Wed, September 16, 2026

راستہ صاف رکھیں!

راستہ صاف رکھیں!

ویسے تو اللہ کریم نے خود کہہ دیا کہ انسان جلد باز ہے لیکن پاکستان کے لوگ اس سے بھی آگے بڑھ کر اضطرابی کیفیت میں مبتلا ہیں۔ ہم ہر اس کام سے جلد ’’بور‘‘ ہوجاتے ہیں جو کام ہم خود اپنے ہاتھوں سے کرتے ہیں۔حکمران کوئی بھی ہواس کو بدلنے کی جدوجہد میں لگ جاتے ہیں۔یہی وہ جلدبازی ہے جس نے اس ملک میں کسی قابل عمل پالیسی کو دوام اور ملک کو استحکام کی طرف جانے ہی نہیں دیا۔عمران خان صاحب کو نجات دہندہ بناکر لایاگیا تھا۔تبدیلی کا لالی پوپ بھی ان کے ہاتھ میں دے کر لایا گیا۔تیسری قوت کی ضرورت بناکر لایایاگیا۔یہ سوچ لیا گیا تھا کہ پوری قوم دونوں سیاسی پارٹیوں سے مکمل تنگ بلکہ بیزار ہوچکی ہے اب ملک میں صرف ’’ع‘‘ کا راج چلے گا لیکن سال دو ہی بڑی مشکل سے گزرے کہ لانے والے ہی ’’بور‘‘ ہو گئے۔ ان دو برسوں میں ملک کی بنیادیں لرزہ براندام ہونے لگیں۔
یہ سن دوہزار بیس کی بات ہے ابھی تبدیلی اور نیا پاکستان بنے کوئی دوسال بھی پورے نہیں ہوئے تھے۔میں بطور پروڈیوسر ایک سینئر وزیرکا انٹرویوکرنے گیا۔انٹرویو سے پہلے گویا ہوئے میرے محکمے کے ہی سوال کرلیجئے گا اس وقت جومہنگائی ہے اس کا دفاع نہیں کروں گا۔ہم نے دیکھا کہ دوہزاراٹھارہ سے دیکھتے ہی دیکھتے مہنگائی چار سے چودہ فیصد ہوگئی،شرح نمو منفی میں جانے لگی۔عمران خان صاحب کی گورننس کا رخ اپوزیشن کے ارکان کو چن چن کر جیلوں میں ڈالنے کی طرف ہوگیا ۔عمران خان صاحب’’سنجیاں ہوجان گلیاں تے وچ مرزا یار پھرے‘‘ کے جنون میں مبتلا ہوگئے۔اپوزیشن نے اپنی بقا کے لیے ایک دوسرے کا ہاتھ پکڑلیا۔پی ڈی ایم بنالی گئی ۔پھر وہ ہوگیا جو عمران خان صاحب کے وہم وگمان میں بھی نہیں تھا۔ وہ ایک پراجیکٹ سے بوجھ میں تبدیل ہو گئے۔ دس دس سال کے بنے بنائے منصوبے دس دن میں ختم ہو گئے۔ گزرے دوسالوں میں عمران خان صاحب ہر وہ کام کرچکے ہیں جو ان کو نہیں کرنا چاہئے تھا۔۔انہوں نے سانحہ مشرقی پاکستان سے لے کر عاصم لا تک کے محاورے گھڑ کر دیکھ لیے ہیں لیکن سب ناکام ہوگئے ہیں۔
عمران خان صاحب کا ایک ہی ٹارگٹ ہے کہ ان کے بغیر سسٹم نہ چلے۔یہ کام انہوں نے صرف اس وقت خیبرپختونخوا کی حکومت کے ساتھ نہیں کیا بلکہ یہ سوچ ان کے ساتھ ساتھ ماضی سے چلی آرہی ہے ۔وہ جب اقتدار سے عدم اعتماد کے ذریعے باہر گئے تو انہوں نے پنجاب کی حکومت اپنے ہاتھوں سے توڑی ۔خیبر پختونخوا کی حکومت ختم کی کہ اس طرح سسٹم ٹوٹ جائے گا ۔ان کے فارمولے اس وقت بھی ناکام ہوگئے کیونکہ سسٹم کی یہ ڈور جنہوں نے الجھا رکھی ہے وہ بڑے سمجھدار ہیں انہوں نے اس وقت بھی نگران حکومتوں کے ذریعے سسٹم کو چلایا اور عمران خان صاحب منہ دیکھتے رہ گئے۔ سب اس بات پر متفق تھے کہ عمران خان نے اپنی دو حکومتوں کو ختم کرکے مہا بے وقوفی کی سیاست کی ہے لیکن سب اس بات پر بھی متفق ہیں کہ عمران خان صاحب یہ سمجھتے ہیں کہ وہ نہیں تو کچھ بھی نہیں۔
اب بھی انہوں نے اپنی جماعت کو ایک ہی ٹاسک دے رکھا کہ کسی طرح ان کو باہر نکالیں لیکن یہ اس وقت تک ممکن نہیں جب تک عمران خان صاحب ’’اچھے بچے‘‘ نہیں بن جاتے اس لیے انہوں نے ایک بار پھر وہی سیاست کرنے کا فیصلہ کیا جس سے پہلے بھی نقصا ن اٹھاچکے لیکن ان کی سوچ ہے ہی یہ کہ ’’میں نہیں تو کوئی بھی نہیں‘‘ اسی سوچ کے تحت انہوں نے پہلے اپنی پارٹی کے لوگوں کو قائمہ کمیٹیوں سے مستعفی ہونے کا حکم دیا پھر خیبرپختونخوا کے وزیراعلیٰ کو گھر جانے کا شاہی حکم جاری کردیا۔ویسے سوچیں کہ اگر عدم اعتماد کے ذریعے عین آئینی راستے کے ذریعے ان کو نکالاجائے تو وہ مرنے مارنے اور پاکستان کی اینٹ سے اینٹ بجانے نکل کھڑے ہوتے ہیں۔ زمان پارک میں بھیڑ جمع کرکے پولیس پر پٹرول بم پھینکواتے ہیں۔لیکن خود کتنی آسانی سے ایک منتخب وزیراعلیٰ کو حکم دیتے ہیں کہ اقتدار سے نکل جاؤ۔
خیر عمران خان صاحب کا ایک عاشق گیا اور اب دوسرا عاشق وزیراعلیٰ بن گیا ہے لیکن وہ اپنی کابینہ تشکیل نہیں دے رہا اور بچے کی طرح ضد میں ہے کہ پہلے معشوق سے ملاقات کروائیں پھر کابینہ بناؤں گا تو دوسری طرف والے بھی ان کا زور دیکھنے میں مصروف ہیں۔ ایک ہفتہ تو گزر گیا کہ سہیل آفریدی جو اسمبلی میں شعلہ جوالا بنے ہوئے تھے اسلام آباد پہنچ کر شبنم کا روپ دھارجاتے ہیں۔تازہ بیان میں کہتے ہیں کہ میں نے بہت کوشش کرلی مجھے ملنے نہیں دیا جارہا اب میں عوام سے رجوع کروں گا۔
اگر ہم پاکستان کو عمران خان صاحب یا پی ٹی آئی کے نظریے(لینز) سے دیکھیں تو یہاں کچھ بھی اچھا نہیں ہے ۔مایوسیوں کے ڈیرے ہیں لیکن حقائق مختلف ہیں اور پاکستان کی معیشت میں بہت بہتری آرہی ہے ۔ معیشت کے بارے میں مایوسی اور بددلی پھیلانے کیلئے ایک منظم پراپیگنڈا مہم جاری ہے جس میں یہ تاثر دیا جا رہا ہے کہ ملک کی گروتھ رک گئی ہے، کوئی سرمایہ کاری نہیں آ رہی، اور معاشی میدان میں حکومت کی کوئی کامیابی نہیں ہوئی۔ حقیقت اس کے برعکس ہے۔ پاکستان کی معیشت دوبارہ بہتری کی طرف گامزن ہے۔گزشتہ مالی سال 2024 میں ملکی شرحِ نمو 2.4 فیصد رہی اور رواں مالی سال 2025 میں یہ 2.6 سے 3 فیصد تک پہنچنے کی توقع ہے۔ یہ اس بات کا  ثبوت ہے کہ معیشت جمود کا شکار نہیں۔ زرمبادلہ کے ذخائر جون 2023 میں 9 ارب ڈالر سے بڑھ کر مئی 2024 میں 14 ارب ڈالر سے تجاوز کر گئے۔ کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ ختم ہو گیا ہے اور روپے و مہنگائی دونوں میں نمایاں استحکام آیا ہے۔سرمایہ کاری کے محاذ پر مثبت پیش رفت ہو رہی ہے۔گزشتہ مالی سال میں براہِ راست غیر ملکی سرمایہ کاری (FDI) میں 25 فیصد اضافہ ہوا جو 2.57 ارب ڈالر تک پہنچی۔توانائی، ٹیلی کام اور تیل و گیس کے شعبوں میں نمایاں سرمایہ کاری ہوئی۔چین کے ساتھ 8.5 ارب ڈالر کے منصوبوں اور متحدہ عرب امارات کے ساتھ 10 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کے معاہدے طے پائے۔زرعی شعبے میں شاندار بحالی ہوئی ہے، مالی سال 2024 میں 6.25 فیصد گروتھ ریکارڈ کی گئی، گندم، چاول اور کپاس کی پیداوار میں تاریخی اضافہ ہوا۔برآمدات اور ترسیلاتِ زر دونوں میں دوہرے ہندسوں میں اضافہ ہوا مئی 2025 میں ترسیلات 3.2 ارب ڈالر کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئیں۔بین الاقوامی مالیاتی ادارے پاکستان کی معاشی پالیسیوں پر اعتماد ظاہر کر رہے ہیں۔
شہبازشریف نے ایک تباہ حال معیشت کو سنبھالا، مالی نظم بحال کیا اور بیرونی اعتماد کو دوبارہ قائم کیا۔یہ وہ راستہ ہے جو ہماری ترقی کی منزل تک جاسکتا ہے اس لیے اس راستے میں پتھر ،کانٹے پھینکنے کی بجائے راستے کو صاف رکھنے کی ضرورت ہے۔

ٹیگز: