Wed, September 16, 2026

پاکستان کی سیاسی قیادت افغان طالبان کی جارحیت کے خلاف یکجا: "آپریشن غضب للحق" کی حمایت

پاکستان کی سیاسی قیادت افغان طالبان کی جارحیت کے خلاف یکجا:

اسلام آباد : پاکستان کی سیاسی قیادت افغان طالبان کی بلااشتعال جارحیت کے خلاف متحد ہو گئی ہے اور "آپریشن غضب للحق" میں پاک فوج کے ساتھ کھڑے ہونے کا عہد کیا ہے۔ وفاقی وزرا، پارلیمنٹ کے رہنماؤں اور سیاسی قیادت نے اس آپریشن کی حمایت کی، جس میں پاک فوج نے افغان طالبان کے عسکری مقاصد کو بڑی تباہی سے دوچار کیا۔

وفاقی وزیر اطلاعات عطاء اللہ تارڑ نے ایکس (سابق ٹویٹر) پر اپنے پیغام میں کہا کہ آپریشن "غضب للحق" کے دوران افغان طالبان کے 133 جنگجو ہلاک ہوئے، جب کہ 200 سے زائد زخمی ہوئے۔ انہوں نے بتایا کہ اس آپریشن میں 27 طالبان پوسٹیں تباہ کر دی گئیں اور 9 پوسٹوں پر قبضہ کر لیا گیا۔ اس کے علاوہ پاک فضائیہ کی کارروائی میں طالبان کے دو کور ہیڈکوارٹرز، تین بریگیڈ ہیڈکوارٹرز، دو ایمونیشن ڈپو، ایک لاجسٹک بیس اور تین بٹالین ہیڈکوارٹرز کو تباہ کر دیا گیا۔ ساتھ ہی 80 سے زائد ٹینک، توپ خانہ اور بکتر بند گاڑیاں بھی تباہ کر دی گئیں۔

وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے افغان طالبان کی جانب سے شہری آبادی کو نشانہ بنانے کی شدید مذمت کی۔ انہوں نے کہا کہ بزدل دشمن نے رات کے اندھیرے میں معصوم شہریوں پر حملہ کیا، تاہم پاک فوج نے فوری طور پر جوابی کارروائی کرتے ہوئے ان حملوں کو ناکام بنا دیا۔ محسن نقوی نے واضح کیا کہ افغان طالبان کی جارحیت ناقابل برداشت ہے اور پاکستان کی مسلح افواج وطن کے دفاع میں ہمہ وقت تیار ہیں۔

وزیر مملکت برائے داخلہ طلال چودھری نے کہا کہ پاکستان اپنے دفاع کا حق محفوظ رکھتا ہے اور افغان طالبان کی جارحیت کا بھرپور جواب دیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ جیسے مشرقی سرحد پر بھارت کو سبق سکھایا گیا تھا، ویسا ہی جواب مغربی سرحد پر بھی دیا جائے گا۔

پاکستان کے پارلیمانی سیکرٹری اطلاعات و نشریات بیرسٹر دانیال چودھری نے بھی افغان طالبان کی جانب سے کی جانے والی دہشت گردانہ کارروائیوں کی مذمت کی اور کہا کہ پاکستان اپنے دفاع کا حق محفوظ رکھتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان نے افغانستان میں دہشت گردوں کے کیمپوں کو نشانہ بنایا تھا، لیکن افغانستان نے ان دہشت گردوں کے خلاف کبھی کارروائی نہیں کی۔

وفاقی وزیر پارلیمانی امور طارق فضل چودھری نے کہا کہ افغانستان بھارت کی پراکسی بن چکا ہے اور پاکستان کے خلاف دہشت گرد کارروائیاں کر رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ افغانستان کے دہشت گردوں کو پاکستان کے خلاف استعمال کرنا بھارت کی ایک سازش ہے اور پاکستان اس کا جواب دے گا۔

پاکستان کے مختلف سیاسی رہنماؤں نے افغان طالبان کی جارحیت کو مکمل طور پر مسترد کیا اور کہا کہ پاکستان کی افواج کسی بھی جارحیت کا منہ توڑ جواب دینے کے لیے تیار ہیں۔ سپیکر قومی اسمبلی ایاز صادق نے بھی افغان جارحیت کے خلاف فوری جوابی کارروائی کو سراہا اور کہا کہ پاکستان نے ہمیشہ صبر و تحمل کا مظاہرہ کیا ہے، لیکن اب کوئی بھی جارحیت برداشت نہیں کی جائے گی۔

پیپلز پارٹی کی رہنما شیری رحمان نے کہا کہ افغانستان بھارت کے آلہ کار کے طور پر پاکستان میں دہشت گردی پھیلا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ بھارت کی پاکستان کے خلاف سازشوں کو عالمی سطح پر بے نقاب کیا جائے گا اور پاکستان اپنی سرزمین کا بھرپور دفاع کرے گا۔

ٹیگز: