اسلام آباد / لوئر دیر: ملک کے بالائی علاقوں اور پہاڑی سلسلوں میں ہونے والی حالیہ شدید برفباری نے نظامِ زندگی کو درہم برہم کر دیا ہے۔ کئی علاقوں میں ریکارڈ توڑ برفباری کے باعث رابطہ سڑکیں بند ہو چکی ہیں اور شہری گھروں میں محصور ہو کر رہ گئے ہیں۔
لوئر دیر میں برفباری کا 20 سالہ ریکارڈ ٹوٹ گیا ہے۔ میدانی اور پہاڑی علاقوں میں 3 سے 4 فٹ تک برف پڑنے کی وجہ سے تمام اہم شاہراہیں اور رابطہ سڑکیں مکمل طور پر بند ہو چکی ہیں۔ مقامی انتظامیہ کے مطابق شدید برفباری کے باعث بجلی اور مواصلات کا نظام بھی شدید متاثر ہوا ہے۔
استور میں وقفے وقفے سے برفباری جاری ہے جبکہ غذر کے بالائی علاقوں میں ہر طرف سفیدی چھا گئی ہے۔بابوسر ٹاپ، نانگا پربت، بھٹوگاہ ٹاپ، داریل اور تانگیر میں برفباری کا نیا سلسلہ شروع ہو چکا ہے، جس سے درجہ حرارت منفی ڈگری تک گر گیا ہے۔وادی نیلم کے تمام دیہات اور قصبے شدید برفباری کی لپیٹ میں ہیں، جس کی وجہ سے شاہراہِ نیلم پر ٹریفک کی روانی معطل ہے۔
بلوچستان کے علاقے قلات میں بھی برفباری کا آغاز ہو چکا ہے جہاں اب تک 3 انچ تک برف ریکارڈ کی گئی ہے، جس نے وادی میں سردی کی شدت کو انتہا تک پہنچا دیا ہے۔
شدید برفباری اور سڑکوں کی بندش کے باعث متعلقہ اضلاع کی انتظامیہ نے ہائی الرٹ جاری کر دیا ہے۔ سیاحوں اور مقامی لوگوں کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ پہاڑی علاقوں میں غیر ضروری سفر سے مکمل گریز کریں کیونکہ لینڈ سلائیڈنگ اور برفانی تودے گرنے کے خطرات موجود ہیں۔