Wed, September 16, 2026

حماس نے 5سالہ جنگ بندی کے بدلے اسرائیلی قیدیوں کی رہائی کی پیشکش کر دی

حماس نے 5سالہ جنگ بندی کے بدلے اسرائیلی قیدیوں کی رہائی کی پیشکش کر دی

غزہ :  فلسطینی تنظیم حماس نے کہا ہے کہ اگر اسرائیل غزہ پر پانچ سال کے لیے حملے بند کر دے تو وہ اپنے پاس موجود تمام اسرائیلی قیدیوں کو رہا کرنے کو تیار ہے۔

یہ بات حماس کے ایک رہنما نے غیر ملکی خبر رساں ادارے کو بتائی، تاہم انہوں نے اپنی شناخت ظاہر نہیں کی۔ ان کا کہنا تھا کہ حماس ایک مکمل قیدیوں کے تبادلے اور طویل جنگ بندی پر راضی ہو سکتی ہے، لیکن آدھی ادھوری جنگ بندی پر نہیں۔

خیال رہے کہ اس سے پہلے حماس نے اسرائیل کی اُس پیشکش کو مسترد کر دیا تھا جس میں 45 دن کے لیے جنگ بندی کے بدلے 10 اسرائیلی قیدیوں کی رہائی کی بات کی گئی تھی۔

حماس کا مؤقف ہے کہ کسی بھی معاہدے میں صرف قیدیوں کا تبادلہ نہیں، بلکہ غزہ سے اسرائیلی افواج کا انخلا، فلسطینی علاقوں میں امداد کی فراہمی، اور مسئلہ فلسطین کا مستقل حل شامل ہونا چاہیے۔ دوسری طرف اسرائیل کا مطالبہ ہے کہ حماس سمیت تمام مزاحمتی گروپ ہتھیار ڈالیں اور قیدیوں کو فوری طور پر رہا کیا جائے۔

یاد رہے کہ یہ لڑائی 7 اکتوبر 2023 کو اس وقت شروع ہوئی تھی جب حماس نے اسرائیل پر حملہ کیا، جس میں 1,218 اسرائیلی ہلاک ہوئے اور 251 کو قید کر لیا گیا۔ اب تک کئی قیدی رہا کیے جا چکے ہیں، لیکن حماس کے پاس اب بھی 58 اسرائیلی موجود ہیں۔

اس سے پہلے قطر، مصر اور امریکا کی کوششوں سے جنوری سے مارچ تک عارضی جنگ بندی ہوئی تھی، جس دوران 33 اسرائیلی قیدی واپس کیے گئے اور بدلے میں اسرائیل نے 1,800 فلسطینی قیدیوں کو رہا کیا تھا۔ غزہ کی وزارت صحت کے مطابق صرف مارچ سے اب تک 2,062 فلسطینی شہید ہو چکے ہیں، جبکہ مجموعی شہادتوں کی تعداد 51 ہزار سے بھی زیادہ ہو گئی ہے۔

ٹیگز: