Wed, September 16, 2026

کٹھور اور پلزم آرٹ تحریک

کٹھور اور پلزم آرٹ تحریک

میں 2020 میں خوبصورت شاعر واصف اختر کے ہمراہ فیصل آباد سے نکل کر ٹوبہ ٹیک سنگھ کے مضافات میں واقع ایک گاؤں 303 کٹھور، تحصیل گوجرہ گیا۔ گاؤں کیا تھا میر امن دہلوی کی باغ و بہار یا رجب علی بیگ سرور کی فسانہ عجائب کے کسی حصے کی منظر نگاری معلوم ہوتی تھی۔ صاف ستھری سڑکیں اور گلیاں جن میں ڈھونڈنے سے بھی کوڑا کرکٹ نہ مل سکے۔ گھروں کے آگے بڑے بڑے گملے رکھے گئے تھے ساتھ رنگین ٹائروں میں پودے جھومتے ہوئے جن کے پھول دیکھنے والے کی آنکھوں کا استقبال کرتے تھے۔ دیواروں پر دلکش پینٹنگز اور مختلف طرح کی چیزوں سے کی گئی ڈیزائننگ پورے گاؤں میں عام تھی۔ ہر چوک میں کوڑے دان نصب تھے جن پر دلکش مصوری کی گئی تھی۔ کوڑا اکٹھا کرنے اور اسے ڈسپوز کرنے کا باقاعدہ نظام بنا گیا تھا۔ یہ کسی ایک گھر یا ایک گلی کا احوال نہیں تھا۔ پورا گاؤں صفائی اور جمالیات پر متفق نظر آتا تھا۔ 
یہ قمر ریاض چیمہ کا کٹھور تھا۔ ان کی پینٹنگز کی طرح انوکھا اور جاذب نظر۔اس آرائشی حسن سے زیادہ حیرت انگیز وہاں کے اسکول، ہسپتال، پولٹری فارم ، فلٹر پلانٹ، ڈسپنسری اور دیگر ادارے تھے۔ جن میں ماحول کے علاؤہ کام کے معیار کو بھی اسی لگن سے بہتر کیا تھا تھا۔ 
پہلی بار دیکھنے پر ہی مجھے اندازہ ہوا کہ قمر کی پینٹنگز بہت مختلف ہیں۔ کئی سال کی محنت اور ریاضت کے بعد انھوں نے اپنا اسٹائل دریافت کر لیا۔ قمر نے اپنی آئل پینٹنگز میں تجرید کے ذریعے زندگی کی پیچیدگی کو باندھا ہے۔ فن میں اپنا اسلوب نکھارنا بڑا مشکل کام ہوتا ہے۔ اس سے زیادہ دلچسپ بات یہ ہے کہ انھوں نے فن کو نہ سستی شہرت کے لیے استعمال کیا اور نہ ہی اسے اپنی ذات کے گرد گھمائے رکھنے کی کوشش کی۔ بلکہ فن سے زندگی کے کئی نظریات تشکیل کیے بلکہ Plism کی ایک پوری تحریک بنائی اور خاموشی سے اس پر کام کرتے رہے۔ قمر نے فن کے اندر پائی جانے والی جمالیات سے اپنے ارد گرد کی دنیا کے لیے بہترین افکار کشید کیے۔ اور ان افکار سے نئی دنیا پیدا کرنے کی تحریک پیدا کی۔ Plism ان کا خواب ہے اور اس خواب کی تعبیر انھوں نے کٹھور سے شروع کی۔ کٹھور کی تحریک یعنی 
Change a village Change the world
 قمر ریاض چیمہ کا نام بہت سے لوگوں نے سنا ہو گا لیکن انھیں جانتے بہت کم لوگ ہوں گے۔ میں قمر کو ایک سچے آرٹسٹ کی حیثیت جانتا ہوں۔ ہر وقت فن کی نئی تکنیک اور نئے خیال کو سوچتا ہوا آرٹسٹ۔ جسے آپ ہر نشست میں فکر و فن اور فلسفے پر بات کرتا ہوا پائیں گے۔ ادھر ایم ایم عالم روڈ پر لوگوں کی بھیڑ ہے، گاڑیوں کی چنگھاڑ اور دائیں بائیں سے میوزک کی آوازیں اور ادھر قمر ریاض اپنی رہائش گاہ پر لان میں کرسی بچھائے، چائے کا کپ تھامے مصوری، شاعری اور فکشن کے نئے رجحانات میں بات کر رہے ہیں۔ گھنٹوں بات کیجئے۔ اگر خوش قسمتی سے ہمدم دیرینہ اور ہمارے انقلابی فلسفی واصف اختر بھی ساتھ ہوں تو باتوں باتوں میں فجر ہو جانا معمول کی بات ہے۔ واصف اختر کے بارے میں بھی ایک بات کہتا چلوں کہ وہ خوبصورت شاعر ہیں اور سائنس اور فلسفے پر جو گرفت رکھتے ہیں وہ ہمارے ہاں بہت ہی کم لوگوں کے پاس دیکھنے کو ملتی ہے۔ میں نے سائنس کے بڑے بڑے پروفیسر حضرات کو اس سائنسی بصیرت سے محروم دیکھا ہے۔ خیر یہ بیٹھک کبھی جم جائے تو ہم افقی، عمودی سارے موضوعات کھنگالنے لگتے ہیں۔ پھر بات آفرینشِ کائنات سے شروع ہو کر مستقبل کی ممکنہ صورتوں تک جاتی ہے۔ 
کٹھور والوں نے قمر ریاض چیمہ اور ڈاکٹر عامر ریاض چیمہ صاحب کے دوست احباب کے ساتھ مل کر ایک تنظیم بنائی۔ اس میں نوجوانوں کو خاص طور پر شامل کیا گیا۔ اس تنظیم نے نہ صرف صاف ستھرا اور خوبصورت گاؤں بنایا بلکہ کئی ایسے فلاحی کاموں کو بھی مکمل کیا جو بڑے بڑے اداروں کے حصے میں بھی نہیں آتے۔یہ لوگوں کی مدد سے جدید فلٹر پلانٹ، صاف پانی فراہم کرنے کا جدید نظام، جس نے لوگوں کو روزگار بھی فراہم کیا، صحت، کھیل، تعلیم کے میدان میں کئی شاندار کامیابیوں کے ساتھ کٹھور کو ایک مثالی گاؤں بنانے میں کامیاب ہوئے۔ گاؤں کی علاقائی تنظیم نے کچھ برسوں میں ہی بہت سے اہداف حاصل کیے ہیں۔ یہاں کے سرکاری سکول، پارک، ہسپتال اور دیگر ادارے دوسرے علاقوں کے سرکاری اداروں سے بالکل مختلف ہیں۔ یہ اس بات کا سب سے بڑا ثبوت ہے کہ سرکار کچھ بھی کر لے جب تک عوام میں فلاح اور بہبود کا شعور پیدا نہیں ہو گا بات نہیں بنے گی۔
یہاں کے نوجوان ہر گھر کے افراد سے مکالمہ کرتے اور انہیں سب سے پہلے علاقے کو صاف رکھنے اور خوبصورت بنانے پر قائل کرتے۔ آغاز میں بعض افراد تعاون نہیں بھی کرتے تھے لیکن یہ جوان اپنے کام سے پیچھے نہیں ہٹے۔ انھوں نے ابتدا میں ایک چھوٹا سا فنڈ قائم کر کے بڑی تعداد میں جمعدار اور مزدور کام پر لگائے جنھیں مناسب اجرت دی گئی۔ دن رات کی کڑی محنت کے بعد صفائی کا نظام اثر دکھانے لگا۔ اب گاؤں کی تزئین پر کام کیا جانے لگا۔ اس کے بعد دیگر فلاحی کاموں کا آغاز کیا گیا۔ یہ نوجوان تمام امور کی مکمل مانیٹرنگ کرتے تھے اور کسی بھی شکایت کی صورت میں بات چیت سے مسائل حل کرتے تھے۔ اسی طرح یہ سرکاری سکولوں میں جاتے۔ ہیڈ ماسٹر کا پتا لگا کر ان سے بات چیت کرتے اور ان کے تعاون سے سرکاری سکول کا حال حلیہ اور سسٹم بہتر کرنے میں مدد فراہم کرتے۔ یہ انداز کم و بیش سبھی شعبوں میں اپنایا گیا اور کارگر ثابت ہوا۔ گزشتہ پانچ چھ برس میں کٹھور نے خاصی ترقی کی ہے۔ لیکن یہ ترقی بڑے مکانوں اور پیسہ کمانے کی مشینوں کی صورت میں نہیں کی بلکہ صفائی، جمالیات اور شعور کی ترقی کی صورت میں اس کو دیکھا اور سمجھا جا سکتا ہے۔ قمر ریاض چیمہ Plism کے ذریعے اب کٹھور سے آگے بڑھنا چاہتے ہیں۔ ایک گاؤں کا شعور بدلنے کے بعد کی منزل ان کی منتظر ہے۔ آخر میں عباس تابش کا شعر دیکھیے 
 جو بھی من جملہ اشجار نہیں ہو سکتا
کچھ بھی ہو جائے مرا یار نہیں ہو سکتا

ٹیگز: