لاہور : لاہور کے علاقے ہنجروال میں ایک اور افسوسناک واقعہ سامنے آیا ہے جہاں 10 سالہ گھریلو ملازمہ سونیا کو اس کی مالکن نوشین فرخ اور شوہر فرخ بٹ نے وحشیانہ تشدد کا نشانہ بنا کر موت کے گھاٹ اُتار دیا۔ پولیس نے ملزمان کے خلاف قتل کا مقدمہ درج کر کے انہیں گرفتار کر لیا ہے۔
یہ واقعہ اتفاق ٹاؤن میں پیش آیا جہاں سونیا اپنے مالکان کے گھر کام کر رہی تھی۔ پولیس کے مطابق، سونیا پر تشدد اُس وقت شروع ہوا جب اُس سے کام میں معمولی غلطی ہوئی۔ اس کے بعد، مالکن اور شوہر نے بچی کو ڈنڈوں سے مارنا شروع کر دیا۔ اہل خانہ کو ابتدا میں یہ بتایا گیا کہ سونیا کو صرف معمولی چوٹ آئی ہے، تاہم جب سونیا کی رشتہ دار نے موقع پر پہنچ کر حقیقت دیکھی تو وہ دنگ رہ گئی۔ اُس نے بتایا کہ سونیا کو شدید جسمانی تشدد کا سامنا تھا اور اُس کے جسم پر مار کے نشان تھے۔
سونیا کی والدہ رابعہ نے الزام عائد کیا کہ یہ سارا واقعہ صرف اس لئے پیش آیا کہ ان کی بیٹی نے کام کی ایک چھوٹی سی غلطی کی تھی، جس کی سزا اُس نے اپنی جان کی صورت میں بھگتی۔ "ہمیں بتایا گیا کہ بچی کو اسپتال لے جایا گیا ہے، مگر جب ہم وہاں پہنچے تو ہماری بچی مردہ حالت میں تھی۔" والدہ نے شدید غم و غصے کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ یہ سراسر ظلم اور ناحق قتل تھا۔
پولیس نے بچی کے والدین کی شکایت پر نوشین فرخ اور فرخ بٹ کے خلاف فوری طور پر قتل کا مقدمہ درج کیا اور ملزمان کو گرفتار کر لیا۔ پولیس نے بتایا کہ ملزمان کی گرفتاری کے بعد تحقیقات کا عمل جاری ہے۔
ڈی آئی جی آپریشنز فیصل کامران نے واقعے کا نوٹس لیتے ہوئے کہا کہ اس طرح کے واقعات میں ملوث افراد کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ پنجاب حکومت نے خواتین اور بچوں پر تشدد کے خلاف زیرو ٹالرنس پالیسی اپنائی ہے اور ایسے واقعات پر قانون کے مطابق فوری ایکشن لیا جائے گا تاکہ مزید کوئی بھی بے گناہ انسان تشدد کا نشانہ نہ بنے۔
وزیر اعلیٰ پنجاب کی ہدایت کے مطابق، پولیس نے اس واقعے کی تحقیقات میں تیزی دکھائی ہے تاکہ اس بات کو یقینی بنایا جا سکے کہ ملزمان کو کڑی سزا ملے اور اس قسم کے واقعات کی روک تھام کی جا سکے۔