Wed, September 16, 2026

ن لیگی کارکنوں کے تحفظات

ن لیگی کارکنوں کے تحفظات

سیاسی کارکن اپنی قیادت کیلئے کس قدر جذباتی و حساس ہوتے ہیں یہ کوئی سربستہ راز نہیں ہے۔ اس کا تازہ ترین مشاہدہ ن لیگ سندھ کی صفوں میں ہوا۔ جب وہ مجھے وزیر اعظم شہباز شریف سے شاکی نظر آئے۔ لمحات موجود میں بھارت کی جارحیت اور پاکستان مخالف بے بنیاد پروپیگنڈہ کو عالمی سطح پر بے نقاب کرنے کیلئے منتخب پارلیمانی نمائندوں پر مشتمل وفد یورپ اور امریکہ بھیجنے کا فیصلہ کیا اور اس سفارتی مہم کی قیادت کی ذمہ داری پیپلزپارٹی کے بلاول زرداری کو سونپ کرسمجھا جا سکتا ہے کہ دنیا کو پاکستان میں مکمل قومی یکجہتی کا پیغام دیا ۔ ن لیگ سے جذباتی لگاؤ رکھنے والوں کو ان کا یہ فیصلہ ہضم نہیں ہو رہا۔ بالخصوص بلاول نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر اس حوالے سے جو ردعمل دیا ہے اسے خود ستائی سے تعبیر اور ن لیگ کو نیچا دکھانے کی شعوری کوشش قرار دیا ہے۔ بلاول نے کہا ، وزیر اعظم کی جانب سے مجھ سے رابطہ کیا گیا جس میں انہوں نے مجھ سے درخواست کی کہ میں ایک وفد کی قیادت کرتے ہوئے عالمی سطح پر پاکستان کی نمائندگی کروں۔ مجھے عالمی سطح پر پاکستان کی نمائندگی کی ذمہ داری قبول کرنے پر فخر ہے۔ لیگی کارکنوں کے نزدیک بلاول کے یہ جملے مجھ سے رابطہ کیا گیا،مجھ سے درخواست کی گئی، جہاں خود ستائی کا مظہر ہیں وہاں بالواسطہ طورپر یہ تاثر دینے کی کوشش کی گئی ہے کہ وزیر اعظم شہباز شریف کے پاس اپنی پارٹی میں وزیر خارجہ اسحاق ڈار سمیت کوئی اس کا اہل نہیں ، جو عالمی سطح پر پاکستان کی نمائندگی کر سکے تب ہی انہیں مخالف پارٹی کے سربراہ سے باقاعدہ درخواست کرنا پڑی ہے۔ ن لیگ سندھ کے ایک رہنما نے (جن کی شناخت ان کیلئے بہتر نہیں سمجھتا) شدت جذبات میں کہا کہ شہباز شریف کا یہ فیصلہ ن لیگ کو نیچا کرنے کے مترادف ہے اس حوالے سے ان کا استدلال بہر حال توجہ طلب ہے جو یوں ہے کہ موجودہ صورتحال یہ ہے کہ بھارت کے خلاف کامیاب جنگ ن لیگی حکومت کی سربراہی میں لڑی گئی۔ مسلح افواج کی جرأت، بہادر ی زبردست پیشہ ورانہ تربیت، مہارت اور اہلیت اور فضل خداوندی سے اپنے سے دس گنا بڑے دشمن کو عبرت ناک شکست دی گئی ساری دنیا جس کی معترف ہے۔ پاکستان کی نمائندگی کے لئے جو وفد جس ملک میں جائے گا۔ وفد کے قائد کے طور پر بلاول کو ایک عظیم فاتح ملک کے نمائندہ کی حیثیت سے زبردست پذیرائی ملے گی جس سے اس کی شخصی پوزیشن آسمان پر جائے گی۔ اس سے پیپلز پارٹی کو اندرون ملک زبردست سیاسی فائدہ حاصل ہوگا۔ وفد کے قائد کی حیثیت سے امریکہ اور یورپ کے حکومتی عہدیداروں سے براہ راست ملاقاتوں سے عالمی سطح پر بلاول کی شناخت اجاگر ہو گی۔ انہوں نے بڑے تاسف کا اظہار کیا کہ شہباز شریف نے ن لیگ کے کریڈٹ کی مالا بلاول کے گلے میں ڈال دیا ہے ان کے بقول ٹی وی شوز میں پیپلزپارٹی کے رہنماؤں کو صورتحال سے سیاسی فائدہ کشید کرنے کا ہنر خوب آتا ہے وہ سفارتی لحا ظ سے بلاول کی شخصیت سازی میں زمین و آسمان ایک کر دیں گے پھر انہوں نے عجیب سی مسکراہٹ کے ساتھ کہا آپ دیکھ لینا ن لیگ کے جو رہنما ٹی وی شوز میں آئیں گے۔ بڑے خلوص کے ساتھ بلاول کے گن گائیں گے۔ان کی اس بات میں وزن ہے ابھی وفد سفارتی مہم پر روانہ نہیں ہوا پیپلز پارٹی کی شیری رحمن نے پیشگی دعویٰ کر دیا ، بھارت بلاول کی مؤثر سفارت کاری سے گھبرایا ہوا ہے ان کی قیادت پر ایمبیسیڈرز (دوسرے ممالک میں پاکستانی سفیر) اور عوام بھی مطمئن ہیں۔
ن لیگ سے جذباتی لگاؤ رکھنے والے ایک اور صاحب نے بڑی چونکا دینے والی بات کر دی کہ شہباز شریف نے پہلے وزیر خارجہ بنا کر اور اب بلاول کو عالمی سطح پر پاکستان کی نمائندگی کا جو اعزاز دیا ہے اس سے عالمی سطح پر تو کیا قومی سطح پر بھی مریم نواز کی شخصیت سازی متاثر ہو سکتی ہے، وہ کیسے ؟یہ جاننا میرے لیے دلچسپی کا باعث تھا، جواب ملا، مریم نواز نے ایک سال میں ہر شعبے کی یقینی ترقی کے لئے جو عملی اقدامات کئے ہیں۔ وہ پنجاب کی تاریخ کے سنہری باب ہیں اس کے باوجود جب طوفانی پروپیگنڈہ کے زور پر بلاول کا زبردست مدبر اور سفارتی امور کے اعلیٰ ترین ماہر ہونے کا بت تراشا جائے گا اور اندرون و بیرون ملک یہ باور کرایا جائے گا کہ ن لیگ کی حکومت میں ایسا کوئی شخص نہیں تھا چنانچہ پاکستان کا مقدمہ عالمی سطح پر اجاگر کرنے کیلئے ن لیگ کی قیادت کو بلاول کا مرہون منت ہونا پڑا ہے اور وزیر اعظم کو باقاعدہ درخواست کرنا پڑی ہے۔ کیا اس تاثر کی موجودگی میں مریم نواز کسی طور بلاول کے ہم پلہ رہ سکے گی۔ کیا اس کی سیاسی پوزیشن عالمی، قومی سطح کی بجائے محض پنجاب تک محدود ہو کر نہیں رہ جائے گی۔ الحمدللہ ریاست کے لئے بہت کچھ ہوچکا ہے اب شہباز شریف کو سیاست کی جانب بھی پلٹ آنا چاہیے۔ 
ان سے عرض کی دل برداشتہ نہ ہوں۔ شہباز شریف نے یہ فیصلہ کسی مصلحت کے تحت ہی کیا ہوگا۔ میرا خیال ہے اس پررنج و غم کی بجائے توڑ کیا جا سکتا ہے مثلاً اگر حکومت مشرق وسطیٰ میں ن لیگ، وسطیٰ ایشیا میں جے یو آئی ، مشرق بعید میں اے این پی، افریقہ میں ایم کیو ایم اور آسٹریلیا ، نیوزی لینڈ وغیر میں ق لیگ کی قیادت میں وفود بھیج دے تو بلاول کی خصوصی حیثیت اور اہمیت کاتاثر از خود ختم ہوجائے گا۔ یا پنجاب میں مریم کی کارکردگی کو ملک بھر میں طوفانی انداز سے اجاگر کرنے کی مہم چلا دی جائے۔ اس پر ایک رہنما نے بات آگے بڑھائی ا س سے مجھے یہ بات سمجھ آئی ہے ن لیگ حکومت نے ملک کو دوبارہ پٹڑی پر چلا دیا ہے ن لیگ حکومت کی سربراہی میں بھارت جیسے دشمن کو عبرت ناک شکست سے ہمکنار کیا گیا ہے۔ اس سے اندرون ملک اور بیرون ملک حکومت کا جو امیج بنا ہے اس کے ساتھ پنجاب میں مریم کی کارکردگی کو شامل کر کے زوردار انتخابی مہم چلا کر درمیانی مدت کے الیکشن کرادیئے جائیں تو وفاق ، چاروں صوبوں، آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان میں ن لیگ کی مضبوط حکومتیں قائم ہوسکتی ہیں۔ یہ ن لیگ سے گہری وابستگی اور شدیدجذباتی لگاؤ رکھنے والوں کے قیادت اور پارٹی کیلئے جذبات ، خدشات اور تحفظات ہیں۔ قیادت کو انہیں ضرور خاطر میں لانا چاہیے۔ 
اصل بات یہ ہے کہ پیپلز پارٹی کے کارکن بلاول کو وزیر اعظم دیکھنا چاہتے ہیں اور وہ سمجھتے ہیں اس میں رکاوٹ مریم نواز ہو سکتی ہے۔ اس لئے مریم نواز کی سیاسی پیش رفت انہیں گراں گزرتی ہے۔ اسی طرح بلاول کی شخصی پوزیشن میں اضافہ کی کوئی صورت ن لیگ کے کارکنوں کو گوارہ نہیں ہے۔ ن لیگ کی قیادت خدمت سے بھرپور کارکردگی کے ذریعہ اور پیپلز پارٹی کی قیادت پروپیگنڈہ کے زور سے یہ مقصد حاصل کرنا چاہتی ہے کس کی حکمت عملی کامیاب ہوگی یہ آنے والا وقت بتائے گا۔

ٹیگز: