نیویارک میں ششی تھرور کی حالیہ پریس کانفرنس کے بعد یہ لازمی ہو گیا ہے کہ ان کے پیش کردہ حقائق کو مسخ کرنے، آدھے سچ بولنے اور دانستہ جھوٹ پھیلانے کے عمل کا منہ توڑ جواب دیا جائے۔ ششی تھرور، جو کبھی اپنی ذہانت اور برطانوی راج کے خلاف دلیرانہ موقف کی بنا پر عزت کی نگاہ سے دیکھے جاتے تھے، افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ انہوں نے اپنی ساکھ اس وقت کھو دی جب انہوں نے مودی حکومت کے فاشسٹ بیانیے کا دفاع کرنا شروع کر دیا۔
ان کے حالیہ بیانات صرف گمراہ کن نہیں بلکہ خطرناک بھی ہیں، جو کہ تاریخی تناظر، جیوپولیٹیکل حقیقتوں اور سب سے اہم، سچائی کو یکسر نظرانداز کرتے ہیں۔ ان کے بنیادی دعووں کا ایک ایک کر کے جواب دینا ضروری ہے تاکہ دنیا کو اصل حقیقت معلوم ہو سکے۔
ششی تھرور نے پاکستان پر دہشت گردی کی حمایت کا الزام لگایا، جو کہ ایک پرانا بھارتی بیانیہ ہے جسے کئی بار بغیر کسی ثبوت کے دہرایا جاتا رہا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ پاکستان نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں سب سے زیادہ قربانیاں دی ہیں۔ 90,000 سے زائد عام شہری اور 12,000 سے زیادہ سکیورٹی اہلکار اس جنگ میں شہید ہو چکے ہیں۔
چین سمیت کئی بین الاقوامی فورمز پر بھارت نے جن افراد اور تنظیموں کو دہشت گرد قرار دینے کی کوشش کی، ان کے خلاف ٹھوس شواہد نہ ہونے کی وجہ سے کوئی کارروائی نہیں ہو سکی۔ ششی تھرور نے چین کے مؤقف کو یکسر نظر انداز کر دیا جو ہمیشہ ثبوت کا مطالبہ کرتا ہے۔
پہلگام میں ہوئے حملے کو ششی تھرور نے صرف ہندو مذہب سے وابستہ افراد کے خلاف قرار دیا، جو کہ سراسر جھوٹ ہے۔ اس حملے میں دو مسلمان بھی جان بحق ہوئے، جو اس بات کا ثبوت ہے کہ حملے کا مذہب سے کوئی تعلق نہ تھا۔
پہلگام ایک ایسا علاقہ ہے جو ہندو اشرافیہ کے لیے مخصوص ہے، جہاں کشمیری مسلمانوں کو داخلے کی اجازت بھی مشکل سے ملتی ہے۔ اس واقعے کو فرقہ وارانہ رنگ دینا صرف انتشار پھیلانے کی ایک کوشش ہے۔
بعد ازاں، بھارتی افواج نے علاقے میں بڑے پیمانے پر کریک ڈاؤن شروع کر دیا، سیکڑوں کشمیری نوجوانوں کو بغیر کسی مقدمے کے گرفتار کیا گیا، جو کہ انسانی حقوق کی کھلم کھلا خلاف ورزی ہے۔
تھرور نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ ایک دہشت گرد تنظیم نے سوشل میڈیا پر اس حملے کی ذمہ داری قبول کی، خاص طور پر ٹوئٹر پر۔ لیکن کوئی بھی قابلِ تصدیق بیان یا ثبوت آج تک پیش نہیں کیا گیا، یہ ایک اور بے بنیاد دعویٰ ہے۔
ششی تھرور کا یہ کہنا کہ بھارتی فضائیہ نے صرف دہشت گرد ٹھکانوں کو نشانہ بنایا، کھلا جھوٹ ہے۔ درحقیقت، اس رات سکول، لائبریری، میڈیکل کلینک، گھروں اور دو مساجد کو نشانہ بنایا گیا۔ ان حملوں میں کئی خواتین، بزرگ اور بچے جاں بحق ہوئے، جن میں 12 بچے بھی شامل تھے۔ یہ حملہ بین الاقوامی قوانین کی کھلی خلاف ورزی اور مکمل جنگی اقدام تھا۔
پاکستان نے بھارتی جارحیت کا جواب دفاعی مگر فیصلہ کن انداز میں دیا۔ اسی رات پاکستان نے 40 سے زائد لڑاکا طیاروں کے ذریعے بھارتی حملے کا مؤثر جواب دیا، جس میں:3 رافیل جیٹ،2 میگ-29،1 میراج طیارہ،80 سے زائد ڈرون تباہ کیے گئے۔ یہ اطلاعات کئی غیر ملکی ذرائع سے بھی رپورٹ ہوئیں، جنہیں بھارتی میڈیا نے نظرانداز کیا اور تھرور نے ان کا کوئی ذکر تک نہ کیا۔
ششی تھرور نے یہ بھی جھوٹ بولا کہ پاکستان نے سیزفائر کی درخواست کی، جبکہ حقیقت میں یہ بھارت تھا جس نے امریکا سے ثالثی کی درخواست کی۔ پاکستان کے جوابی حملے میں بھارت کے 26 اہم فوجی اور فضائی اہداف کو نشانہ بنایا گیا، جن میںاودھم پور بیس ،دہلی ایئر بیس،ایس-400 دفاعی نظام،سائبر کمیونیکیشنز حبزکے علاوہ دیگر تنصیبات شامل تھیں۔ پاکستان نے بھارت کے بجلی کے گرڈ سسٹم، 300 سے زائد ویب سائٹس، ہزاروں سی سی ٹی وی کیمرے اور کئی براڈکاسٹ چینلز کو ہیک کر کے بھارت کے سائبر ڈیفنس کو مکمل مفلوج کر دیا۔
ان تمام ذلت آمیز ناکامیوں کے بعد بھارت کے وزیر اعظم، وزیر خارجہ اور وزیر دفاع نے امریکا کے نائب صدر جے ڈی وینس اور سابق صدر ٹرمپ سے رابطہ کیا اور پاکستان سے سیز فائر کی اپیل کی۔
پاکستان ہمیشہ سے امن کا حامی رہا ہے، لیکن اپنی خودمختاری اور عزتِ نفس پر کبھی سمجھوتہ نہیں کرے گا۔ ششی تھرور کی پریس کانفرنس دراصل ایک مہم ہے، جس کا مقصد جھوٹے بیانیے کو فروغ دینا ہے۔اب پاکستان کے دفترِ خارجہ اور بین الاقوامی نمائندوں کی ذمہ داری ہے کہ وہ اس پروپیگنڈے کا جواب بھرپور، مدلل اور مؤثر انداز میں دیں، تاکہ دنیا بھارت کے جھوٹ کو پہچان سکے۔پاکستان نے میدانِ جنگ میں برتری دکھا دی، اب سفارتی محاذ پر سچ کا علم بلند کرنا باقی ہے۔