Wed, September 16, 2026

غزہ میں سنگین غذائی بحران اور ہماری بے حسی

غزہ میں سنگین غذائی بحران اور ہماری بے حسی

شادی کی تقریب میں انواع و اقسام کے کھانوں کی بہتات تھی ۔ اسرائیلی مشروبات وافر تعداد میں نظر آ رہی تھیں۔بے حس لوگ ان مشروبات سے لطف اندوز ہو کر فلسطینیوں کا خون اپنے حلق میں انڈیل رہے تھے۔کھانے کا مرحلہ ختم ہونے کے بعد بیشتر پلیٹوں میں بچا ہو ا کھانا نظر آیا۔شادی بیاہ کی ہر تقریب میں ایسا ہی ہوتا ہے ۔زیادہ کھانے کے لالچ میں لوگ اپنی اور بچوں کی پلیٹیں کھانوں سے بھر دیتے ہیں۔انسان کے چھوٹے سے معدے میں ایک محدود مقدار میں کھانا ہضم کرنے کی گنجائش ہوتی ہے ۔نتیجتاً پلیٹوں میں رکھا ہوا زائد کھانا یعنی رزق ضائع ہو جاتا ہے۔یہاں بھی ایسا ہی نظر آ رہا تھا۔رزق ضائع ہو رہا تھا۔ پاکستان میں غربت کی کمی نہیں لیکن اس وقت غزہ شدید ترین بھوک اور غذائی قلت میں سر فہرست اور قحط کے دہانے پر ہے۔لوگ ایک روٹی کے لئے ترس رہے ہیں۔غذائی قلت کے باعث نوزائیدہ بچوں کی اموات میں تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے۔ہمارے مسلمان بہن بھائی اور بچے بھوکے مر رہے ہیں۔کاش ہم گھروں میں ہونے والی دعوتوں اور تقریبات میں کھانوں کی تعداد محدود کر کے یہ رقم غزہ کے بے بس اور مظلوم مسلمانوںکے رزق کا سامان کرنے کے لیئے بھیج سکیں۔آئیے ایک سرسری جائزہ لیتے ہیں کہ غزہ کے ہمارے مسلمان بہن بھائی اور بچے اس وقت کس کرب سے گزر رہے ہیں۔  
اسرائیل کی فاشسٹ حکومت نے غزہ کی اہم سرحدی گزرگاہوں کو بدستور سیل اور غزہ کی پٹی کے گرد گھیرا تنگ کررکھا ہے۔2مارچ2025ء سے 23 لاکھ آبادی والے جنگ زدہ محصور اس علاقے میں کوئی امداد نہیں پہنچائی جاسکی ۔جس سے علاقے میں شدید غذائی بحران میں اضافہ ہوا ہے ۔غزہ کے فلسطینی مسلمان اس وقت اسرائیل کے شدید تشدد اور سنگین غذائی بحران سے گزر رہے ہیں۔ غذائی اشیابالخصوص آٹے کے بڑے بحران کے باعث غزہ میں تمام بیکریاں بند ہو چکی ہیں اور قحط پھیلنے کا خطرہ ہے۔ خوراک کی تقسیم کے مراکز کے سامنے طویل قطاریں اور کھانے کے لیے برتن ہاتھ میں لیے امدادی ٹرکوں کی جانب لوگ بے تابی کے ساتھ بڑھتے نظر آ رہے ہیں ۔غزہ میں خوراک کی شدید قلت اور ہمارے ہاں خوراک کا ضیاع ہمارے لیے لمحۂ فکریہ ہونا چاہئے ۔
 اقوام متحدہ کے ادارے یونیسف نے مایوس ہو کر بچوں کی خوراک کی کمی سے نمٹنے والے ادارے کی سرگرمیاں روک دی ہیں۔یونیسف نے بھی تصدیق کی ہے کہ اس کے پاس ہزاروں کی تعداد میں امدادی تھیلے پڑے ہوئے ہیں مگر انہیں غزہ میںمنتقل کرنے کی اجازت نہیں دی جارہی ہے ۔اسرائیل بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی کرتے ہوئے غزہ کو خوراک اور اوویات کی ترسیل مسلسل روکے ہوئے ہے۔غزہ کی پٹی پر خوراک،ادویات اور ایندھن سمیت تمام بنیادی اشیائے ضروریہ کی فراہمی پر مکمل پابندی عائد ہے۔ اسرائیلی فوج کی جانب سے غزہ کی پٹی تک پانی کی فراہمی روکنے سے فلسطینی علاقے کو پانی کی فراہمی میں 70 فیصد کمی ہوگئی ہے۔
اقوام متحدہ کے ورلڈ فوڈ پروگرام نے گزشتہ ماہ خبردار کیا تھا کہ غزہ میں اسرائیلی فوجی سرگرمیوں میں اضافے سے خوراک،دوائیں اور دیگر اشیائے ضرورت غزہ کے اندر نہیں جانے دی جا رہیں ۔امدادی اشیاء خورد و نوش گل سڑ رہی ہیں۔ غزہ کے لاکھوں لوگ بھوک ،بیماری اور تکلیف میں مبتلا ہیں۔ قابض اسرائیلی فوج نے امدادی سرگرمیوں کو مکمل طور پر مفلوج کر نے کے لیئے پانی کے کنوؤں، ڈی سیلینیشن پلانٹس اور خوراک کی تقسیم کے مراکز کو بھی نشانہ بنایا ہے۔اسرائیل کے وزیر دفاع نے اس ظلم کا دفاع کرتے ہوئے کہا ہے کہ اسرائیل کسی صورت غزہ میں امداد نہیں جانے دے گا۔
اسرائیلی فوج نے غزہ کے 30 فیصد حصے کو سکیورٹی بفر زون میں تبدیل کرکے 20 لاکھ سے زیادہ فلسطینیوں کو جنوب اور ساحلی علاقوں میں دھکیل دیا ہے۔اسرائیلی فوج نے دعویٰ کیا ہے کہ اب اس کا فلسطین کے 30 فیصد حصے پر کنٹرول ہے۔اسرائیلی وزیر دفاع نے ہٹ دھرمی کا مظاہرہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ غزہ میں جنگ کے خاتمے کے کسی تصفیے کے بعد بھی اسرائیلی فوجی اپنے بنائے گئے بفر زون میں رہیں گے۔ 
اسرائیل نے گزشتہ ماہ بھی غزہ کے لیے آنے والی امداد روک دی تھی۔غزہ کی وزارت صحت کے مطابق غزہ کی پٹی میں کم از کم 60 ہزار بچے غذائی قلت کے باعث صحت کی سنگین پیچیدگیوں کے خطرے سے دوچار ہیں۔شیر خواروں کے لیے دودھ کی فراہمی بھی چیلنج بن چکی ہے۔ وزارت صحت نے خبردار کیا ہے کہ بچوں کی پولیو کی ویکسینیشن پر مسلسل پابندی،مناسب خوراک اورپینے کے پانی کی کمی سے بچوں کی صحت کے مسائل میں اضافہ ہونے کا خدشہ ہے۔اسرائیل نے وحشیانہ بمباری کر کے غزہ کا بنیادی ڈھانچہ بالکل تباہ اور اہالیان غزہ کو اپنے چھت سے محروم کر دیا ہے۔وہ پناہ گزیں کیمپوں میں بھی محفوظ نہیں۔غزہ میں کوئی ایسی جگہ نہیں بچی جہاں لوگ خود کو اور اپنے بچوں کو محفوظ سمجھ سکیں۔ ہر طرف خطرہ‘خوف اور تباہی نظر آ رہی ہے۔ اسرائیلی بربریت اور قبضے نے غزہ کے بچوں سے ان کا گھر،بچپن چھین لیا ہے ۔انہیں کھیلنے سے روک دیا، ان کے سکول بیگ ان کے گھروںکے ملبے تلے دبے ہوئے ہیں۔ان کی میتوں سے اجتماعی قبریں بھر گئی ہیں۔اسرائیل خوفزدہ ہو کر فلسطینی بچوں کی نسل کشی کرنے کا گناہ کر رہا ہے کیونکہ وہ ا س حقیقت سے آگاہ ہے کہ غزہ کے باہمت بہادر مسلمان بچے حق‘ عدل اور مزاحمت کی سب سے توانا آواز بن کر اس کے سامنے کھڑے ہوں گے ۔یہ بچے غزہ کے مستقبل کی روشنی ہیں۔ان کی معصوم آنکھوں میں آزادی کے خواب اور ان کے غیر متزلزل ارادوں میں ظلم کا نظام بدل دینے کی طاقت ہے۔ 
 اسرائیل کے پشت پناہ امریکہ اور برطانیہ کے علاوہ عالمی برادری اس وقت غزہ پرصیہونی فوج کے بد ترین مظالم کے خلاف سراپا احتجاج ہے۔اسرائیلی عوام بھی اس ظلم پراسرائیلی وزیر اعظم کے خلاف ہو چکے ہیں۔ اسرائیل کے ایک اخبار ہارٹز نے  ''Enough with the starvation'' (فاقہ کشی بند کیجیے) کے عنوان پر اپنے تازہ ترین اداریہ میں شدید تنقید کرتے ہوئے لکھا ہے کہ ’ ’ غزہ میں فاقہ کشی کی اعلانیہ پالیسی معمول کا حکومتی رویہ بن چکی ہے جسے نہ صرف اسرائیلی حکومت بلکہ امریکی ٹرمپ انتظامیہ کی پشت پناہی بھی حاصل ہے۔ اسرائیلی حکومت کی جانب سے غزہ کے 20 لاکھ سے زائد افراد کو جان بوجھ کر بھوک کا شکار بنانا اب ایک معمولی حکمتِ عملی سمجھا جا رہا ہے۔ حالانکہ جنگ کے آغاز میں یہ دعویٰ کیا جاتا رہا کہ شہریوں کو نشانہ نہیں بنایا جا رہا۔آج فاقہ کشی نہ صرف ایک واضح اور دانستہ حکمتِ عملی ہے بلکہ اسے باعثِ فخر سمجھا جا رہا ہے۔یہ پالیسی دراصل حماس کی جنگی صلاحیتیوں اور غزہ کے عوام کو دی جانے والی انسانی امداد کے درمیان ایک جھوٹے اور گمراہ کن بیانیے پر مبنی ہے جس کا نتیجہ بڑھتا ہوا انسانی المیہ ہے‘‘۔اداریے میں خبردار کیا گیا کہ ’’غذائی قلت،بیماری اور بچوں کی اموات نہ کسی مغوی کو رہائی دلوائیں گی اور نہ ہی حماس کو کمزور کر سکیں گی ۔یہ ایک خالص انسانی جرم ہے جس کا جنگی اہداف سے کوئی تعلق نہیں۔ہارٹز نے اسرائیلی حکومت سے مطالبہ کیا کہ غزہ کی پٹی میں امداد کا بہاؤ فوری بحال کیا جائے اور بین الاقوامی برادری اسرائیل کو اس غیر انسانی پالیسی سے باز رکھنے کے لیئے ہر ممکن دباؤ ڈالے۔
غزہ کی آبادی جس کرب سے گزر رہی ہے اسے ایک کالم میں چند الفاظ میں سموناممکن نہیں۔اس وقت مارکیٹ میں متعدد اسرائیلی اشیاء فروخت کی جا رہی ہیں۔با شعور لوگ ان کا بائیکاٹ کر رہے ہیں بے حس لوگ اسرائیلی اشیاء خرید کرگویا اسرائیل سے یہ کہہ رہے ہیں کہ ’’ ہمارے پیسوں سے اسلحہ خرید کر فلسطینی مسلمانوں پر بارود برساؤ‘‘ ۔ہم غزہ جا کر اپنے مسلمان بہن بھائیوں کی مدد نہیں کر سکتے لیکن اتنا تو ضرور کر سکتے ہیں کہ اسرائیلی اشیا کا مکمل معاشی بائیکاٹ کر یں‘اپنے فلسطینی بہن بھائیوں اور بچوں کے لیئے صدق دل سے دعا کریں،اپنے اخراجات کو کم کر کے ان کی مالی مدد کرنے میں تاخیر نہ کریں اور حکومت پر دباؤ ڈالیں تاکہ وہ  اسرائیل کو جنگ بندی پر مجبور کر سکے۔

ٹیگز: