کہتے ہیں اگر کسی ملک کی تہذیب اور ثقافت کو فتح کر لیا جائے تو اس کی سرحدوں اور شہروں کو فتح کرنا چہل قدمی رہ جاتا ہے۔ ہالی ووڈ نے ہمارے سمیت پوری دنیا کو ذہنی طور پر اپنی فلموں کے ذریعے فتح کیا پھر بھارت کی فلم انڈسٹری نے رہی سہی کسر نکال دی۔ بھارت بھوک، جرائم، غربت کا گڑھ ہے مگر فلموں میں دکھایا جانے والا بھارت تو لگتا ہے جیسے تیسری عالمی قوت بننے جا رہا ہے حقیقت یہ ہے کہ ٹرمپ کے انگنت بیانات میں اگر کوئی سچا خالص اور حقیقت کی عکاسی کرتا ہوا بیان ہے تو وہ ہے کہ ”بھارت جہنم کا گڑھا ہے“۔ مگر فلموں نے بھارت کو اونچا کر دیا ہے وہ تو فیلڈ مارشل نے ساڑھے چار گھنٹے میں گھٹنوں پر آنے کو مجبور کر دیا۔ آتے ہیں موضوع کی طرف، لاہور کی ادبی ثقافت کا گہوارہ اور علامت پاک ٹی ہاو¿س بکا، ایک شور برپا ہو گیا۔ اس کا مطلب یہ تھا کہ لکھاریوں، ادیبوں، شاعروں، دانشوروں نے قوم کو ثقافت کو، معاشرت کو مایوس نہیں کیا تھا۔ عام آدمی بھی پاک ٹی ہاو¿س مال روڈ سے وابستہ لگا۔ حکومت نے پلاک بنا دیا اور دیگر ادارے بنائے مگر پاک ٹی ہاو¿س کا کوئی نعم البدل نہ بن سکا۔ دوسری جانب ہماری فلم انڈسٹری جو زوال پذیر ہو کر آنجہانی ہو گئی۔ اس میں فلم ساز، ہدایت کار اور لکھاری وہ نہ رہے جو ماضی میں تھے، ویسے فنکار بھی نہ رہے لہٰذا شاہنور سٹوڈیو کھنڈرات میں بدلا۔ اب باری سٹوڈیوز بِک گیا۔ اُس کی 100 کنال سے زائد جگہ بِک چکی لوگوں نے کچھ پروا نہ کی وہ تو تب پتہ چلا جب لِونگ لیجنڈ ماضی کی معروف اداکارہ ممتاز بیگم کے کلپ سوشل میڈیا پر دیکھے گئے۔ راحیل باری کے بچے جو ممتاز بیگم کے عقد سے ہیں، ذیشان راحیل باری اور رابعہ راحیل باری کو جائیداد سے حصہ نہیں دیا جا رہا۔ تب پتہ چلا کہ باری سٹوڈیوز کی حیثیت بھی بدل گئی ہے۔ رفعت قزلباش المعروف ممتاز بیگم کو پتہ نہیں بچوں کا حق ملا یا نہیں۔ بھارت اور ہالی ووڈ میں فنکاروں کے نام چوک چوراہوں سڑکوں کو دئیے جا رہے ہیں، ہمارے ہاں سٹوڈیوز بک رہے ہیں۔ فنکار اپنا موروثی حق مانگ رہے ہیں، کسی نے ممتاز بیگم سے پوچھا کہ آپ کو حق مل جائے گا؟ انہوں نے کہا کہ مریم نواز کہتی ہیں ”جتھے پھسو مینوں دسو“ اور ”مریم سے بات کرو“ باقاعدہ ایک ایپ ہے۔ پھر چونکہ وہ عرصہ 20 سال سے کینیڈا جا چکی ہیں اوورسیز پاکستانیوں کے لیے بھی حکومت خاص مراعات رکھتی ہے۔ حکومت نے کروڑوں اربوں روپے کے پیکیج اعلان کیا ہے۔ میرے خیال سے نئی نسل کے لوگوں تعلیم یافتہ نوجوانوں کو موقع دینا چاہیے۔ دو دو منٹ کی دو کرداروں کے ساتھ شاہکار تھیسز فلم بنانے والے امیر حمزہ کو موقع دینا چاہیے۔ حکومتی خزانے کی اس نام پر بندربانٹ کر دی گئی تو سخت زیادتی ہو گی۔ البتہ سنا ہے حکومتِ پنجاب کے حالیہ فلمی پیکیج کو محض ایک پالیسی اعلان سمجھ کر نظر انداز کرنا شاید جلد بازی ہو گا، کیونکہ یہ اقدام ایک ایسے شعبے کو دوبارہ زندہ کرنے کی کوشش ہے جو کبھی پاکستان کی ثقافتی شناخت کا اہم ستون تھا۔ فلم انڈسٹری کا زوال محض معاشی مسئلہ نہیں بلکہ ایک تہذیبی خلا بھی ہے، جسے پُر کرنا وقت کی اہم ضرورت بن چکا ہے۔ اگر اس پیکیج کو سنجیدگی، تسلسل اور وژن کے ساتھ نافذ کیا جائے تو یہ نہ صرف ثقافتی بحالی بلکہ معاشی سرگرمیوں کے فروغ کا ذریعہ بھی بن سکتا ہے۔ اس تناظر میں سیاسی قیادت کا کردار غیر معمولی اہمیت اختیار کر جاتا ہے۔ میاں نواز شریف کی شخصیت کو اگر ایک وسیع تناظر میں دیکھا جائے تو ان میں بڑے منصوبوں کو تصور دینے اور انہیں عملی شکل دینے کی صلاحیت نمایاں نظر آتی ہے۔ یہ ان کی وژنری سوچ کی عکاسی ہے، جو کسی بھی ثقافتی پالیسی کو سمت دینے میں مددگار ہو سکتی ہے۔ اگر یہی وژن فلمی صنعت کی بحالی میں جھلکے تو ایک مربوط اور دیرپا حکمت عملی تشکیل دی جا سکتی ہے۔ اسی طرح مریم نواز کی متحرک، عوام دوست اور فعال طرزِ حکمرانی اس پیکیج کے عملی نفاذ میں کلیدی کردار ادا کر سکتی ہے۔ ان کا براہِ راست عوامی رابطہ اور فوری فیصلوں کا انداز بیوروکریٹک رکاوٹوں کو کم کرنے میں معاون ثابت ہو سکتا ہے۔ فلمی صنعت کے نوجوان تخلیق کاروں، ہدایت کاروں اور تکنیکی ماہرین کو براہِ راست سہولتیں اور مواقع فراہم کیے جائیں تو ایک نئی تخلیقی لہر جنم لے سکتی ہے، جو اس پیکیج کی اصل کامیابی ہو گی۔ مزید برآں عظمیٰ بخاری بطور ایک چابک دست وزیر اس پالیسی کی تشہیر اور مو¿ثر پیش رفت میں اہم کردار ادا کر سکتی ہیں۔ ان کی میڈیا ہینڈلنگ اور بیانیہ سازی کی مہارت فلمی صنعت کو ایک مثبت اور پُرکشش انداز میں پیش کرنے میں مدد دے سکتی ہے، جو سرمایہ کاروں اور ناظرین دونوں کے اعتماد کو بحال کرنے کے لیے ضروری ہے۔ پیکیج کے عملی پہلوو¿ں پر نظر ڈالیں تو فلم سازوں کے لیے مالی مراعات، ٹیکس میں چھوٹ، جدید آلات کی فراہمی اور فلم سٹی کے قیام جیسے اقدامات بلاشبہ اہم ہیں۔
تاہم، اصل چیلنج ان اقدامات کا شفاف اور مو¿ثر نفاذ ہے۔ ماضی کے تجربات یہ بتاتے ہیں کہ محض اعلانات سے نتائج حاصل نہیں ہوتے، بلکہ ایک مضبوط ادارہ جاتی ڈھانچہ اور احتساب کا نظام بھی ناگزیر ہوتا ہے۔ یہ امر بھی قابلِ توجہ ہے کہ فلم انڈسٹری صرف معیشت کا حصہ نہیں بلکہ ایک معاشرتی آئینہ بھی ہے۔ معیاری فلمیں نہ صرف تفریح فراہم کرتی ہیں بلکہ معاشرے کی سوچ، اقدار اور مسائل کو بھی اجاگر کرتی ہیں۔ اس لیے ضروری ہے کہ اس پیکیج میں مواد کے معیار کو بہتر بنانے، سکرپٹ رائٹنگ، فلمی تعلیم اور تکنیکی تربیت پر بھی خصوصی توجہ دی جائے۔ اگر صرف سبسڈی اور مالی مراعات پر انحصار کیا گیا تو یہ ترقی عارضی ثابت ہو سکتی ہے۔ آخرکار، یہ کہنا درست ہو گا کہ حکومتِ پنجاب کا یہ فلمی پیکیج ایک سنجیدہ کوشش کا آغاز ہو سکتا ہے، بشرطیکہ اسے محض نمائشی اقدام نہ بننے دیا جائے۔ اگر سیاسی قیادت اپنی توانائیاں، وژن اور عملی اقدامات کو یکجا کر دے تو یہ منصوبہ نہ صرف فلمی صنعت کو بحال کر سکتا ہے بلکہ پاکستان کے سافٹ امیج کو بھی عالمی سطح پر مضبوط بنا سکتا ہے۔