واشنگٹن/اسلام آباد: امریکی صدر نے اپنے تازہ ترین انٹرویو میں عالمی سفارتی افق پر پاکستان کے بڑھتے ہوئے قد کا اعتراف کرتے ہوئے وزیراعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل کو "قابل اور بہترین لوگ" قرار دے دیا ہے۔ صدر کا یہ بیان ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب پاکستان، ایران اور امریکہ کے درمیان جاری کشیدگی کو ختم کرانے کے لیے ایک کلیدی ثالث کے طور پر ابھرا ہے۔
امریکی صدر نے ایرانی قیادت کو براہِ راست پیغام دیتے ہوئے کہا کہ اگر ایران جنگ کا خاتمہ چاہتا ہے تو وہ ہمیں کال کر سکتا ہے۔ اب مزید مشاورت فون کے ذریعے ہوگی۔ صدر نے واضح کیا کہ افزودہ یورینیم کا معاملہ مذاکرات کا لازمی حصہ ہے اور امریکہ اسے حاصل کر کے رہے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ ایران میں کچھ لوگ اچھے ہیں اور کچھ نامناسب، امید ہے کہ سمجھدار طبقہ مذاکرات کو ترجیح دے گا۔
صدر نے ایک بار پھر پاکستان کی عسکری برتری کی گواہی دیتے ہوئے دعویٰ کیا کہ پاکستان نے جنگ کے دوران بھارت کے 11 طیارے مار گرائے تھے۔ انہوں نے اس کامیابی کو پاکستان کی پیشہ ورانہ مہارت کا ثبوت قرار دیا۔صدر نے عالمی اتحادوں پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا نیٹو اتحاد جنگ کے کڑے وقت میں ہماری مدد کے لیے سامنے نہیں آیا۔
رپورٹ کے مطابق، ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے اسلام آباد میں فیلڈ مارشل سے 24 گھنٹوں میں دو اہم ملاقاتیں کیں، جس میں مستقل جنگ بندی کے فارمولے پر اتفاق رائے پیدا کرنے کی کوشش کی گئی۔ ان ملاقاتوں کے فوری بعد ایرانی وزیر خارجہ اہم پیغام لے کر روس روانہ ہو گئے ہیں جہاں وہ صدر پیوٹن سے ملاقات کریں گے۔