چوپال میں رفیق صاحب(فرضی نام) اپنے بیٹے راحیل(فرضی نام) کے ساتھ آئے۔ چپ سائیںسمیت سب نے ان کا پرتپاک استقبال کیا۔ چپ سائیں بولے اور سناﺅ بھائی رفیق کیسے ہو اور آج تو بیٹے راحیل کوبھی ساتھ لے کر آئے ہو۔۔۔خیر تو ہے۔۔۔ رفیق صاحب نے کہا چپ سائیں جی آپ کو تو علم ہے کہ میرے والد یعنی راحیل کے دادا اخبار فروش تھے۔ا نہوں نے محنت کی اور چھوٹی موٹی ایجنسی بنالی۔۔۔ ان کا میں نے ہاتھ بٹایااوران کے کام میں شامل ہوگیا۔میرے والد کو سب حاجی صاحب کہتے تھے، لوگ ان کی بہت عزت کرتے تھے۔۔۔انہوں نے محلے کے بہت سے فارغ لڑکوں کو بھی اخبار فروشی پر لگایا ۔۔۔ اس طرح اپنا کام بھی چلایا اور ان کے روزگارکا بھی ذریعہ بنے ۔وقت آیا تو میرا بیٹا راحیل بھی ہمارے ساتھ شامل ہوگیا اور ساتھ ساتھ پڑھتا گیا۔۔۔۔ پر ۔۔۔ یہ کہتے کہتے ۔۔۔ رفیق چپ کر گئے۔۔۔ سائیں جی نے پوچھا کیا ماجرا ہے؟ بھائی رفیق۔۔ آگے تو بولو!۔۔۔سائیں جی۔۔۔ اب تو یہ اخبار فروشی تقریباً ختم ہوچکی ہے۔۔۔ بہت سے لوگ بے روزگار ہوچکے ہیں۔۔۔۔ہمارا کام بھی وقت کے ساتھ ساتھ کم ہوگیاہے ۔۔۔ اور تو اور۔۔۔میرے بیٹے راحیل نے بھی یہ کام ختم کرکے کچھ اور کام کرنے کی ٹھان لی ہے۔۔۔۔ میں نے اس کوبہت سمجھایا لیکن۔۔۔ بھئی دوستو ! کہتا تو وہ بھی سچ ہے۔۔۔ اب اخبار پڑھتا ہی کون ہے؟۔۔۔ اخبار پڑھنے والوں کی تعداد اور شائع کر نے والوں کی تعداد آٹے میں نمک کے برابر رہ گئی ہے۔۔۔۔ افسوس۔۔ یہ کہتے کہتے رفیق صاحب چپ کرگئے۔۔۔۔ چپ سائیں نے کہا کہ بھئی رفیق۔۔۔ میں آپ کی بات سمجھ گیا ہوں۔۔ اور اس کا تفصیلی تذکرہ چوپال کے دوستوں سے بھی کرتا ہوں۔
چپ سائیں نے کہا دوستو! بھائی رفیق سچ کہہ رہے ہیں کہ اب اخبار فروشوں کا کاروبار وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ ٹھپ ہوتا جارہا ہے۔ اس کی مختلف وجوہات ہیں۔ چپ سائیں نے کہا دوستو! جیسے پوپھٹتی ہے ، سورج کی کرنیں روشنی بکھیرتی اور پرندے چہچہاتے ہیں۔ اس چہچہاہٹ کے ساتھ ایک اور مانوس آواز شہر کی گلیوں میں کبھی گونجا کرتی تھی ۔۔۔''اخبار ۔۔۔ اخبار والا !''۔ کبھی اخبار فروش صبح کے پیامبر کہلاتے تھے، جو گھر گھر جا کر تازہ اخبار پہنچاتے تھے۔ مگر اب، اس آواز میں وہ گونج باقی نہیں رہی۔ افسوس۔۔ صد افسوس۔۔۔ چپ سائیں ۔۔ چپ کرگئے اور ۔۔رفیق صاحب، ان کے بیٹے راحیل کی طر ف دیکھنے لگے۔
توقف کے بعد بولے۔۔ رفیق بھائی۔۔۔ ایک وقت تھا۔۔ حاجی صاحب ہمارے گھر میں بھی اخبار دے کر جاتے تھے، پھر آپ نے یہ ذمہ داری خوب نبھائی، پھر آپ کے ساتھ آپ کا بیٹا راحیل بھی آپ کا ہاتھ بٹاتا رہا۔۔۔ پر اب تو وہ بھی کاروباری حالات سے دلبرداشتہ ہوگیا ہے۔
دوستو! بات ہورہی تھی اخبار فروش کی توعرض گزارش یوں ہے کہ ڈیجیٹل عہد کی یلغار نے جہاں معلومات کو برق رفتاری عطا کی ہے، وہیں روایتی ذرائع، بالخصوص پرنٹ میڈیا اور اس سے وابستہ افراد کو حاشیے پر دھکیل دیا ہے۔اخبار فروش معاشرے کا ایک ایسا کردار ہے جس کی موجودگی ہمیں روز مرہ کی زندگی میں نظر آتی رہی ہے، مگر ہم نے شاید کبھی اس کی اصل قدر کو سمجھنے کی کوشش نہیں کی۔ وہ فجر سے پہلے جاگتا، سیکڑوں اخبارات تقسیم کرتا اور تب جا کر دن کا آغاز ہوتا ہے۔یہ بھی قابل ذکرہے کہ کئی بار بارش ہو، آندھی ہو یا سردی کا زور، وہ اپنا کام نہیں چھوڑتا، مگر اس کی اجرت ایک فیکٹری مزدور سے بھی کم ہوتی ہے۔
صاحبو! ایک وقت تھا جب اخبار کی اشاعت کے لیے ایڈیٹرز، رپورٹرز، پرنٹنگ پریس، اشاعت گھر، ڈسٹری بیوٹرز اور آخر میں اخبار فروش ایک زنجیر کی صورت جڑے ہوتے تھے۔ مگر اب خبروں کے لیے لوگ موبائل فونز، لیپ ٹاپس اور سمارٹ واچز پر انحصار کرتے ہیں۔ ریئل ٹائم خبریں، ویڈیوز، بلاگز اور سوشل میڈیا نے اخبارات کو پرانی چیز بنا دیا ہے۔ پرنٹ میڈیا کا اصل سرمایہ اشتہارات ہوتے تھے۔ جیسے جیسے کمپنیاں آن لائن پلیٹ فارمز کی طرف گئیں، اخبارات کی آمدنی شدید متاثر ہوئی۔دوستو! نئی نسل طویل مضامین پڑھنے کے بجائے شارٹ ویڈیوز اورکلپس پر ہی اکتفا کرلیتی ہے۔ماضی میں اخبار فروش سٹالز پر بھی لوگ صبح کے وقت باقاعدہ کھڑے ہوکر اخبار بینی کا لطف اٹھاتے اورپھر گھر کا رخ کرتے۔۔۔ مقابلے کا امتحان دینے والے۔۔۔ لائبریری کا رخ کرتے اور اخبار کا سیرحاصل مطالعہ کرتے۔۔۔ پر اب توسب کچھ انٹرنیٹ پر میسر آنے لگا ہے۔
دوستو!جب کسی صنعت کا زوال ہوتا ہے، سب سے پہلے اس سے جڑے کمزور ترین طبقے متاثر ہوتے ہیں اور اخبار فروش اسی زمرے میں آتے ہیں۔تاہم یہ بھی سچ ہے کہ اکثر اخبار فروش خواندہ نہیں ہوتے، یا عمر کے اس حصے میں ہوتے ہیں جہاں کوئی دوسرا کام اختیار کرنا ممکن نہیں، اس لیے وہ بے روزگار ہو کر کسمپرسی کا شکار ہو جاتے ہیں۔
بھئی رفیق یہ سوال بھی اٹھتا ہے کہ کیا یہ قدرتی تبدیلی ہے ؟یا ہم نے اجتماعی طور پر ایک طبقے کو نظر انداز کر دیا ہے؟ اگر ٹیکنالوجی فروغ پارہی ہے ، تو کیا اس ترقی کا مطلب یہ ہونا چاہیے کہ پرانے نظام اور اس سے وابستہ انسانوں کو بغیر کسی متبادل کے بے یار و مددگار چھوڑ دیا جائے؟نہیں ہر گزنہیں۔۔۔ یہ کوئی پائیدار حل تونہیں ہے۔پرنٹ اور میڈیا ہا¶سز کو چاہیے کہ وہ اپنے سابقہ یا موجودہ اخبار فروشوں کو اس تبدیلی کے دوران تنہا نہ چھوڑیں، بلکہ ان کے لیے فلاحی فنڈز یا نوکری کے متبادل مواقع پیدا کریں۔
اخبار فروش محض ایک فرد نہیں، بلکہ وہ ایک دور کا نمائندہ ہے ۔ایک ایسا دور جب الفاظ کی حرمت تھی، خبروں کا انتظار ہوتا تھا اور ہر صبح ایک تازہ صبح کا آغاز اخبار کی سرخیوں سے ہوتا تھا۔ آج جب وہ سرخیاں سمارٹ فونز کی سکرین پر چمکتی ہیں،تو ہمیں یہ نہیں بھولنا چاہیے کہ کسی زمانے میں انہی خبروں کو گھر گھر پہنچانے والا ایک سادہ، خاموش، مگر انتہائی محنتی انسان ہوتا تھا اور وہ تھا اخبار فروش۔ ہمیں یہ بھی یاد رکھنا چاہیے کہ انسانوں کی بے قدری پر قائم ترقی ہمیشہ نامکمل رہتی ہے۔