Wed, September 16, 2026

بھارت نے لداخ میں دریائے سندھ کے بہاؤ روکنے کے لیے نئے منصوبے شروع کر دیے

بھارت نے لداخ میں دریائے سندھ کے بہاؤ روکنے کے لیے نئے منصوبے شروع کر دیے

اسلام آباد :  بھارت نے متنازع علاقے لداخ میں دریائے سندھ کے بہاؤ کو روکنے کے لیے چار بڑے ہائیڈرو پاور منصوبوں کا ماسٹر پلان بنا لیا ہے، جس سے پاکستان میں پانی کی فراہمی کو خطرہ لاحق ہو گیا ہے۔

یہ بات معروف آبی ماہر انجینئر ارشاد ایچ عباسی نے اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتریس کو لکھے گئے خط میں بتائی ہے۔ خط کے مطابق بھارت سندھ طاس معاہدے کی خلاف ورزی کرتے ہوئے لداخ کے علاقوں اچنتھنگ، سانجک، پارفیلا، باتالک اور خلستی میں 10 میگا واٹ کے ہائیڈرو پاور منصوبے چلا رہا ہے۔

ارشاد عباسی نے کہا ہے کہ یہ منصوبے معاہدے میں طے شدہ پانی ذخیرہ کرنے کی حد سے تجاوز کرتے ہیں اور پاکستان کے پانی کے بہاؤ کو متاثر کر سکتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ یہ منصوبے خاص طور پر سیاسچن گلیشئر کے علاقے میں فوجیوں کے لیے توانائی اور حرارت فراہم کرنے کے لیے بنائے جا رہے ہیں، جب کہ لداخ کے عام لوگ سخت سردی میں ہیں۔

انہوں نے مزید بتایا کہ بھارت پہلے ہی متنازع علاقے میں دو ہائیڈرو پاور پلانٹس بنا چکا ہے جو معاہدے کی خلاف ورزی ہیں اور فوجی مقاصد کے لیے استعمال ہو رہے ہیں۔

ارشاد عباسی نے اقوام متحدہ سے اپیل کی ہے کہ سندھ طاس معاہدے کی اصل صورت حال کو بحال کیا جائے کیونکہ بھارت کے یہ اقدامات پاکستان کے لیے شدید نقصان دہ ہیں اور وادی سندھ کی قدیم تہذیب کے لیے خطرہ ہیں۔

اسی دوران عالمی جریدے "دی ڈپلومیٹ" نے بھارت کو خبردار کیا ہے کہ اگر سندھ طاس معاہدہ معطل ہوا تو چین دریائے براہما پترا کا پانی روک سکتا ہے، جو بھارت کی پانی کی فراہمی اور بجلی پیداوار پر منفی اثر ڈالے گا۔

واضح رہے کہ ورلڈ بینک کے صدر اجے بنگا نے پہلے واضح کیا تھا کہ سندھ طاس معاہدے کو ایک طرفہ طور پر معطل نہیں کیا جا سکتا بلکہ اس میں کسی بھی قسم کی تبدیلی کے لیے دونوں ممالک کی رضامندی ضروری ہے۔

ٹیگز: