اگر بغور جائزہ لیا جائے تو یہ حقیقت اظہر من الشمس ہونے میں لمحہ بھر بھی تاخیر نہیںکرتی کہ دُنیا کے پاس چینی قوم سے سیکھنے کے لیے بہت کچھ ہے۔ چین کی چند دھائیوں میں جس حیرت انگیز ترقی نے دُنیا کو ورطہ حیرت میں ڈال رکھا ہے۔یقینا چینی قوم میں آگے نکلنے کی یہ تڑپ یونہی تو پیدا نہیں ہوئی ۔عزم و ہمت اور خون کی ایک طویل لکیر ہے جسے چینی معاشر ے کو پاٹنا پڑا۔محنت و استقامت تو جیسے چینی قوم کا ہمیشہ سے طرہ امتیار رہا ہے ۔ صدیوں سے زمین کے سینے پر دیوار چین اس کا منہ بولتا ثبوت ہے ۔تاریخ میں ایسے کئی مدو جزرآئے جہاں چینی قوم نے سخت تکلیف و مصائب کا سامنا کیا تاہم اس کے پایہ استقلال میں کمی نہیں آئی۔ ماضی میں غیر ملکی حملہ آوروں نے چین پر کئی حملے کیے اور اس کے بعض حصوں پر قبضہ کرنے میں کامیاب بھی رہے تاہم وہ یہ قبضہ زیادہ عرصہ برقرار نہ رکھ سکے اور انہیں ہزیمت اُٹھا کر راہ فرار اختیار کرنا پڑی ۔ ویسے تو چین ایک قدیم ملک ہے تاہم گزشتہ ایک صدی کے دوران یہاں کیا کچھ رونما ہوا اور چینی قوم نے اپنی آزادی کی حفاظت کیسے کی ، پاکستانی قوم کو اس سے آشنا کرنے کے لیے چند روز قبل لاہور میں چینی قونصل خانے نے جاپانی جارحیت کے خلاف چینی عوامی مزاحمت اور عالمی فسطائی جنگ کے خلاف جنگ کی فتح کی 80 ویں سالگرہ کے موقع پر الحمرا آرٹ سینٹر میں ’’وار فار پیس‘‘ چینی فلمی نمائش کا افتتاح کیا۔فلم کا مرکزی خیال وہ قربانیاں اور عزم و استقامت تھی جس کا عملی مظاہرہ چینی عوام نے جاپانی حملے کے دوران کیا۔چین کے قائم مقام قونصل جنرل مسٹر کاو کی نے اس موقع پر خطاب بھی کیا ۔انہوں نے اس امر پر روشنی ڈالی کہ 80 سال قبل، 14 سال کی بہادرانہ جدوجہد کے بعد، چین نے جاپانی جارحیت پرچینی قوم نے لازوال قربانیوں دیکراپنی آزادی کی ایک بڑی قیمت ادا کی۔اس دوران لگ بھگ 35 ملین سے زائد جانوں کا نذرانہ پیش کیا گیا اور اتحادیوں کی فتح میں فیصلہ کن کردار ادا کیا۔چینی عوام کے اس کٹھن کردار نے نہ صرف اقوام متحدہ کے تحت ایک پراُمن بین الاقوامی نظام کے قیام کو یقینی بنایا بلکہ تائیوان کی چین کے ساتھ بحالی کی تصدیق بھی کی۔ آج 183 ممالک ون چائنا کے اصول کو تسلیم کرتے ہیں، جو تاریخ کے نہ تھمنے والے ایک مثبت انقلاب کا آئینہ دار ہے۔ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں ایک ساتھ خدمات انجام دینے والے تمام شراکت داروں کے طور پر، چین اور پاکستان جو ایک دوسرے کے سچے دوست بھی ہیں، کسی بھی تسلط کے خلاف اقوام متحدہ کے تحت میں قائم بین الاقوامی نظم، خودمختاری اور علاقائی سالمیت کے دفاع میں مضبوطی سے ایک ساتھ کھڑے ہیں۔ اُن کا یہ بھی کہنا تھا کہ آج ہم ثقافتی تبادلے کے ذریعے اس تاریخ کو عزت دیتے ہیں۔ چینی قونصل خانہ ہمیشہ چین اور پاکستان کے درمیان ثقافتی تعلقات کو مضبوط بنانے کے لیے کوشاں رہا ہے۔ اس سال کے شروع میں ہمارے کامیاب چینی فلم فیسٹیول کے بعد، اس تھیمڈ اسکریننگ میں اگلے تین دنوں میں دہائیوں اور انواع پر محیط دس فلمیں دکھائی جائیں گی۔ ان میں The Hundred Regiments Offensive کی مہاکاوی لڑائیاں، کلف واکرز کے بہادر جاسوس، اور The Sinking of the Lisbon Maru کی خوفناک حقیقت پسندی شامل ہیں۔ ہر فریم ان ہیروز کا احترام کرتا ہے جنہوں نے ہمارا امن قائم کیا اور تاریخ کے اسباق کو فراموش کرنے کے خلاف خبردار کیا۔ تاریخ کو فراموش کرنے کا مطلب دھوکہ ہے، یہ تمام شاہکار ہمیں یاد دلاتے ہیں کہ ہمیں ماضی میں دی گئی قربانیوں کو کبھی فراموش نہیں کرنا چاہیے، آج کی پرامن زندگی کی قدر کرنی چاہیے، اور ایک ساتھ مل کر انسانیت کے لیے مشترکہ مستقبل کے ساتھ ایک کمیونٹی بنا کر ایک روشن آنے والے کل کو حاصل کرنا چاہیے۔
25 اگست تک جاری رہنے والی اس نمائش میں متعدد انواع پر محیط تنقیدی طور پر سراہی جانے والی دس فلمیں پیش کی گئی ہیں، جن میں مہاکاوی جنگ کی داستان The Hundred Regiments Offensive، جاسوسی سے متعلق سنسنی خیز فلم کلف واکرز، اور پُرجوش جنگی دستاویزی فلم The Sinking of the Lisbon Maru شامل ہیں۔ یہ پروڈکشنز چینی سنیما کے ارتقاء کو ظاہر کرتے ہوئے چین کے جنگ کے وقت کے تجربات کو فنکارانہ طور پر بیان کرتی ہیں۔ اس تقریب میں لاہور کی ثقافتی، علمی اور کاروباری برادریوں کی جانب سے بڑے پیمانے پر شرکت کی گئی ہے، جو سامعین کو فنی لطف اور تاریخی تعلیم دونوں پیش کرتے ہیں۔
قارئین! دیکھا جائے تو حالیہ پاک بھارت جنگ میں جس طرح چین اور پاکستان نے دفاع سمیت دیگر اہم شعبہ ہائے زندگی میں قریبی تعاون اور دوستی کی جن نئی منزلوں کو طے کیا ہے وہ یقینا ناقابل نظیر ہیں۔ پاکستانی قوم چینی قوم کے تجربات اور علم و مہارت سے بھی بہت کچھ سیکھ سکتی ہے ۔اسی طرح چینی قوم بھی پاکستانی عوام کے عزم و ولولے کے نئے پہلووں سے روشناس ہوسکتی ہے۔باہمی تعاون کی یہ فکر عوامی سطح پر بھی ایک نئے دور میں داخل ہونی چاہیے۔ سرکاری سطح سے ہٹ کر عوامی سطح پر وفود کے تبادلے اور ایک دوسرے کی عوام کے لیے اپنے تعلیمی و ثقافتی اداروں کے دروازے وا کرنے سے پاکستان اور چین دوستی کے مضبوط بندھن کو نئے بلندیوں سے روشناس کرواسکتے ہیں۔ یہ امر یاد رہے کہ چین کے پھیلتے ہوئے معاشی و علاقائی سکیورٹی کے ڈیزائن میں پاکستان کا ایک کلیدی کردار رہا ہے اورا ٓئندہ بھی رہے گا۔ ایسے میں اسلام آباد کوبھی بین الاقوامی سطح پر اپنی خارجہ پالیسی میں چین اور امریکہ کے ساتھ اپنے تعلقات میں توازن قائم کرنے کی بجائے اب اپنا وزن زیادہ چین کے پلڑے میں ڈالنا ہوگا ۔عالمی منظر نامے میں اپنا مقام بڑھانے اور اپنے دفاع و سکیورٹی کو مضبوط بنانے میں یہی اس کے حق میں بہتر رہے گا۔