انفرادی آزادی اور خود مختاری کی ضمانت دیتا ہے۔

یہ قرارداد اب آئندہ ماہ جنرل اسمبلی میں پیش کی جائے گی، جہاں اس کی توثیق متوقع ہے۔ اس قرارداد کا مقصد عالمی سطح پر ان عوام کے حقِ خود ارادیت کو مزید مستحکم کرنا ہے جو غیر قانونی قبضے اور جبر کا شکار ہیں۔

ٹیگز: