Wed, September 16, 2026

عمران نیازی کا ’’کریمنل آرٹ‘‘

عمران نیازی کا ’’کریمنل آرٹ‘‘

جو دوست یہ سمجھتے ہیں کہ میں آج فوج کی حمایت میں لکھ رہا ہوں اور کبھی بہت بڑا انقلابی تھا جو سب کچھ تہہ و بالا کر دینے پر یقین رکھتا تھا۔ میں ایسے دوستوں کیلئے گزشتہ چالیس سال کی تحریروں میں سے صرف افغان جنگ، طالبان اور افواج پاکستان کے حوالے سے اپنی تحریروں اور تقریروں کو کتابی شکل دے رہا ہوں۔ میری زندگی میں ایک دن بھی ایسا نہیں گزرا کہ میں نے افغان جنگ یا افغانی دہشتگردوں کی حمایت کی ہو۔ بھلا یہ کیسے ممکن ہے کہ بیک وقت آپ دہشت گردوں اور افواج پاکستان کی مخالفت کرسکیں ۔ یہ حماقت تو عمران نیازی جیسے غیر سیاسی ذہن رکھنے والے نے بھی نہیں کی ۔ اُس نے طالبان کو اپنی سپہ ڈکلیئر کرکے پاکستانی فوج کو آڑے ہاتھوں لیا یعنی بیک وقت تو اُس نے بھی دونوں کے ساتھ دشمنی مول نہیں لی ۔ مہذب شہری بارے میں ذوالفقار علی بھٹو کی تعریف سے متفق ہوںکہ ’’ مہذب شہری صرف اپنے اداروں پر اعتبار کرتا ہے ۔‘‘ اور بھٹو نے ایسا کرکے بھی دکھایا اُس نے جان دیدی لیکن افواج ِ پاکستان پر حملے نہیں کرا ئے بلکہ اپنے دونوں بیٹوں سے قطع تعلق کر لیاجنہوں نے الذوالفقار تشکیل دی۔ میرا موقف کبھی انارکی پھیلانے کا نہیں رہا اور یہی وجہ تھی کہ میں کبھی عمران نیازی کی آنکھ کا تارا نہیں رہا۔ اُس کا پسندیدہ مقرر ہونے کے باوجود طالبان کے حوالے سے میں ہمیشہ عمران نیازی کے نزدیک ایک ناپسندیدہ شخص تھا۔ عالمی سیاسی معروض نے تحریک انصاف کے دانشوڑوںکو پھنسا کر رکھ دیا ہے ۔ بھارت کی پاکستان کے ہاتھوں شکست کو دنیا نے تسلیم کرلیا۔ یقینا یہ تحریک انصاف کے بیانیے کی شکست تھی کہ جو اسے ’’ نورا کشتی ‘‘سے تعبیر کرتے تھے۔سعودیہ سے دفاعی معاہدہ چونکہ ایک ایسی ریاست کے دفاع کا معاہدہ ہے کہ اگر یہ معاہدہ نہ بھی ہوتا تو ہم حرم ِپاک اور روضہ رسول ؐ کی غیر علانیہ فوج تھے۔ پس یہ تو ثابت ہوا کہ حجاز ِ مقدس میںمانیکا فیملی کے ساتھ ننگے پائوں پھرنے سے معاملات حل نہیں ہوتے بلکہ وہاںسارا کھیل دماغ کا تھا اور دماغ پائوں سے بہرحال بہت دور ہوتا ہے۔ غزہ کے حوالے سے دنیا بھر سے وہی موقف آناشروع ہو چکا ہے جو پاکستان کا ہے اور بلاشبہ یہ پاکستان کی جیت ہے ۔ مشرق میں بنتے ہوئے نئے بلاکس نے ٹرمپ کو وزیر اعظم پاکستان اور فیلڈ مارشل سے ملنے پر مجبور کردیا اور جس طرح کے بیانات، ویڈیوز اور تصاویر آ رہی ہیں اُس نے پاکستان کے دشمنوں کو برباد کرکے رکھا دیاہے ۔ وزیر اعظم پاکستان میاں شہباز شریف کی قیادت میں سعودیہ عرب، ترکی، انڈونیشیا، قطر، یو اے ای، مصر اور اردن کے رہنمائوں کی ٹرمپ سے ملاقات نے بہت سے دانشوڑوں کے تجزیوں کے محلات زمیں بوس کر دیئے ہیں۔ معلوم ہوتا ہے کہ فلسطین کا مسئلہ کہیں نہ کہیں حل ہو چکا ہے اور کچھ بعید نہیں کہ یہ اعلان بھی جلد ہو جائے لیکن فیصلہ جو بھی ہو سب سے پہلے اسرائیل کو جنگ شروع ہونے سے پہلے کے مقامات پر لوٹنا ہو گا ۔ پاکستان کرکٹ ٹیم بھارت سے فائنل کھیلتی دکھائی دے رہی ہے اور ایک بار پھر دنیا بھر میں رافیل کا ذکر کرکٹ کے میدانو ں سے لے کر سوشل میڈیا تک سنائی دے گا ۔ فیلڈ مارشل عاصم منیر جس مقام پر فائز ہو چکا ہے اُس نے حق اورباطل کے خلاف ایک واضح لکیر کھینچ دی ہے ۔ سیلاب گزر گیا لیکن اُس کی تباہ کاریاںآج بھی پاکستان کے طول و عرض میں پھیلی ہوئی ہیں ۔ کہاں گئے وہ ’’کی بورڈ وارئیرز‘‘ جنہوں نے ایسا طوفان بدتمیز اٹھا لیا تھا کہ گویا طوفان نو ح پاکستان سے ٹکرا گیا ہو لیکن آج جب ان لٹے پٹے بھائیوں کو مدد کی ضرورت ہے توعبد العلیم خان ہی نظر آ رہا ہے اور اُس کی خدمات صرف پارک ویو کے مکینوں کیلئے نہیں ہیں بلکہ عبد العلیم خان ہر اُس جگہ پہنچ رہا ہے جہاں دم توڑتی انسانیت مدد کی طلب گا ر ہے ۔ اس سیلاب نے دودھ پینے والے اورخون دینے والے مجنوں الگ الگ کردیئے ہیں ۔ میں عبد العلیم خان کی خدمات پر گہری نظر رکھے ہوئے ہوں اور جانتا ہوں کہ وہ سیلاب کی مکمل تباہ کاریوں کے خاتمے تک چین سے نہیں بیٹھے گا اورنہ ہی کسی کو بیٹھنے دے گا ۔ یوتھیا بریگیڈ پھر پورے یقین کے ساتھ کہہ رہی ہے کہ ’’ کپتان ڈٹ کر کھڑا ہے۔‘‘ حالانکہ وہ خود اسٹیبلشمنٹ سے مذاکرات کا عندیہ پہلے دن سے دے رہا ہے جبکہ آئین پاکستان کی جعلی حکمرانی کی بات کرنے والوں کو یہ علم نہیںکہ آئینِ پاکستان اسٹیبلشمنٹ سے مذاکرات کی اجازت ہرگز نہیں دیتا اور ایسی بات کرنا ہی دراصل بدترین ملک دشمنی ہے ۔ بانی کا مطلب اورمقصد بالکل صاف ہے کہ وہ یہ تاثر دینا چاہتا ہے کہ پاکستان میں سب کچھ اسٹیبلشمنٹ کررہی ہے ۔ خدا کا شکر ہے کہ پاکستان کی سڑکوں، چوراہوں، حساس دفاعی مقامات پر پھیلا گند ایک ’’ایکس ‘‘ تک سمٹ گیا ہے جہاں سے ملک دشمن عمران نیازی جو خود ’’ ایکس ‘‘ ہو چکا ہے اور اپنے خود ساختہ انقلاب اور ادارہ دشمنی کا میدان اس سوشل میڈیا ایپ کو بنا رکھا ہے لیکن دنیا واقعی بدل چکی ہے ۔دوستو ں کو ایک بات بتا دینا چاہتا ہوں کہ جب خطرناک کریمنل اپنے آپ کو جیل سے باہر غیر محفوظ سمجھتے ہیں تو وہ جیل چلے جاتے ہیں کیونکہ جیل میںاُن کی جان کی حفاظت کرنا ریاست کی ذمہ داری ہوتی ہے اورعمران نیازی اپنے اس کریمنل آرٹ کومکمل استعمال کر رہا ہے ۔ وہ باہر غیر محفوظ ہے کہ بھٹکا ہوا مذہبی بیانیہ رکھنے والے کبھی اپنی ریاست میں محفوظ نہیں ہوتے ۔

ٹیگز: