بھارتی افسانہ نگار خوشونت سنگھ کی خواہش تھی کہ تقسیم ہند کے بعد وہ پاکستان میں ہی رہتے مگر وہ کہتے ہیں: ”جنگ کا زمانہ میں نے لاہور میں گزارا۔ گو کہ کچھ سال بعد مجھے کچھ مقدمات ملنا شروع ہو گئے لیکن یہ آمدنی اس معیار زندگی کو برقرار رکھنے کے لیے کہ جس کا میں عادی تھا، بالکل نا کافی تھی۔ میرے والد صاحب نے لارنس گارڈن کے قریب مجھے ایک بنگلہ خرید کردیا۔ یہ عام فہم بات تھی کہ میری پریکٹس بہت کم تھی اور بہترین چیز جس کی میں امید کر سکتا تھا وہ یہ تھی کہ اپنے تعلقات کے ذریعے بنچ تک رسائی حاصل کروں۔ لاہور نے مجھے جو بہترین تحفہ دیا وہ قانون کے پیشے میں تیزی سے ابھرتے ہوئے قانون دان منظور قادر کی دوستی تھی۔ وہ ایک نا قابل یقین حد تک لائق اور دیانتدار شخص تھے۔ میری طرح وہ بھی دہریہ (ملحد) تھے انہوں نے پاکستان کے وزیر خارجہ اور چیف جسٹس کے اعلیٰ عہدے حاصل کیے۔
جیسے ہی انگریزوں نے انڈیا کے بٹوارے کا فیصلہ کیا یہ واضح ہو گیا کہ لاہور پاکستان میں چلا جائے گا۔ 1946 میں شمال مغربی پنجاب میں فسادات کا سلسلہ آہستہ آہستہ مشرق میں لاہور اور امرتسر تک پھیل گیا۔ 1947 کے موسم گرما تک یہ واضح ہو گیا کہ اگر کسی طرح فسادات نہ روکے گئے تو ہندوو¿ں اور سکھوں کو پاکستان سے نکلنا ہو گا۔ اس نے مجھے پیغام بھی بھیجا کہ میں لاہور میں رہوں ظاہر ہے کہ وہ بنچ میں غیر مسلموں کی شمولیت چاہ رہا تھا۔ لیکن فرقہ وارانہ دشمنی اتنی خوفناک تھی کہ اگست 1947 میں، میں نے یہ فیصلہ کیا کہ اس وقت تک کے لیے کہ جب تک ہنگامے فرو نہیں ہو جاتے لاہور چھوڑ دوں۔ میں نے (حفاظت کے لیے) گھر منظور قادر کے حوالے کر دیا۔ میں کبھی اس کے مالک کی حیثیت سے واپس نہ آ سکا۔ کچھ سال کے بعد میں آیا تو اس میں قادر فیملی کے مہمان کی حیثیت سے قیام کرنے کے واسطے آیا۔“ گویا پاکستان بننے کا ملحد ہونے کے باوجود منظور قادر پر ”اللہ کا فضل“ ہوا کہ خوشونت سنگھ کا بنگلہ مل گیا اور خوشونت سنگھ اس ”فضل“ سے محروم ہو گیا۔ حیرت اس پر ہے کہ گھر اور روزگار کھو جانے کے باوجود کہتے ہیں کہ میں نے
سُکھ کا سانس لیا کہ وہاں لاءسے میری جان چھوٹی۔ خوشونت سنگھ کا صرف اتنا سا واقعہ میں نے پڑھا سنا تو مجھے آج کے حالات پر کم حیرت ہوئی کیوں کہ ہمارے نام نہاد اکابرین امانت دبا جانے اور قبضہ جمانے میں روز اول سے ہی خود کفیل رہے ہیں۔
آج وطن عزیز کی معاشرت اپنی بربادی کے بعد بچ جانے والے آثار پر کھڑی ہے۔ جعلی کلیمز کے کاروبار نے دہائیوں گلشن ”کرپشن“ کا کاروبار جاری رکھا، بیرون ممالک بھجوانے کے جھانسے آج تک جاری ہیں۔ فراڈ کی بنیاد پر قائم ہونے والی فنانس کمپنیاں، رہائشی سکیمیں بلکہ پورے کے پورے سرکاری محکمہ جات، جعلی شناختی کارڈ، پاسپورٹ، ویزے سے قائم ہونے والے پلازے سب پر ”اللہ کا فضل“ لکھا گیا، اس فضل سے محروم لوگ دربدر ہوئے۔
گوجرانوالہ میں ایوب خان بسرا کمیونسٹ ہونے کی وجہ سے اپنے آپ کو ”مصلی“ یعنی پنجاب کی سب سے کم تر قوم لکھتے تھے۔ اگلے روز میں معروف سکالر اور بے مثل رائٹر جناب ڈاکٹر محمد یونس بٹ سے فون پر یادیں تازہ کرتے ہوئے بتا رہا تھا کہ ایوب صاحب گرمیوں کی ایک دوپہر معروف شخصیت جناب حاجی محمد سعید بھٹی، جناب سعید الرحمن بخاری، جہانگیر تمیمی پروفیسر جرنلزم پنجاب یونیورسٹی دیگر احباب کے ساتھ تشریف فرما تھے اور دوپہر کے طعام کے بعد قیلولہ کر رہے تھے۔ ایوب صاحب کبھی کبھار چڑچڑے ہو جایا کرتے، ڈپریشن، انزائٹی انہیں آ گھیرتی۔ احباب نے سوچا کہ ان کو لاہور کسی سیانے سائیکائٹرسٹ کو دکھاتے ہیں۔ ایوب صاحب نے ضد کی کہ آصف عنایت میرے ساتھ جائے گا تو میں لاہور جاو¿ں گا لہٰذا ان کو میرے ابا جی کے گھر آنا پڑا، ویسے بھی ان کا بسیرا میرے والد صاحب کا گھر ہی ہوا کرتا تھا۔ میرے بڑے بھائی پا جی محمد اعظم بٹ صاحب، اماں جی، معظم بھائی (تب چیئرمین جیل روڈ لاہور)، گلزار بھائی جیل آفیسر سب بیٹھے تھے۔ پا جی محمد اعظم نے حاجی محمد سعید بھٹی صاحب کو مخاطب کر کے کہا کہ ایک دوست پر کتنا اللہ کا فضل ہے۔ بھٹی صاحب نے پوچھا، کیا ہوا؟ پا جی اعظم صاحب نے کہا کہ وہ بڑا خوش ہے، بینک رہن فیکٹری واگزار ہو گئی، اوپر تلے تین ایس ایس پی اور تین ڈپٹی کمشنر اُن کے بیج میٹ اور کلاس فیلو آئے۔ وہ کونسلر بھی ہو گیا، اب اسمبلی جا رہا ہے، ان شاءاللہ تعالیٰ۔ ایوب صاحب جن کو سائیکائٹرسٹ کے پاس لے کر جانا تھا، اپنے دونوں ہاتھ تکیے کے اوپر اور سر کے نیچے رکھ کر سیدھے لیٹے ہوئے تھے، اُسی طرح اٹھے، ہاتھ سر کے نیچے ہیں اور بیٹھ کر کہنے لگے، اگر یہی اللہ کا فضل ہے تو اللہ کے بندوں پر نہیں تھا۔ حاجی محمد سعید بھٹی صاحب نے میری طرف دیکھا تو محمد ایوب خان کہتے ہیں، آصف ان سے کہو میرا سائنس کا علاج کرائیں دماغ ٹھیک ہے، دماغ ان کا خراب ہے جن کو سمجھ نہیں ہے۔
میرے ہمدم دیرینہ دوست میاں محمد افضل ایڈووکیٹ کہنے لگے، آپ نے گوجرانوالہ بار اور وکلا بار پر کالم لکھا، ویلاگ کیا ذرا اُن اینکروں اور کالم نگاروں پر بھی بات کریں جو لوگوں کی عزت اچھالتے پھرتے ہیں اور اپنے گھر کا ہوش نہیں۔ دیگر کے ساتھ ساتھ انہوں نے خاص طور پر ایک ادیب اور کسی نیازی کا ذکر بھی کیا جو خود ماضی میں اُن کی فلموں سے جائیدادیں بناتے رہے، بچے پالتے رہے۔ واقعی میاں صاحب درست فرماتے ہیں بعض یوٹیوبرز کو فلم اداکاراو¿ں جن کا اُس بازار سے تعلق تھا، ان کے کوٹھوں پر چلے گئے کہ یہ فلاں کا کوٹھا ہے یہ فلاں کا کوٹھا، بالکل اِسی طرح جیسے خود وہاں نئے نوٹ تبدیل کرتے تھے یا ہار بیچتے تھے۔ یوٹیوبرز بدمعاشوں، انڈر ورلڈ پر اس طرح ویلاگز کر رہے ہیں جیسے کبھی ہم نے بچپن میں اولیا اللہ کی باتیں سنی ہوں۔ کل ایک دوست نے بتایا کہ فلاں رشوت دلال کہتا ہے کہ اس کے والدین بہت بڑے لوگ تھے۔ بالکل وہ شرافت میں بہت بڑے لوگ ہوں گے، بڑے گوشت کے قصائی تھے، محنت کی کھاتے تھے مگر وہ مال و متاع کی بات کر رہا تھا۔ جبکہ کیریئر شاپر فروش سے شروع کیا تھا۔ دراصل آج کی دنیا میں وطن عزیز میں جو سفید پوش ہے ان کے لحاظ سے ”اللہ کے فضل سے محروم“ ہے۔ اللہ کا فضل نعوذ باللہ، جعلی کلیم، قبضہ مافیا، ڈرگ مافیا، رشوت دلالی، اختیارات کا ناجائز استعمال بلکہ اختیارات فروشی وہ بھلے بیوروکریسی ہے یا سیاست دان یا کوئی مذہبی سکالر یا کوئی بھی شعبہ کا نہیں شرافت اور ایمانداری کی وراثت کا حقدار ہوتا ہے۔ اس طرح تو ہمارے چند لوگوں پر اللہ کا فضل ہے اور باقی محکوم عوام اس سے محروم ہیں۔