Wed, September 16, 2026

سوئفٹ ریٹورٹ سے ضرب کرار تک


قوموں کی تاریخ میں کچھ ایام ایسے بھی آتے ہیں جو محض کیلنڈر کی تاریخ تک محدود نہیں رہتے بلکہ عزم و شجاعت کی دلیل بن جاتے ہیں 27 فروری 2019ء کا دن بھی ایساہی ایک بابِ زرّیں ہے جب پاک فضائیہ نے آپریشن سوئفٹ ریٹورٹ  کے ذریعے دنیا کو یہ پیغام دیا کہ فضائیں اُنہی کی امانت رہتی ہیں جو اُن کی حرمت کا پاس رکھتے ہیں۔ یہ کارروائی نہ صرف افواج پاکستان کی برق رفتاری اور بے مثال مہارت کی دلیل بنی، بلکہ فضائی جنت کے قواعِد کی پاسداری کرتے ہوئے ذمہ دارانہ طاقت کے استعمال کی ایک درخشاں مثال ثابت ہوئی۔ یہ وہ لمحہ تھا جب شاہینوں نے یہ باور کروایا کہ جو قومیں بیدار رہتی ہیں، اُن کی سرحدوں پر اندھیراٹھہر نہیں سکتا۔ دشمن کی اشتعال انگیزی کا جواب نہ جذبات کی رو میں بہہ کر دیا گیا، نہ ہی غیر ذمہ دارانہ انداز میں، بلکہ شاہینوں نے حکمت، توازن اور پیشہ وارانہ مہارت کے ساتھ اس طور پلٹ کر وار کیا کہ خطے میں طاقت کے توازن کو نئی معنویت حاصل ہوئی، نتیجتاً دشمن کے ذہنی انقباض کو مفکرِ پاکستان کے ان اشعار سے بخوبی جوڑا جا سکتا کہ:
وہ سحر جس سے لرزتا ہے شبستانِ وجود
ہوتی ہے بندائے مومن کی اذاں سے پیدا
فرمانِ قائد ہے کہ ریاست کی اولین ذمہ داری  اپنے شہریوں کی جان و مال اور عقائد کا تحفظ ہے اور یہ ذمہ داری افواجِ پاکستان کے ذریعے ہی ممکن ہے۔ بلاشبہ افواجِ پاکستان نے ملکی دفاع کے اس عہد کی تعمیل کی، جس میں ایک جانب 2019ء کا معرکۂ عزم و جرأت کی تمہید تھا تو 2025ء میں آپریشن بنیان مرصوص اور آپریشن ضرب کرار اسی تمہید کی تکمیل بن کر سامنے آئے۔ ان معرکوں میں دشمن کے سات جدید طیاروں کو مار گرانا جن میں فرانسیسی رافیل طیارے بھی شامل تھے، اس امر کا منہ بولتا ثبوت ہے کہ پاک فضائیہ نے نہ صرف ملکی دفاع کو ناقابلِ تسخیر بنایا بلکہ جدید فضائی حکمتِ عملی، نیٹ ورک سنٹرک وارفیئر اور تربیتی برتری کے ذریعے خود کو خطے کی ایک مؤثر اور قابل ِ اعتبار فضائی قوت ثابت کیا۔ یہ فتح محض چند عسکری کارروائیوں کی دین نہیں بلکہ ایک جامع نظریہء دفاع پر مکمل عملدرامد کا نتیجہ ہے، ایسا نظریہ جو بدلتے ہوئے جنگی محرکات کے ساتھ مکمل ہم آہنگی قائم رکھتے ہوئے ہر نئے چیلنج کے مقابلے میں پاک فضائیہ کو ایک بنیان مرصوص بناتا ہے۔
گزشتہ چند برسوں میں جدید جے۔10 سی لڑاکا طیاروں کی شمولیت ، جدید ریڈار سسٹمز، بغیر پائلٹ کے کام کرنے والے فضائی نظام، لوئٹرنگ میونیشن صلاحیتیں اور لانگ رینج ویکٹرز کی آپریشنلائزیشن نے دفاعی استعدادکار میں غیر معمولی اضافہ کیا۔ مزید برآں نیشنل ایرو اسپیس سائنس اینڈ ٹیکنالوجی پارک، سینٹرآف ایکسیلینس فار ایئر موبلٹی اینڈ ایوی ایشن سیفٹی اور کالج آف ائیر ڈیفنس جیسے اداروں کے فعال ہونے سے تحقیق و ترقی کو نئی جہتیں بخشیں، جبکہ سائبر اور اسپیس ٹیکنالوجی کے میدان میں پے درپے کامیابیاں اس امر کی غماز ہیںکہ پاک فضائیہ مستقبل میں دشمن کی کسی بھی مزموم مہم جوئی کے لیے ہمہ وقت صف بستہ اور تیار ہے۔ اپنی سرحدوں کی حفاظت کے امین ، اس مر سے بخوبی واقف تھے کہ جو ہتھیار خود تراشے جائیں وہی عسکری لحاظ سے پراعتمادی اور حقیقی خود مختاری کی ضمانت ہوتے ہیں۔ مقامی سطح پر ڈرون پروگرامز، ایویونکس اور پریسیژن ویپنز کی تیاری اسی خود انحصاری کے سفر میں ایک اہم سنگِ میل ثابت ہوئی۔
اس پراعتماد قافلے کی قیادت ائیر چیف مارشل ظہیر احمد بابر سدھو نے کی جن کی بصیرت اور دور اندیشی بلاشبہ ایک روشن مینار کی مانند رہی۔ اُن کی دانشمندانہ کمانڈ اینڈ کنٹرول حکمتِ عملی، اسمارٹ انڈکشن پالیسی اور معیار و لاگت کے توازن پر مبنی فیصلوں نے پاک فضائیہ کو ضرب کرار کی عملی تصویر بنا دیا۔ انہوں نے جدید پلیٹ فارمز اور مقامی صلاحیتوں کا ایسا حسین امتزاج عمل میں لایا جس نے پاک فضائیہ کو نہ صرف خود کفیل بنایا بلکہ تیزی سے بدلتے ہوئے جغرافیائی و عسکری ماحول میں اسے بے مثال برتری بھی عطا کی۔ جنابِ ائیر چیف نے تربیت، نظریۂ حرب اور آپریشنل تیاری کو نئی روح بخشی اور یہی وہ عوامل ہیں جنہوں نے مئی 2025ء کے معرکوں کو کامیابی سے ہمکنار کیا۔ مسلح افواج کی مشترکہ ہم آہنگی میں چیف آف ڈیفنس فورسز، چیف آف آرمی سٹاف جنر ل سید عاصم منیر کی قیادت اور حکومت پاکستان کی جانب سے فراہم کردہ پالیسی سپورٹ بھی قابلِ تحسین ہے، جنہوں نے دفاعی برتری، تکنیکی ترقی اور انسانی وسائل کی بہتری کے لیے واضح سمت فراہم کی ۔  یہی اشتراکِ عمل قومی سلامتی کے اس مضبوط قلعے کی بنیاد بنا۔
آپریشن سوفٹ ریٹورٹ کی سالگرہ محض ایک یادگار نہیں بلکہ ماضی کے عہد کی تجدیدِ نو ہے کہ پاکستان کی فضائیں محفوظ ہیں اور رہیں گی۔ وہ عہد کہ جس کا پیغام ہے کہ جہاں عزم ہو فولاد سا، وہاں آندھیاں بھی سر جھکا دیتی ہیں۔ پاک فضائیہ آج ایک زندہ روایت ہے اور سوئفٹ ریٹورٹ سے بنیان مرصوص اور ضرب کرار تک ایک ایسا تسلسل جو بتاتا ہے کہ شاہینوں کی پرواز وقت کے ساتھ ساتھ افق کی نیلگوں بلندیوں کی جانب گامزن ہے۔ یہ عہد ہمیں یاد دلاتا ہے کہ دفاع صرف ہتھیاروں سے نہیں، وژن، تربیت، اتحاد اور خود انحصاری سے مضبوط ہوتا ہے اور جب قوم اپنی فضائوں کے پاسبانوں پر فخر کرے تو یہ فخر دراصل اُس یقین کا نام ہے جو مستقبل کی ہر صبح کو محفوظ بناتا ہے۔

ٹیگز: