اپریل فول 1989ء سے ٹھیک دو دن بعد کوہاٹ میں ایک بچہ پیدا ہوا ۔ ماں باپ نے نام شفیع اللہ جان رکھا ۔ یہ تحریک انصاف کے وجود میں آنے سے سات سال پہلے کی بات ہے ۔پی ٹی آئی جب پختون تحریک انصاف یا پریس ٹرسٹ آف انڈیا(PTI) بنی تو اِس نوجوان کو بھی تحریک انصاف میں شمولیت کا موقع مل گیا کیونکہ اُس زمانے میں تحریک انصاف میں ’’ نوجوانوں‘‘ کی اشد ’’ضرورت‘‘ تھی ۔ پاکستان میں ہونے والے آخری انتخاب میں یہ نوجوان کوہاٹ کی صوبائی اسمبلی کے حلقہ 92سے کامیاب ہو کراسمبلی میں پہنچ گیا ۔ عشقِ عمران کے لاہور وزٹ سے واپسی پر شفیع اللہ جان کا کہنا ہے کہ ’’ ہم نے صرف 72گھنٹے میں تخت ِ لاہور کو تہس نہس کردیا ۔‘‘ پاکستان کی کسی بھی اسمبلی میں بیٹھے شخص کا یہ گھٹیا ترین بیان اور ملک دشمنی کا عکاس ہے۔ مجھے حیرت ہے کہ لاہور کو تہس نہس کرنے کا ’’ جذبہ‘‘ رکھنے والوں کو آوارہ کتوں کی طرح کھلا چھوڑ رکھا ہے۔ کس مائی کے لعل کی جرأت ہے کہ لاہور کی طرف آنکھ اٹھا کر بھی دیکھے۔ یہ وہی سوچ ہے جو عمران نیازی سے اگلی نسل کومنتقل ہوئی ہے جو لاہوریوں کو ’’ رنگ باز‘‘ کہا کرتا تھا جبکہ 2002ء کے انتخابات میں پی ٹی آئی شکست کے بعد تحریک انصاف سوائے لاہور کے سارے پاکستان میں کہیں نہیں تھی۔ خواب تو ہندوستان نے بھی جم خانہ لاہور میں چائے پینے کا دیکھا تھا اور پھر تاریخ نے اُن کے ساتھ کیا ٗکیا یہ بھی ساری دنیا نے دیکھا ۔ شفیع اللہ جان کو پہلے اپنی تاریخ پڑھ لینی چاہیے تاکہ بات کرتے ہوئے اُسے معلوم ہو کہ وہ سینٹرل ایشین حملہ آوروں کے کرائے کے سپاہی رہے ہیں نہ کہ خود کوئی بڑے فاتح۔پنجاب نے تو سکندر جیسے بے رحم کا مقابلہ کیا ہے اور رنجیت سنگھ کو تو قابل و قندھار سے خراج دینے یہ لاہور آیا کرتے تھے ۔ ہری سنگھ تو انہیں آج بھی یاد ہو گا ۔ ہمارے تو ہاتھ اسلامی رشتے نے باندھ رکھے تھے ورنہ نہ تو ہمارے عقائد کے مطابق دریائے اٹک کے پار ’’ راکھشس ‘‘ رہتے تھے اور نہ ہی سمندر کا سفر گناہ تصور کیا جاتا ہے۔ شفیع اللہ جان اور مینا آفریدی جیسے گند بلا کو دوبارہ لاہور میں غیرت مند لاہوریے کبھی خوش آمدید نہیں کہیں گے ۔ باقی جنہیں گاڑیوں کے آگے رقص کرنے کی عادت ہے وہ ہر قوم اور قبیلے میں پائے جاتے ہیں ۔
عمران نیاز ی کی حماقتوں نے پہلے ہی اپنی جماعت کو ایک بند سرنگ میں داخل کر رکھا ہے جہاں اب نہ عمران نیازی مسئلہ رہا ہے اور نہ کسی کرائے کے لیڈر کی کوئی اوقات ہے ۔ تحریک انصاف نے مثبت سیاست کے بجائے ہٹ دھرمی اور ترقی کے بجائے تصادم کا رستہ اختیار کرنے کا آخری فیصلہ کررکھا ہے ۔جس سے یہ ہجوم اب تضادات کا شکار ہو کر تقسیم کی راہ پر چلنا شروع ہو چکا ہے کہ آپ بھارتی بیانیے سے پاکستان میں سیاست کر ہی نہیں سکتے ۔ کسی بھی سیاسی جماعت کا حقیقی سرمایہ اُس کے ورکرز ہوتے ہیں اور پی ٹی آئی کے حقیقی ورکرز کو تو عمران نیازی نے وزیر اعظم بنتے ساتھ ہی چھوڑ دیا تھا۔ سو آپ کہہ سکتے ہیں کہ ’’ عمران نیازی جنگ کے گھوڑے چھوڑ کرجنج کے گھوڑے میدان جنگ میں لے گیا ہے ۔‘‘ سو وہ اب رقص کر رہے ہیں تو حیرت کیسی؟پی ٹی آئی کا ریاست اور فوج مخالف بیانیہ جس تواتر اورتسلسل سے پھیلایا گیا اُس نے ریڈ لائن تو کراس کر ہی لی تھی ٗ مکہ اورمدینہ کی سبز لکیر بھی عبور کرتے شرم محسوس نہیں کی ۔تحریک انصاف آج تک جمہوری اور انقلابی سیاسی جماعت کا فرق نہیں سمجھ سکی ۔ آپ پرچی کی بات کرکے برچھی ہاتھ میں نہیں پکڑ سکتے یا بیلٹ کی بات کے ساتھ بُلٹ چلانے کی اجازت آپ کو کوئی نہیں دے گا ۔ ایسا ریاست مخالف عمل سوائے ایک بدترین ذلت کے کچھ نہیں ہوتا اور ایسا ہی ہوا ۔کے پی کے میں پی ٹی آئی کی حکومت کو 12سال سے زائد کا عرصہ گزر چکا لیکن حرام ہے کہ وہ اپنے گریبان میں جھانکیں ٗ کوئی ترقیاتی کام ٗاور ادارہ جاتی اصلاحات ٗ مستقبل کا کوئی نقشہ ٗ نہ کوئی مدبر فیصلہ نہ کوئی قابل بھروسہ منصوبہ دیکھنے اور سننے کو ملا ۔ یہ سب بدترین اور نااہل ترین طرز حکمرانی ہے جو اڈیالہ سے لے کرپشاور تک ساری سیاسی آلودگی اپنے کمزور پروں تک لئے وفاق اور صوبوں سے لڑنے کا پروگرام بنا رہی ہے ۔فوج دنیا کے کسی بھی ملک کی ہو وہ ریاست کا وقار اور دبدبہ ہوتا ہے ۔ پی ٹی آئی کی ملک دشمن اور بھارت نواز پالیسیوں کے تواتر میں آخر کا ر رکھوالوں کو بھی ہر رعایت ختم کر کے ایک ریڈ لائن کھینچنا پڑی۔ جسے نالائقوں نے وقتی دبائو سمجھ کر نظر انداز کیا اور سوچا جب ہم چاہیں گے حالات درست ہو جائیں گے لیکن ڈی جی آئی ایس پی آر کی پریس کانفرنس نے ان کی تخیلاتی دنیا تہہ و بالا کر کے رکھ دی لیکن یہ اپنے بھونڈے موقف کی لڑائی نتائج سے بے خبر لڑنے کا سوچ رہے تھے اوریہی بلنڈر تھا جس نے اداروں کوغصے کی سونامی بنا دیا ہے اور اب بات وہی ہے جو میں نے 17مئی 2023کو اپنے کالم ’’ قبر ایک اور مردے دو ‘‘ میں لکھی تھی لیکن وقت نے ثابت کردیا کہ مردہ ایک ہی بچا ہے ۔کیونکہ پارٹی کے اندر اکثریت اب عمران نیازی کی تصادم کی پالیسی سے متفق ہی نہیں جس کے نتیجہ میں ایک نئی تقسیم دیکھنے کو ملے گی اور اس ختم شدہ کھیل کا باقاعدہ اعلان کردیا جائے گا ۔ اب اگر
عمران نیازی کے خچروں اورعلیمہ اینڈ سنز نے 9مئی یا 26نومبر جیسا بحران پیدا کرنے کی کوشش کی تو اس بار انہیں دوبارہ غلطی کا کبھی موقع نہیں ملے گا کیونکہ ریاست اُن کے ساتھ آہنی ہاتھوں سے نمٹے گی ۔بہتر تو یہی ہے کہ نیازی خود احتسابی کے عمل کی طرف جائے اور سوچے کہ ان غلطیوں سے کیا کھویا کیا پایا؟ تشہیر کبھی کارکردگی کا نعم البدل نہیں ہو سکتی ۔ اگر آپ قربِ راس پوٹین میں وقت گزارنے والے لونڈوں کو اقتدار میں لاتے رہیں گے تو لیڈر یہ قیامت کی صبح تک نہیں بن سکتے اور فرنٹ مین کبھی عقل کا مترادف نہیں ہو سکتا۔ سو سہیل آفریدی ٗ مینا آفریدی اور شفیع اللہ جان جیسے گند بلا سے جان چھڑا کر کے پی کے میں سنجیدہ قیادت لائی جائے تو عام آدمی کے حالات بہتر ہوں گے اور خدمت کا بیانیہ بھی مقبول ہو جائے گا ۔ بُری گورنس نے جہاں کے پی کے کا ہر ادارہ برباد کردیا ہے وہیں عام آدمی کی زندگی بھی اجیرن ہو چکی ہے ۔ پی ٹی آئی کو فوری طور پر مذاکرات کی میز پر آنا چاہیے تاکہ جو بچے ہیں سنگ سمیٹ لیں ورنہ یہ بھی ہاتھ سے نکل جائیں گے ۔ورنہ عمران نیازی کے متشدد سیاسی بیانیے کے خلاف بغاوت تیار ہو چکی ہے۔