گزشتہ روز بلوچستان کے شہر تربت میں دہشت گردوں نے خواتین اور بچوں سمیت چھ افراد کو موت کے گھاٹ اتارنے کے بعد گھر کے مکینوں سمیت آگ لگا دی، دوسرا اسی قسم کا واقعہ کوہاٹ میں پیش آیا جس میں ڈی ایس پی سمیت 5پولیس اہلکار اور دوشہری شہید ہو گئے، حملے کے بعد موبائل وین کو بھی آگ لگا دی، جب کہ کرک میں خوارج نے فیڈرل کانسٹیبلری کے زخمی اہلکاروں کو لے کر جانے والی ریسکیو 1122 کی ایمبولینس کو آگ لگا کر ان مریضوں اور ریسکیو کے اہلکاروںکو زندہ جلا دیا گیا ۔ خوارج نے اس واقعے کی پوری فلمبندی کر کے اس کو سوشل میڈیا پر ڈال دیا۔ یہ انسانیت سوز واقعہ کوئی جد وجہد نہیں بلکہ کھلی درندگی ہے جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ دہشت گرد عناصر کو انسانی اقدار کا کوئی احترام نہیں۔ میرا دل نہیں مانتا کہ کوئی مسلمان رمضان المبارک کے مہینے میں اس قدر بربریت پر آمادہ ہو سکتاہے۔ یہ کوئی وحشی درندہ ہی ایسا عمل کر سکتا ہے۔ اس سارے عمل میں افغان طالبان ان دہشت گردوں کی سرپرستی اور پشت پناہی میں ملوث ہیں جو کہ بھارت کے ہاتھوں استعمال ہو کر پاکستان کے اندر دہشت گردانہ کارروائیاں کر رہے ہیں۔ پاکستان کے پاس افغان سر زمین سے ہونے والی سہولت کاری کے مکمل شواہد موجود ہیں۔ افغان طالبان حکومت بھارت کی زبان میں بات کر رہی ہے، انہیں احساس نہیں ہے کہ پاکستان نے ان کے لئے گزشتہ 30 سال میں کیا کیا قربانیاں نہیں دی ہیں، انہیں دہشت گردی کی جنگ میں اپنی بساط سے بڑھ کر سپورٹ کیا۔ لیکن وہ پھر بھی پاکستان کو قصور وار تصور کرتے ہیں۔
پاک فوج پوری قوت کے ساتھ ملک دشمنوں کے خلاف ایک سے زیادہ محاذوں پر کارروائی کر رہی ہے۔ ہمارے افسروں اور جوانوں کا عزم ہے کہ یہ بڑھتے ہوئے قدم اب آپریشن کی تکمیل تک روکے نہیں جائیں گے۔ پاکستان کی سالمیت کی جنگ دہشت گردوں کا قلع قمع نہیں، یہ بڑی جنگ ہے، یہ پاکستان کو درندوں اور جدید منگولوں و تاتاریوں سے بچانے کی تاریخی لڑائی ہے۔ اس وقت جو عناصر مملکتِ خداداد کی نظریاتی، معاشی، سماجی اور سیاسی بنیادوں کو منہدم کرنے کی کوشش کر رہے ہیں وہ کسی رعایت کے مستحق نہیں ہیں۔ ہماری مسلح افواج کا یہ ایمان ہے کہ دہشت گردی، انسان دشمنی اور اسلامی روایات اور تعلیمات کی روح سے متصادم اس جنگ کا خاتمہ ہو کر رہے گا۔ جس میں جیت پاکستان کے عوام اور مادرِ وطن کے ان سپوتوں کی ہو گی جنہیں اپنی ہی سرزمین پر اسلام کے بعض خود ساختہ علمبرداروں، عاقبت نا اندیش اور باطل طاقتوں سے نبرد آزمائی کا کڑوا گھونٹ پینا پڑ رہا ہے۔ شدت پسندوں کی مسلسل مزاحمت اور بزدلانہ کارروائیوں سے ثابت ہوتا ہے کہ یہ جنگ زمینی حقائق اور اپنی معروضیت کے حوالے سے اربابِ اختیار کے تدبر و حکمت کا بھی ایک بڑا امتحان ہے۔ اس حقیقت کو پیشِ نظر رکھنے کی ضرورت ہے کہ دہشت گرد معاشرے میں بد امنی، خوف و ہراس پھیلانا چاہتے ہیں اور اس کشمکش میں جس حد تک جانے کے امکانات ہیں وہ ہماری اپنی بقا کی جنگ سے منسلک ہیں۔ دہشت گردوں کا ایجنڈا کچھ اور ہے اور اس فیصلہ کن جنگ میں پاک افواج کو اپنی فاتحانہ پیش رفت کے ضمن میں جاں نثاری کا علم بلند رکھتے ہوئے دہشت گردوں اور شدت پسندوں کے خلاف اس جنگ کو آخری اور یادگار جنگ بنانا ہے۔
افغانستان کو پاکستان کے خلاف استعمال نہ ہونے دینا بنیادی طور پر افغان طالبان کی ذمہ داری ہے۔ اگر افغان سر زمین پاکستان کے خلاف استعمال ہوتی ہے، جیسا کہ ہو رہی ہے تو ان دو باتوں کے سوا تیسری کیا بات ممکن ہو سکتی ہے کہ افغان طالبان خود دہشت گردوں کے پشت پناہ ہیں۔ دوم وہ ان کے معاملے میں تساہل، لاپروائی اور غفلت سے کام لے رہے ہیں۔ افغانستان کو اپنی حکمتِ عملی ترتیب دیتے ہوئے یہ بات نہیں بھولنی چاہئے کہ پاکستان ایک اسلامی ریاست ہے جو کہ ایٹمی طاقت کی حامل ہے۔ پاکستان اسلام کا قلعہ، دنیا بھر کے مظلوموں کی امیدوں کا مرکز، ایک ذمہ دار ایٹمی قوت ہے جو آنے والے وقتوں میں مزید قوت حاصل کرے گی۔ استعماری قوتیں تو یہی چاہتی ہیں کہ پاکستان کو کمزور کیا جائے کیونکہ ان کے نزدیک یہی ایک ایسی مسلم قوت ہے جس میں دم خم ہے۔ وہ قوتیں پاکستان میں لسانی اور مسلکی بنیادوں پر انارکی پیدا کرنا اور پاکستانیوں کو ایک دوسرے سے لڑانا چاہتی ہیں جس پر وہ افغانستان کے ذریعے عملدرآمد کرا رہی ہیں جس کے پیچھے بھارت کے وسائل کارفرما ہیں۔ امریکہ تو یہی چاہتا تھا کہ وہ پاکستان سے فوری مفادات حاصل کر کے افغانستان سے نکل جائے اور ہندوستان سے طویل مدتی مفادات جسے ہم سٹرٹیجک مفادات کہتے ہیں جڑا رہے۔ جیسا کہ آج کل صورتحال ہے ہمیں صرف تعریفوں کے ذریعے رام کر رہا ہے جب کہ تمام معاہدے وہ بھارت سے کر رہا ہے جس میں وہ اسے بہت سے فائدے پہنچا رہا ہے۔ امریکہ چین کو کیسے بڑھنے سے روکے اس میں ہندوستان کو ایک اہم کردار ادا کرانا ہے۔
دوسری بات یہ ہے کہ مسلمان تو یوں بھی بھائی بھائی ہیں۔ ارشاد خدا وندی ہے کہ اگر وہ آپس میں لڑیں تو ان میں صلح کروا دو۔ انتہا پسند ہوں یا روشن خیال اور معتدل دونوں خدا کے نام لیوا اور محبوبِ خدا کے پرستار ہیں۔یہی نسبت تو دنیا میں مسلمانوں کی پہچان ہے۔ اس یکجہتی کے ہوتے ہوئے کفار کا آلۂ کار بن کر مرنے مارنے کی نوبت کیوں آئے۔ افغانستان سے ایک بار پھر ہم کہتے ہیں آپس میں جنگ کرنے کا کوئی فائدہ نہیں اپنے ہی لوگوں کو کمزور کرنے سے استعماری قوتوں کے مقاصد پورے ہوں گے۔ باہم گفت و شنید اور مکالمہ ہی صراطِ مستقیم ہے۔ اس پر گامزن ہو کر مستقل امن اور تعلقات بحال ہو سکتے ہیں۔ ملت کے مفاد میں یک زبان ہو کر استعمار پر واضح کریں کہ کسی مسلمان کا ہاتھ اپنے بھائی بندوں پر نہیں اٹھے گا تو وہ وضاحت رائیگاں نہیں جائے گی۔ قرآ ن و سنت پر کاربند لوگ تو امت کی آنکھوں کا نور اور دل کا سرور ہیں۔ افغانستان کو سمجھ لینا چاہئے کہ اگر وہ اپنے دہشت گردانہ رویے سے باز نہیں آئے گا تو پھر پاکستان اسی طرح کسی بھی حد تک جائے گا اور دونوں اطراف بیٹھے ہوئے پاکستان دشمن دہشت گردوں کو ختم کئے بغیر یہ جنگ ختم نہیں کرے گا۔جب تک مفاہمت کی منزل ہاتھ نہیں آتی ہمارے جوان تو دہشت گردی کے سدِ باب پر کمر دستہ رہیں گے۔