Wed, September 16, 2026

ایسے سخن فروش کو مر جانا چاہیے

ایسے سخن فروش کو مر جانا چاہیے

آہوں اور سسکیوں کے مابین رندھی ہوئی آواز میں اس سے بس ایک جملہ ادا ہو پایا کہ عادل نہیں رہے پھر وہ دوپٹے کے پلو میں چہرہ چھپا کر بے طرح رو دی، کمنٹس سیکشن میں تعزیت اور ہمدردی کے انبار لگ گئے۔ چند برس قبل ایک نسبتاً غیر معروف جوڑے نے انگنت ویڈیوز بنا کر شہرت حاصل کرنے کے لیے ایڑھی چوٹی کا زور لگا لیا، جب کامیاب نہ ہو سکے تو ایک گھناؤنا جال بُنا اور اپنے میاں کی موت کی جھوٹی خبر چلا دی، راتوں رات شہرت کی بلندیوں کو چھونے لگے اور ٹاپ ٹرینڈنگ میں آ گئے، دو روز بعد عادل صاحب بخیر و عافیت چار پٹیاں لگا کر لائیو آ گئے۔ اس کہانی سے ہمیں بھلا کیا سبق ملتا ہے؟ اسے ہم munchausen syndrome کی روشنی میں بھی دیکھ سکتے ہیں اور اسے Spotlight effect بھی کہہ سکتے ہیں۔ اب آپ سوچ رہے ہوں گے کہ مجھے برسوں بعد عادل کی زوجہ ماجدہ آخر کہاں سے یاد آ گئیں؟ تو بھئی مجھے یاد وہ اس لیے آئیں کہ اسی نوعیت کا ایک اور وقوعہ اسی طرح دہرایا گیا، سیم سکرپٹ۔۔۔ مختلف کردار۔۔۔
دو روز قبل ایک بھرپور تماشا لگایا گیا، ایکسر سائز کرتے، دیسی ککڑ کھاتے بانی کی موت کی جھوٹی خبریں کہاں سے چلیں؟ ٹی وی نائن پہ سنسنی خیز میوزک کے ساتھ چیختے ہوئے کوئی کہتا ہے عمران خان کی جیل میں ہتیا کی خبر ہے، عمران خان کے شریر کو گپت جگہ پر رکھا گیا۔ یہ وہی چینل ہے جس نے عمران خان کے شاریرک شوشن کی خبر چلائی تھی۔ پھر یہ خبر چلی ڈیلی کابل نیوز اور افغانستان ٹائمز پہ۔ پھر پاکستان کی راکھی ساونت مشی خان آ گئیں ٹسوے بہانے جنہیں خبروں میں رہنے کے لیے ہر خبر پر کچھ جذباتی ڈرامہ کرنے سوشل میڈیا پر آنا ہی آنا ہے۔
اندر والے تو خان صاحب کو زہر دیں نہ دیں باہر والوں کو شاید اب خان سے زیادہ خان کے مقبرے کی ضرورت ہے۔ سیاست کے لیے آخری درجے تک گرنا شاید اسے ہی کہتے ہیں، زندگی موت اللہ کے ہاتھ میں ہے تاحال خان صاحب بخیر و عافیت ہیں لیکن موت برحق ہے اب اگر کل کو ان کے طبعی موت بھی واقع ہو جاتی ہے تو فلم کا ٹیزر یہ چلا چکے ہیں، انہیں دِکھ گیا ہے کہ اب زندہ ہاتھی نہ تو دھرنے کے کال پہ عوام کو سڑکوں پہ لانے میں کامیاب ہو رہا ہے نہ کوئی سنسنی پھیل رہی ہے نہ انتشار، دوکان کیسے چلے گی؟۔ واپس اسی طرف آتے ہیں جہاں سے گفتگو کا آغاز کیا تھا، آہیں سسکیاں ہیجان اور موت کی جھوٹی خبر۔۔۔ اور مقبولیت کا ٹھاٹھیں مارتا سمندر۔۔۔ چلو سپاٹ لائٹ افیکٹ استمال کرتے ہیں، کوئی ہلچل مچے، وگرنہ کم از کم آگے کا لائحہ عمل تو طے ہے، کبھی نہ کبھی تو دربار بنے گا، چادریں چڑھیں گی، کبھی تو ہاتھی سوا لاکھ کا ہو ہی جائے گا۔
خان صاحب جیل میں اپنے ذاتی باورچی سے دیسی مرغے بنوا کر کھاتے ہیں، چھ عدد بیرکوں میں گھومتے پھرتے ہیں۔ ایک طرف ان کی قابلِ احترام بہنیں بھائی سے ملاقات کے لیے کچھ دیر سردی میں بیٹھ کر ٹھٹھرتی ہیں، چند جذباتی بیان دیتی ہیں، آدھا کلو ٹسوے بہاتی ہیں، پھر جا کر تکے کبابوں اور سجی سے غم غلط کرتی ہیں۔ تحریکِ انتشار کا انسانی پورے سوشل میڈیا پہ انسانی حقوق کا ڈھول گلے میں ڈال کر خوب پیٹتا ہے۔۔۔ اور دوسری طرف؟؟ دوسری طرف جنوری 2021 ء کی سرد راتوں میں ہزارہ کمیونٹی کے بچے بوڑھے جوان سمیت خواتین اپنے پیاروں کی لاشیں لے کر بیٹھے رہے، وقت کے فرعون سے اتنا نہ ہو پایا کہ داد رسی کر لے، تب تو انسانی حقوق کا پرچم اٹھا کے پھرنے والوں کو دست نہ لگے؟ تب تو کسی نے ایک خود پسند ہٹ دھرم کروفر زدہ مگر امتِ مسلمہ کے عظیم لیڈر سے نہ کہا کہ تمہارا فرض بنتا ہے جا؟ کیا ہزارہ کی مائیں بہنیں بیٹیاں اس ملک کی کچھ نہیں لگتیں؟ یا اس ملک کی بیٹیاں بس وہی ہیں جو R. ANI اور انڈیا ٹوڈے پہ ٹرینڈنگ کریں، اگر اس ملک کی پچیس کروڑ آبادی میں کسی ایک پر آج کی تاریخ میں آرٹیکل چھ کا اطلاق ہوتا ہے تو وہ یہ عورت ہے۔
وہ روزِ اول سے وطنِ عزیز کے دشمن تھے دشمن ہیں اور دشمن رہیں گے۔ آپ بھاگی بھاگی ان کے چینل پہ جا بیٹھیں؟ آج تک ان کا کوئی راہنما، کوئی اداکار، کوئی کھلاڑی، ہمارے میڈیا پہ اپنے ملک کے خلاف بولا ہے؟ یا میں یہ کہوں کہ آپ انہیں کے چینل پہ جا کے بولی ہیں جن کے ہاتھوں میں آپ کی لگامیں ہیں؟ بہر حال ہماری لاہور کی بندر گاہ جلانے والوں اور گھر میں گھس کر مارنے والوں سے ہمدردی بٹورنے کے لیے بی بی جس طرح ان کے چینل پہ جا بیٹھی ہیں آپ کے لیے ہی کسی شاعر نے کیا خوب کہا تھا کہ
تہمت لگا کہ ماں پہ جو دشمن سے داد لے
ایسے سخن فروش کو مر جانا چاہیے۔۔۔

ٹیگز: