اور یہ منظر بھی میری آنکھوں نے دیکھ لیا کہ بھارت کی تاریخ کے سب سے ”بڑے جن ہندو لیڈر“ کو بھارتی جین زی نے گھٹنے ٹیکنے پر مجبور کر دیا۔ بظاہر یہ سب کچھ طلبا کی امتحانی نظام کے خلاف تحریک دکھائی دیتی ہے لیکن صرف چند دنوں میں مودی ذہنیت کے ”ہندوستان ہندوو¿ںکا“ کا بخار اتار کر درجہ حرارت کشمیر کی ٹھنڈ جیسا کر دیا ہے۔ ہندوستان کی اگلی نسل نے جہاں ہندواتوکی نفی کی ہے وہیں یہ بھی ثابت کر دیا ہے کہ جمہوریت کا تسلسل، تعلیم اور طلبا تنظیمیں کیسے خوبصورت، باوقار اور تربیت یافتہ سیاسی ورکرز تیار کرنے میں کتنا مددگار ہوتا ہے۔ بھارتی جین زی نے ایسے مناظر کو جنم دیا ہے جو پارلیمانوں سے زیادہ سڑکوں پر لکھے گئے ہیں۔ ان مناظر میں آنسو گیس سے زیادہ کردار کی خوشبو اور لاٹھی سے زیادہ دلیل کی طاقت نظر آئی ہے۔ نعروں سے زیادہ نظم و ضبط اور گالی گلوچ کے بجائے سیاسی مو¿قف دیکھنے کو ملا ہے۔ نوجوانوں کا ایسا سمندر جو اپنے ملک کے آئین کے ساتھ بلا امتیاز مذہب، نسل، قوم اور ذات پات کے کھڑا تھا۔ لاکھوں طلبہ سڑکوں پر نکلے، حکومت کو کڑی تنقید کا سامنا کرنا پڑا، وزیرِ تعلیم کو استعفیٰ دینا اور اصلاحات کا وعدہ کرنا پڑا۔ حکومت نے پسپائی اختیار کی اور نوجوانوں نے اپنے مطالبات کو ایک اجتماعی عوامی مسئلے کے ساتھ جوڑا اور احتجاج کی باشعور طاقت سے مودی جیسے موذی انسان کی حکومت کو بنیادوں سے ہلا کر رکھ دیا۔
یہ مناظر دیکھتے ہوئے بے اختیار پاکستان کی جین زی یاد آئی، جی وہی نسل جسے سوشل میڈیا نے انقلابی قرار دیا اور جس کے بارے میں کہا گیا کہ وہ پاکستان کی تقدیر بدل دے گی۔ جس نے لاکھوں کی تعداد میں جلسے بھرے، نعرے لگائے، جیلیں دیکھیں اور تصادم بھی جھیلا۔ کیا صرف ریاستی طاقت سے پسپا ہو گئی یا کہیں تربیت کی کمی اور غیر عقلی موقف انہیں لے ڈوبا؟ احتجاج کی کامیابی تعداد سے نہیں تربیت سے طے ہوتی ہے۔ یاد رکھیں جذبات کسی تحریک کو جنم دے سکتے ہیں لیکن منزل تک نہیں پہنچا سکتے۔ منزل تک وہی تحریک پہنچتی ہے جس کے کارکن جانتے ہوں کہ احتجاج کب کرنا ہے،؟ کیسے کرنا ہے؟ کہاں رکنا ہے؟ اور کس مقام پر مذاکرات کی میز پر بیٹھ جانا ہے؟ سیاست محض غصے کا نہیںبلکہ برداشت، حکمت اور اجتماعی شعور کا دوسرا نام ہے۔ بھارت بلاشبہ ہماری دشمن ریاست ہے لیکن ایک حقیقت سے انکار مشکل ہے کہ وہاں جمہوریت کا تسلسل نسل در نسل سیاسی تربیت یافتہ کارکن پیدا کرتا رہا۔ وہاں سیاسی جماعتیں صرف انتخابات نہیں لڑتیں بلکہ کارکن بھی تیار کرتی ہیں۔ اختلاف کو غداری نہیں سمجھا جاتا بلکہ سیاسی عمل کا حصہ مانا جاتا ہے۔ اسی لیے وہاں نوجوان حکومت کے خلاف احتجاج کرتے ہیں تو ان کا بنیادی مطالبہ کسی ایک شخصیت کی رہائی نہیں بلکہ کسی اجتماعی مسئلے کا حل ہوتا ہے اور یہی فرق احتجاج کو اخلاقی برتری عطا کرتا ہے۔
پاکستان کی سیاست اپنی تخلیق سے لے کر آج تک شخصیات کے گرد گھومتی رہی ہے۔ شخصیت جب نظریے پر غالب آ جائے تو کارکن دلیل سے زیادہ عقیدت کا اسیر ہو جاتا ہے اور ہر اختلاف دشمنی اور ہر تنقید سازش دکھائی دیتی ہے۔ ہر ناکامی کا الزام دوسروں پر ڈال دیا جاتا ہے اور ایسے ماحول میں سیاسی تربیت کا دروازہ بند ہو جاتا ہے جو کسی بھی جمہوریت کی حقیقی روح ہوتی ہے۔ بلاشبہ ہر صوبے کے نوجوانوں نے مختلف ادوار میں مختلف سیاسی تحریکوں میں حصہ لیا لیکن یہ سوال ضرور اٹھایا جا سکتا ہے کہ کیا ہماری سیاسی جماعتوں نے نوجوانوں کو جمہوری مزاحمت سکھائی یا صرف جذباتی وابستگی ہی کافی سمجھی گئی؟ کیا انہیں آئین، پارلیمان، مذاکرات اور تدریجی اصلاحات کی سیاست سکھائی گئی یا ہر مسئلے کا حل سڑکوں پر طاقت آزمائی میں تلاش کرنے کے ہنر سے آشنا کیا؟ جب سیاسی قیادت کی تقریروں میں مسلسل محاذ آرائی غالب آ جائے تو کارکن بھی تصادم کو کامیابی سمجھنے لگتا ہے۔ پھر احتجاج اپنے اصل مقصد سے ہٹ کر طاقت کے اظہار میں تبدیل ہو جاتا ہے۔ تحریکی طاقت کے مقابلے میں ریاست کے پاس ہمیشہ زیادہ طاقت ہوتی ہے یہی وجہ ہے کہ زیادہ تر تحریکوں کو ناکامی کا منہ دیکھنا پڑتا ہے۔ بھارت کے نوجوانوں نے اگر واقعی امتحانی نظام کی اصلاح کے لیے حکومت کو جھکایا ہے تو یہ صرف ان کی نہیں بلکہ جمہوری روایت کی فتح ہے۔ وہاں جشن اس بات کا ہے کہ ایک عوامی مسئلہ سیاسی دبا¶ کے ذریعے حکومتی ایوانوں تک پہنچا اور یہی جمہوریت کی اصل روح ہے کہ حکومت عوام کے سامنے جواب دہ ہو۔
پاکستان میں بھی نوجوانوں کے پاس بے پناہ صلاحیت ہے۔ وہ تعلیم یافتہ ہیں، ڈیجیٹل دنیا سے جڑے ہوئے ہیں، نئی سوچ رکھتے ہیں اور تبدیلی کی خواہش بھی، لیکن انہیں یہ سمجھنا ہو گا کہ سیاسی جدوجہد کا سب سے طاقتور ہتھیار دلیل، تنظیم اور عوامی اعتماد ہے، نہ کہ صرف جوش، غصہ اور مسلسل تصادم۔ جمہوریت ایک نسل سے دوسری نسل تک منتقل ہونے والی سیاسی تہذیب کا نام ہے۔ دادا اگر اختلاف برداشت کرنا سیکھے گا تو پوتا دلیل سے بات کرے گا۔ دادا اگر ووٹ کی حرمت کا احترام کرے گا تو پوتا بھی بیلٹ کو ہی تبدیلی کا راستہ سمجھے گا لیکن اگر ہر نسل کو یہی بتایا جائے کہ صرف ایک نجات دہندہ آئے گا اور باقی سب دشمن ہیں تو پھر سیاسی کارکن نہیں بلکہ عقیدت مند پیدا ہوتے ہیں اور عقیدت مند تاریخ میں شور تو بہت مچاتے ہیں لیکن پائیدار تبدیلی لانے والے زمانے گزر چکے۔ پاکستان کے نوجوانوں کو یہ سیکھنے کی ضرورت ہے کہ وہ اپنی سیاسی ترجیحات پر دوبارہ غور کریں اور شخصیت سے زیادہ ادارے اور جذبات سے زیادہ حکمت جبکہ نفرت سے زیادہ مکالمہ اور تصادم سے زیادہ آئینی جدوجہد کو اہمیت دیں۔ یہی وہ راستہ ہے جو کسی بھی معاشرے کو سیاسی بلوغت کی منزل تک پہنچاتا ہے ورنہ طاقتور جین زی بھی چائنہ میڈ بن کر رہ جاتی ہے۔ احتجاج کی اصل طاقت جلتی ہوئی گاڑیوں میں نہیں بلکہ بیدار اور روشن ضمیر میں ہوتی ہے۔ انقلاب پتھر پھینکنے سے نہیں بلکہ شعور بیدار کرنے سے آتا ہے اور وہ قومیں جن کے نوجوان دلیل کو اپنا ہتھیار بنا کر منظم کر لیتے ہیں وہی حکومتوں کو جواب دہ بنانے کی اہلیت رکھتے ہیں اور جب تعلیم اور تربیت کے ہتھیار سے لیس نوجوان نکلتے ہیں تو پھر ”جنتر منتر“ کا جو حال ہوتاہے وہ سب نے دیکھ لیا ہے۔ افسوس! کہ پاکستانی جین زی کو سکھایا گیا ہے کہ ہندوستان سیکولر لیکن پاکستان طالبانی ہونا چاہیے۔ یہ فلسفہ ہی اپنی بنیاد میں غلط ہے۔ ہر ریاست کے اپنے اندرونی حالات اور تاریخ ہوتی ہے جس کے مطابق فیصلے کرنا پڑتے ہیں۔ نوجوانوں کو سمجھنا ہو گا کہ جمہوریت صرف حکومت کا ہی نہیں بلکہ تربیت کا بھی نظام ہے۔ مودی جیسے بے رحم مسلمان دشمن انسان کو اگر ہندوستان کے ہندو اور مسلمان مل کر خاک میں ملا سکتے ہیں پھر پاکستان تو اکثریتی مسلم آبادی والا ملک ہے یہاں تو ایسی کوئی تقسیم بھی نہیں سو نوجوانوں کو طے کرنا ہو گا کہ انہیں مودی جیسی قاتل جمہوریت چاہیے یا قائد کا پاکستان جو تمام شہریوں کو برابری کا حق دیتا ہے۔