Wed, September 16, 2026

جنگ بندی کی دم توڑتی امید

جنگ بندی کی دم توڑتی امید

مشرقِ وسطیٰ میں تیزی سے بگڑتی ہوئی صورتحال ایک بار پھر عالمی امن کے لیے سنگین خطرہ بن چکی ہے۔ امریکہ، ایران اور اسرائیل کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی نے نہ صرف خطے بلکہ پوری دنیا کو غیر یقینی کی کیفیت میں مبتلا کر دیا ہے۔ ایسے حالات میں پاکستان کی ممکنہ ثالثی اور ماضی کے سفارتی تجربات، خصوصاً اسلام آباد اکارڈ، ایک اہم حوالہ بن کر سامنے آتے ہیں لیکن موجودہ حالات اس قدر پیچیدہ ہیں کہ سیز فائر کے امکانات انتہائی محدود دکھائی دیتے ہیں۔ حالیہ دنوں میں کشیدگی میں خطرناک اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔ 6 اور 7 اپریل کو اسرائیل کی جانب سے ایران کے اندر اور اس کے اتحادی نیٹ ورکس پر کیے گئے مبینہ حملوں نے صورتحال کو مزید بھڑکا دیا۔ ان حملوں میں ایران کے عسکری انفراسٹرکچر، میزائل تنصیبات اور بعض حساس مقامات کو نشانہ بنانے کی اطلاعات سامنے آئیں۔ اسرائیل نے حسبِ روایت ان حملوں کی مکمل ذمہ داری قبول نہیں کی، مگر اس کے عسکری اور سیاسی بیانات واضح اشارہ دیتے ہیں کہ وہ ایران کی بڑھتی ہوئی عسکری صلاحیت کو کسی صورت برداشت کرنے کو تیار نہیں۔ ان حملوں کے فوراً بعد ایران کی جانب سے سخت ردعمل سامنے آیا۔ ایرانی قیادت نے نہ صرف ان حملوں کو کھلی جارحیت قرار دیا بلکہ بھرپور جواب دینے کا عندیہ بھی دیا۔ ایران کے پاس بیلسٹک میزائل، ڈرون ٹیکنالوجی اور خطے میں موجود اس کے اتحادی گروپس کی صورت میں ایک وسیع ردعمل کی صلاحیت موجود ہے، جو کسی بھی وقت صورتحال کو مزید خطرناک بنا سکتی ہے۔
دوسری جانب ڈونلڈ ٹرمپ کے حالیہ بیانات نے جلتی پر تیل کا کام کیا ہے۔ ٹرمپ نے ایران کو سخت الفاظ میں خبردار کرتے ہوئے مبینہ طور پر الٹی میٹم دیا کہ اگر اس نے امریکی یا اسرائیلی مفادات کو نشانہ بنایا تو اسے تباہ کن نتائج کا سامنا کرنا پڑے گا۔ ان بیانات نے نہ صرف سفارتی فضا کو مزید کشیدہ کیا بلکہ کسی بھی ممکنہ مذاکراتی عمل کو بھی نقصان پہنچایا ہے۔ ٹرمپ کی پالیسی ہمیشہ زیادہ سے زیادہ دباو¿ (Maximum Pressure) پر مبنی رہی ہے، جو ایران کو مذاکرات کی میز پر لانے کے بجائے اکثر مزید سخت مو¿قف اختیار کرنے پر مجبور کرتی ہے۔ یہاں پاکستان کے کردار کو سمجھنے کے لیے اسلام آباد اکارڈ کا حوالہ دینا ضروری ہے۔ یہ معاہدہ اس بات کی علامت ہے کہ پاکستان پیچیدہ علاقائی تنازعات میں ثالثی کا کردار ادا کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ اسلام آباد اکارڈ نے یہ ثابت کیا کہ اگر فریقین میں کم از کم سطح کا اعتماد موجود ہو اور ایک غیر جانبدار ثالث میسر ہو، تو بظاہر ناممکن نظر آنے والے تنازعات بھی حل کی طرف بڑھ سکتے ہیں۔ تاہم موجودہ صورتحال اسلام آباد اکارڈ کے وقت سے کہیں زیادہ پیچیدہ ہے۔ اس وقت امریکہ اور ایران کے درمیان اعتماد کا فقدان اپنی انتہا کو پہنچ چکا ہے۔ جوہری معاہدے کی ناکامی، مسلسل پابندیاں اور ایک دوسرے کے خلاف سخت بیانات نے کسی بھی مثبت پیش رفت کے امکانات کو کمزور کر دیا ہے۔ ایسے میں پاکستان کی ثالثی اگرچہ نیک نیتی پر مبنی ہو سکتی ہے، لیکن اس کے کامیاب ہونے کے امکانات محدود ہیں۔
اسرائیل کا کردار بھی اس تنازع کو مزید الجھا رہا ہے۔ اسرائیل ایران کو اپنے وجود کے لیے سب سے بڑا خطرہ سمجھتا ہے، اور اسی لیے وہ پری ایمپٹو سٹرائیکس کی پالیسی پر عمل پیرا ہے۔ 6 اور 7 اپریل کے حملے اسی حکمت عملی کا حصہ دکھائی دیتے ہیں۔ اسرائیل کے نزدیک کسی بھی سیز فائر کا مطلب ایران کو دوبارہ منظم ہونے کا موقع دینا ہے، جسے وہ کسی صورت قبول نہیں کرنا چاہتا۔ سیز فائر کے امکانات محدود ہونے کی ایک اور بڑی وجہ یہ ہے کہ تمام فریقین اس وقت کنٹرولڈ اسکیلشن کی حکمت عملی پر عمل پیرا ہیں۔ یعنی وہ مکمل جنگ سے گریز کرنا چاہتے ہیں، لیکن ایک دوسرے پر دباو¿ برقرار رکھنے کے لیے محدود حملے جاری رکھے ہوئے ہیں۔ یہ ایک خطرناک کھیل ہے، کیونکہ اس میں کسی بھی وقت غلط اندازہ یا غیر متوقع ردعمل ایک بڑی جنگ کو جنم دے سکتا ہے۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ حالات کس سمت جا رہے ہیں؟ موجودہ صورتحال کو دیکھتے ہوئے تین ممکنہ راستے سامنے آتے ہیں: پہلا، کشیدگی میں مسلسل اضافہ، جہاں اسرائیلی حملے اور ایرانی جوابی کارروائیاں ایک بڑے تصادم میں تبدیل ہو سکتی ہیں۔ دوسرا، ایک غیر رسمی یا وقتی سیز فائر، جو کسی بڑے دباو¿ یا عالمی مداخلت کے نتیجے میں سامنے آ سکتا ہے، لیکن یہ پائیدار نہیں ہو گا۔ تیسرا، ایک جامع سفارتی عمل، جس میں بڑی عالمی طاقتیں شامل ہو کر ایک نیا فریم ورک ترتیب دیں اگرچہ موجودہ حالات میں یہ سب سے کمزور امکان ہے۔
پاکستان کے لیے اس صورتحال میں بہترین راستہ یہی ہو سکتا ہے کہ وہ پسِ پردہ سفارتکاری (Quiet Diplomacy) کو فروغ دے۔ کھلے عام ثالثی کی پیشکش کے بجائے، دونوں فریقین کے ساتھ بیک ڈور چینلز کے ذریعے رابطے رکھے جائیں اور کسی بھی ممکنہ مذاکرات کے لیے راہ ہموار کی جائے۔ اسلام آباد اکارڈ جیسے تجربات پاکستان کو ایک اخلاقی اور سفارتی جواز فراہم کرتے ہیں، لیکن عملی کامیابی کے لیے بین الاقوامی حمایت اور فریقین کا اعتماد ناگزیر ہو گا۔
آخر میں یہ کہنا مناسب ہو گا کہ مشرقِ وسطیٰ اس وقت ایک نازک توازن پر کھڑا ہے۔ ڈونلڈ ٹرمپ کی دھمکیاں، اسرائیل کے حملے اور ایران کی جوابی حکمت عملی ایک ایسے دائرے کو جنم دے رہے ہیں جس سے نکلنا آسان نہیں۔ اگر عالمی برادری نے فوری اور مو¿ثر کردار ادا نہ کیا تو یہ کشیدگی کسی بڑے سانحے میں تبدیل ہو سکتی ہے اور اس صورت میں سیز فائر کی تمام امیدیں دم توڑ سکتی ہیں۔ اسلام آباد کو اس صورت حال میں بڑی جنگ سے قبل بڑی تیاری کرنا ہو گی۔ اس اپنی دفاعی اور حملہ کرنے کی صلاحیت بالخصوص میزائیل ٹیکنالوجی کو نئی جہتوں سے متعارف کرانا ہو گا۔

ٹیگز: