انسان کو اشرف المخلوقات قرار دینے کی ایک بڑی اور بنیادی وجہ اس کے اندر موجود احساس، دردمندی اور ہمدردی ہے۔ یہی وہ منفرد وصف ہے جو اسے مٹی کے دیگر پتلوں سے ممتاز کرتا ہے اور دوسرے انسانوں کے دکھ درد میں شریک ہونے پر آمادہ کرتا ہے مگر افسوس کہ اکیسویں صدی کے اس مادی اور جدید دور میں جہاں انسانی سہولیات، ٹیکنالوجی اور آسائشوں میں بے پناہ اضافہ ہوا ہے، وہیں انسانی احساسات اور اخلاقی اقدار میں کمی بھی اتنی ہی واضح اور خوفناک حد تک نمایاں ہوتی جا رہی ہے۔ آج کا انسان بظاہر تو بہت ترقی یافتہ، پڑھا لکھا اور بااختیار نظر آتا ہے لیکن باطن میں وہ ایک ایسے خلا کا شکار ہے جہاں دوسروں کے لیے دھڑکنے والا دل رفتہ رفتہ پتھر کا ہوتا جا رہا ہے۔ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ ہم دوسروں کے دکھ، تکلیف اور کرب سے آہستہ آہستہ نہ صرف بے خبر ہوتے جا رہے ہیں بلکہ ہم نے دانستہ طور پر اپنے گرد بے حسی کی ایک عافیت پسند دیوار کھڑی کر لی ہے۔کبھی ایک وقت تھا جب مشرقی معاشروں، خصوصاً ہمارے اپنے سماج میں اجتماعیت زندگی کا حسن ہوا کرتی تھی۔ کسی محلے میں کوئی ایک شخص بیمار ہوتا تو پورا محلہ اس کی خیریت دریافت کرنے کے لیے امڈ آتا تھا۔ کسی ایک گھر میں مشکل یا پریشانی آتی تو آس پاس کے لوگ مروّت اور اخوت کے تحت خود کو اس مشکل کا حصہ سمجھتے تھے اور جب تک اس کا مداوا نہ ہو جاتا پورے محلے میں ایک سسکتی ہوئی ہمدردی کی لہر موجود رہتی تھی۔ دکھ سانجھے تھے اور خوشیاں مشترک تھیں۔ آج صورت حال اس کے بالکل برعکس اور دل دہلا دینے والی ہے۔ ہم ایک دوسرے کے اتنے قریب رہتے ہوئے بھی، جغرافیائی طور پر ایک دوسرے کے ساتھ جڑے ہونے کے باوجود، نفسیاتی اور جذباتی طور پر کوسوں دور ہو چکے ہیں۔ جدید طرزِ زندگی کے شاہکار اپارٹمنٹس، پوش کالونیوں اور گنجان آبادیوں میں رہنے والے لوگ بعض اوقات سالہا سال گزرنے کے بعد بھی اپنے برابر والے فلیٹ یا مکان میں رہنے والے ہمسایوں کے نام تک سے واقف نہیں ہوتے۔
اس المیے کو مزید گہرا کرنے میں ڈیجیٹل انقلاب اور سوشل میڈیا نے خوفناک کردار ادا کیا ہے۔ سوشل میڈیا نے دنیا کو بظاہر ایک "گلوبل ولیج" یا ایک گنجان گاو¿ں تو بنا دیا ہے، جہاں پل بھر میں دنیا کے کسی بھی کونے کی خبر ہم تک پہنچ جاتی ہے مگر اس کے ساتھ ہی اس نے ایک ایسی عجیب اور سفاک قسم کی بے حسی پیدا کر دی ہے جس کی مثال انسانی تاریخ میں نہیں ملتی۔ روزانہ سینکڑوں افسوسناک خبریں، دل دہلا دینے والے حادثات، جنگوں کی ہولناکیاں، بیماریوں کی سسکیاں اور بے بس انسانوں کی مشکلات کی داستانیں اسکرین پر ہماری نظروں سے گزرتی ہیں۔ ہماری ردِعمل کی انتہا کیا ہے؟ ہم چند لمحوں کےلئے افسوس کا اظہار کرتے ہیں، ایک اداس ایموجی (Emoji) پر کلک کرتے ہیں، کمنٹ لکھتے ہیں اور پھر بڑی بے نیازی سے اگلی کسی تفریحی یا تجارتی پوسٹ کی طرف بڑھ جاتے ہیں۔ دکھ اور تکلیف کی یہ خبریں ہماری روزمرہ زندگی کی ڈیجیٹل فیڈ کا اس قدر معمول بن چکی ہیں کہ ان کا وہ اثر، وہ صدمہ اور وہ کسک جو کبھی روح کو تڑپا دیا کرتی تھی، اب بالکل ختم ہو چکی ہے۔ ہم نے انسانی المیوں کو بھی ایک مواد یا کنٹینٹ (Content) کے طور پر دیکھنا شروع کر دیا ہے، جس کی عمر صرف ایک اسکرول جتنی ہوتی ہے۔
اس سنگین اخلاقی انحطاط کے پیچھے معاشی نظام اور اس کی پیدا کردہ مجبوریاں بھی کارفرما ہیں۔ معاشی مشکلات، منہگائی کے طوفان اور سرمایہ دارانہ نظام کی اندھی دوڑ نے انسان کو مکمل طور پر اپنی ذات تک محدود کر دیا ہے۔ بقا کی جنگ اس قدر کٹھن ہو چکی ہے کہ لوگ صبح سے شام تک اپنی اور اپنے بچوں کی بنیادی ضروریات پوری کرنے کی دوڑ میں اس قدر ہلکان اور مصروف ہیں کہ دوسروں کی پریشانیاں ان کی توجہ حاصل ہی نہیں کر پاتیں۔ ہر شخص ایک نہ ختم ہونے والی میراتھن کا حصہ ہے جہاں رکنے کا مطلب پیچھے رہ جانا ہے۔ اگرچہ یہ معاشی مصروفیت اور اپنی بقا کی فکر کسی حد تک فطری اور ناگزیر ہے لیکن المیہ تب جنم لیتا ہے جب یہ فکر ایک جنون بن جائے اور انسان صرف اور صرف اپنی ذات، اپنے بینک بیلنس اور اپنے مفاد کے خول میں مقید ہو جائے۔
اس بڑھتی ہوئی سماجی اور جذباتی سردمہری کا سب سے زیادہ دردناک اور ہولناک شکار ہمارے معاشرے کے کمزور طبقات ہو رہے ہیں۔ بیمار، معذور، بزرگ اور لاچار افراد اس تنہائی اور بے حسی کی چکی میں پس رہے ہیں۔ اکثر اوقات ہم یہ سمجھ بیٹھتے ہیں کہ کسی بزرگ یا بیمار کی خدمت صرف اسے وقت پر دوا دے دینے یا اس کی جسمانی و مالی ضرورت پوری کر دینے سے مکمل ہو جاتی ہے حالانکہ حقیقت اس کے بالکل برعکس ہے۔ ان مظلوم اور الگ تھلگ رہ جانے والے انسانوں کی جسمانی ضرورتوں سے کہیں زیادہ اہم ان کی جذباتی اور نفسیاتی ضرورتیں ہوتی ہیں۔ ان کے لیے ایک مخلصانہ ملاقات، ایک مختصر سی فون کال، چند تسلی بخش اور محبت بھرے الفاظ یا ان کے پاس بیٹھ کر ان کی پرانی یادوں کو چند لمحوں کے لیے توجہ سے سن لینا، ان کی زندگی کی سب سے بڑی مادی نعمت سے زیادہ معنی رکھتا ہے۔ لیکن ہماری تیز رفتار زندگی میں اب کسی کے پاس ان "فضول" کاموں کے لیے وقت نہیں رہا۔ ہم اکثر ان چھوٹی چھوٹی چیزوں کی اہمیت کو نظر انداز کر دیتے ہیں یہ بھول کر کہ ایک دن ہم نے بھی اسی بڑھاپے اور کمزوری کی دہلیز پر کھڑے ہونا ہے۔
آج وقت کا سب سے بڑا تقاضا اور ہماری بقا کی شرط یہ ہے کہ ہم اس بے حسی کی دھند کو چھانٹیں اور اپنے اردگرد موجود جیتے جاگتے انسانوں پر توجہ دینا دوبارہ سیکھیں۔ ہمیں اپنی اسکرینوں کے سحر سے باہر نکل کر حقیقی دنیا کے چہروں کو پڑھنا ہو گا۔ کسی بیمار کی عیادت کے لیے چند منٹ نکالنا، کسی ضرورت مند کی سفید پوشی کا بھرم رکھتے ہوئے اس کی خاموش مدد کرنا، کسی شدید پریشان اور اداس شخص کی بات کو بغیر کسی فیصلے یا ججمنٹ کے صرف سن لینا، یا کسی صدمے سے چور انسان کے کندھے پر ہاتھ رکھ کر اسے حوصلہ دینا بظاہر بہت معمولی اور چھوٹے کام نظر آتے ہیں مگر کائنات کے وسیع تر نظام میں یہی وہ چھوٹے اعمال ہیں جو انسانیت کی اصل روح کو زندہ رکھتے ہیں۔ اگر ہم دوسروں کے دکھ کو محسوس کرنا، ان کے کرب کو بانٹنا اور ان کے انسوو¿ں کو پونچھنا سیکھ لیں، تو نہ صرف ہمارے اردگرد کے لوگوں کی تلخ اور کٹھن زندگیاں آسان اور خوبصورت ہو جائیں گی بلکہ اس عمل کے نتیجے میں ہماری اپنی وجودی تنہائی بھی ختم ہو گی اور ہماری اپنی زندگی بھی اندرونی اطمینان، برکت اور حقیقی معنی سے مالامال ہو جائے گی۔ انسانیت کا تقاضا یہی ہے کہ دل زندہ رہے کیونکہ جب تک دل میں دوسروں کے لیے تڑپ باقی ہے، تب تک ہی ہم انسان کہلانے کے حق دار ہیں۔