پاکستانیوں کے سامنے اس وقت وزیر اعلیٰ پنجاب اور وزیر اعلیٰ سرحد دونوں کی کارکردگی موجود ہے ۔ ترقیاتی کاموں کو تو ایک طرف رکھ دیں کیونکہ ایسا کچھ بھی کرنے کا وزیر اعلیٰ کے پی کے سہیل آفریدی کا کوئی دعویٰ ہی نہیں ۔سہیل آفریدی عشق عمران میں مبتلا محبوب کی گلی کے کتے کو ماں باپ پر فضیلت دے رہا ہے سو میں نہیں سمجھتا کہ ایسے مفلوک الذہن شخص کے بارے میں کوئی عقلی گفتگو کی جائے ۔ کے پی کے کے حساس ترین علاقے سوات، باجوڑ، شمالی و جنوبی وزیرستان، دیر، بنّوں اس وقت دہشتگردی کی زد میں ہیں اور اس کیلئے کوئی حوالہ دینے کی ضرورت نہیں کہ شہداء کی تصاویر اور اُن کے معصوم بچوں کے رلا دینے والے مناظر روزانہ کی بنیاد پر پاکستانی قوم کے سامنے ہیں اور اِن مناظر پر بجائے اپنی فوج کا حوصلہ بڑھانے کے ٗ اگر کوئی ان پر ٹرولنگ کراتا ہے تو پھر مجھے اس سے کوئی غرض نہیں کہ وہ دریامیں ڈوب جائے یا پھر گندے نالے میں۔
کے پی کے اور بلوچستان کی سرحدیں افغانستان کے ساتھ ملتی ہیں ۔ افغانستان کھلے عام بھارتی ایما پر پاکستان میں خود کش حملے کرنے والوں کو نہ صرف پناہ دئیے ہوئے ہے بلکہ ان دہشتگردوں کو بھارت سے پہنچنے والی امداد اور احکامات بھی پہنچا رہا ہے ۔افواج پاکستان ان کیمپوں کو برباد کر رہی ہے لیکن افغان طالبان اس سے کسی صورت باز آنے کیلئے تیار نہیں ۔یعنی ایک بات تو طے ہے کہ تحریک طالبان پاکستان کے ’’مقامی باس ‘‘ افغان طالبان ہی ہیں جو بھارت اور تحریک طالبان کے درمیان مڈل مین کا کردار ادا کر رہے ہیں ۔ بلوچستان میں تو فتنہ الہندوستان کو افواج ِ پاکستان نے نکیل ڈال کر رکھی ہوئی ہے اور لا پتہ افراد بھی بھارتی پراکسی بن کر مارے جانے کے بعد پاکستانی قوم کے سامنے ا ٓ رہے ہیں جس سے اُس مظلومیت کا بھانڈا بھی پھوٹ رہا ہے جس کو بنیاد بنا کر پنجابیوں کا قتل عام اور افواج ِ پاکستان پر حملے اور پروپیگنڈا کیا جاتا ہے ۔محترمہ بے نظیر بھٹو شہید کی جرأت کو سلام کے اُس نے پنجاب کی سرزمین پر کھڑے ہو کر لیاقت باغ میں طالبان کو للکارتے ہوئے کہاتھا :’’ یہ چاہتے ہیں کہ سوات میں پاکستان کا پرچم نہ لہرائے ٗ اب ہم آ گئے ہیں ٗ ہم بچائیں گے پاکستان تم بچائو کے پاکستان ۔‘‘ محترمہ شہید سارا پاکستان بچانا چاہتی تھی یہ الگ بات ہے کہ سارا پاکستان مل کر انہیں نہ بچا سکا ۔زندگی اتنی قیمتی شے بھی نہیں کہ اس پر عزت ٗ وقار ٗ آزادی اورناموس جیسی نعمتیں قربان کردی جائیں ۔انسان فنا ہونے کیلئے ہے وہ جد و جہد کرے یا نہ کرے لیکن دنیا میں آنے کا مقصد تب ہی پورا ہوتا ہے کہ جب قاتل کی کلائی پکڑ کر اُس کے ہاتھ سے وہ خنجر چھین لیا جائے جو انسانیت کے کلیجے میں اتر رہا ہو ۔ محترمہ شہیدہ کے بعد پنجاب سے دوسری توانا آواز دہشتگردوں کے خلاف وزیر اعلیٰ پنجاب محترمہ مریم نواز صاحبہ نے بلند کی ہے۔ کشمیری النسل اس پنجابی خاتون سے مجھے اس سے زیادہ بہادری کی توقع ہے کہ وہ سخت ترین فیصلے لینے میں کسی تذبذب ٗ خوف یا سیاسی مصلحت کا شکار نہیں ہو رہیں ۔لوگ یا تو اخلاق سے درست ہوتے ہیں یا پھر سزا سے اور میں سمجھتا ہو ں کہ ہم اخلاق سے سیکھنے کے مقام سے گزر چکے ہیں ۔دہشتگردی پر ری ایکشن دینے کے بجائے دہشتگردوں کے خلاف پیشگی کارروائی کی پالیسی بنا دی گئی ہے جسے میں صوبہ پنجاب کیلئے خوش آئند سمجھتا ہوں ۔دہشتگردی کے ہر رستے کو بنذ کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے تاکہ پنجاب پاکستان کا سب سے محفوظ صوبہ قرار پائے۔ پیف ٹیک بظاہر ایک لفظ ہے لیکن اس میں انگنت نظام موجود ہیں جو دہشتگردوں اور جرائم پیش افراد کیلئے یقینا ایک بُری خبر ہے ۔
کے پی کے میں جہاں دہشت گرداپنے منصوبوں پر عمل درآمد کیلئے نت نئے طریقے اختیار کر تے رہتے ہیں وہیں حالیہ برسوں میں دہشتگردی کے بڑھتے واقعات کے بعدافواج پاکستان نے ایک کثیرالجہتی حکمت عملی اپنارکھی ہے۔جس میں انٹیلی جنس پر مبنی آپریشنز حساس اضلاع میں فوج ٗ پولیس اورسی ٹی ڈی نے جاری رکھے ہوئے ہے۔یہ کارروائیاں پری ایمپٹیو یعنی حملے سے پہلے حملے کو روکنے کی کوشش ہوتی ہیں۔افغانستان کے ساتھ طویل ترین سرحد ہونے کے ناتے اور افغان طالبان کا بھارت اور تحریک طالبان کے درمیان پل کا کردار ادا کرنے کے بعد افواج ِ افغانستان کے ساتھ سرحدی علاقوں میں چیک پوسٹس دوبارہ مضبوط کی گئی ہیں۔جہاںنگرانی کے لیے ڈرون، نائٹ وژن آلات اور جدید سسٹمز بڑھائے گئے ہیں۔تاکہ بزدل دشمن کی ہر حرکت پر نظر رکھی جا سکے اور اُسے فوری جواب بھی دیا جا سکے ۔ حساس اور کے پی کے، کے دوسرے اضلاع میں CTD پولیس کی نئی بھرتیاں، خصوصی تربیت اور جدید ٹیکنالوجی فراہم کی جا رہی ہے تاکہ زیادہ موثر اور طاقت کے ساتھ بھارت اور تحریک طالبان کے دہشتگردی اتحاد کو نہ صرف روکا بلکہ اُسے منطقی انجام تک بھی پہنچایا جا سکے ۔ اس کے علاوہ مالیاتی دہشتگردی کے خلاف خصوصی سیل بنائے گئے ہیںتاکہ پیسے کے بل بوتے پر ہونے والی دہشتگردی شروع ہونے سے پہلے دم توڑ دے ۔کے پی کے، کے زیادہ تر اضلاع میں آپریشن شارپ اینڈ کلیرنس جاری ہے جس میں افواج ِ پاکستان اور پولیس مشترکہ اس قومی فریضے کوسرانجام دے رہے ہیں ۔اس اتحادی آپریشنز کے نتیجہ میں لا تعداد دہشتگرد مارے گئے یا گرفتار ہوئے ۔پولیس
اور فوج کی مشترکہ گشت بڑھائی جا رہی ہے تاکہ حملوں کی فریکوئنسی کم سے کم ہو سکے ہو۔دنیا کی کوئی فوج اپنی مقامی آبادی کی مدد کے بغیر ریاست کے اندر چھپے دشمنوں کو اُن کی بلوں سے باہر نہیں نکال سکتی ۔ مقامی کمیونٹی کے ساتھ رابطے بڑھائے جا رہے ہیں تاکہ شکایات، مشکوک سرگرمیوں اور غیر معمولی نقل و حرکت کی فوری اطلاع مل سکے۔ اس سلسلے میں کئی اضلاع میں محلے اور دیہات کی سطح پر حفاظتی کمیٹیاں بنائی گئی ہیں۔ وطن ِ عزیز کے بیٹے دن رات طالبانی ناسور کو ختم کرنے کیلئے بہترین صلاحیتوں کے ساتھ دشمنوں سے نبرد آزما ہیں لیکن وزیر اعلیٰ کے پی کے اِن تمام جنگی حکمت ِ عملیوں سے لا تعلق اسلام آباد میں براجمان عیش کے دن گزار رہے ہیں۔ اُن کا کہنا ہے کہ کے پی کے عوام نے انہیں عمران نیازی کی رہائی کیلئے مینڈیٹ دیا ہے یہ کیسا مینڈیٹ ہے کہ جب بھی پی ٹی آئی احتجاجی کال دیتی ہے تو مینڈیٹ دینے والے سلیمانی ٹوپیاں پہن کر رفوچکر ہوجاتے ہیں ۔حالت ِ جنگ میں اپنے لوگوں کو تنہا چھوڑنا بدترین بزدلی اور احسان فراموشی ہوتی ہے ۔ کے پی کے سلگ رہا ہے لیکن مینڈیٹ لینے والے اپنے لین دین کے معاملات سیٹل کر رہے ہیں۔سہیل آفریدی اُس سپاہی قبیلے سے تعلق رکھتا ہے جسے جنگ کے وقت چھٹی چاہیے ہوتی ہے ۔ سہیل آفریدی فوج کے ساتھ نہیں لیکن کے پی کے، کے عوام فوج کے ساتھ ہیں اور اللہ کی مدد کے بعد یہی کافی ہیں ۔