Wed, September 16, 2026

میر جعفر اورمیر صادق یوٹیوبر ایران جنگ

میر جعفر اورمیر صادق یوٹیوبر ایران جنگ

عمر لکھنے پڑھنے میں گزر گئی ¾ سیاست بھی کی اور صحافت کا لطف بھی اٹھایا لیکن ایک کلٹ جس کا ارتقائی عمل میرے سامنے کی بات ہے وہ ریاست پاکستان کے اس قدر بھی مخالف ہو سکتا ہے کہ دنیا بھر میں پاکستان کی رسوائی کرنے میں فخر محسوس کرے میرے لئے انتہائی شرم کی بات ہے۔ وطن سے محبت ایمان کا حصہ ہے کم از کم میں تو ایسا ہی سمجھتا ہوں لیکن جو لوگ اس مشکل گھڑی میں جب دنیا ایٹمی جنگ کے دہانے پر کھڑی حیرت و حسرت سے 8ارب انسانوں کے مستقبل کو دیکھ رہی ہے اور اگریہ جنگ امن و آشتی سے ختم نہیں ہوتی تو شاید کوئی تاریخ لکھنے والا بھی نہیں بچے گا ۔ پاکستان کی سیاسی زندگی میں یہ پہلا موقع ہے کہ دنیا پاکستان کی طرف دیکھ رہی ہے۔ پاکستان اس وقت اپنا بہترین کردار ادا کرتے ہوئے جنگ کے خاتمے اور امن کی یقینی کوششوں میں مصروف ہے۔ اسرائیل ایٹمی ہتھیاروں سے دستبردار نہیں ہوگا ۔ امریکہ کو ہم ایٹمی ہتھیاروں سے دستبردار ہونے کا کہہ نہیں سکتے اور اگر ایسی صورت میں ایران کو اُس کے پُرامن جوہر ی پروگرام سے روکا جاتا ہے تو کل یہ جنگ پھر ہو گی۔ مشرق وسطیٰ اور برصغیر کے لوگ اس میں زیادہ پریشان ہیں اور عجیب بات یہ ہے کہ بھارت چونکہ اسرائیل کا ساتھ دینے کا عہد و پیمان اعلانیہ کرچکا ہے بلکہ اُسے اپنا باپ تسلیم کرچکا ہے اور پاکستان میں ایک مخصوص طبقہ بھارت اور اسرائیل دونوں کو اپنا باپ تسلیم کر چکا ہے ۔ انہیں اس بات کی کوئی پروا نہیں کہ ایران یا پاکستان رہتا ہے یا نہیں ¾ انہیں صرف چوری کے ایک سزا یافتہ مجرم کی رہائی درکا ر ہے جو اُن کے نزدیک رہا ہو کر جنگ ختم کرا سکتا ہے ¾ ٹرمپ اور اپنے سسرال سے تمام شرطیں منوا سکتا ہے ۔یہ خیال صرف اُس یوتھیا برگیڈ کا ہی نہیں جو سوشل میڈیا کے کی وارئیرز ہیں بلکہ انہیں کنٹینٹ فراہم کرنے والوں کا بھی یہی خیال ہے ۔ پاکستان میں ہونے والے ہر اُس کام پر جس سے پاکستان کا وقار بلند ہوتا ہے یوتھیو ں کو جس طرح طرح تکلیف ہو رہی ہے ایسی تکلیف تحریک طالبان ¾ افغان طالبان اور بھارتی ایجنسی را کو بھی نہیں ہے ۔یہ پریشان ہیں کہ دنیا بھر کے حکمران اس وقت پاکستان کی قیادت کی طرف کیوں دیکھ رہے ہیں ۔ قیدی 804کا نام و نشان مٹ چکا ہے ۔ اب سہیل آفرید ی عمران نیازی کی رہائی کیلئے یوتھ فورس بنائے گا جو ماضی کی الذولفقار جیسی ہو گی ۔جس کو ملنے والے ٹاسک بھی الذوالفقار سے ملتے جلتے ہوں گے۔ پی ٹی آئی کے سینئر رہنما اس دہشتگرد تنظیم بنانے کے خلاف ہیں لیکن اب پی ٹی آئی میں سینئر اور جونیئر کا کوئی فرق ہی نہیں رہا ۔ اُن کے سقراط اور بقراط پاکستان سے باہر بیٹھے بھارتی چینلز پر چلنے والے تبصروں میں اپنے خیالات کی آمیزش کرکے دنیا کے سامنے رکھ رہے ہیں۔ وقار ملک تیسرے درجے کا جاہل آدمی ہے جو اپنی ” عظیم حکمت عملی“ جیسے مکروہ بیانے دنیا میں بیچ رہے ہیں ۔ وقار ملک ¾ ولی پاکستان ¾ اسد طور اور ایسے دوسرے لگڑ بھگڑ پاکستانیوں کو یہ باور کرانے کی ناکام کوشش کررہے ہیں کہ پاکستان ثالثی کا کردار صرف امریکہ ¾ اسرائیل اور عربوں کو کچھ وقت کیلئے ریلیف دلانے کیلئے کررہا ہے تاکہ و ہ اپنے دفاعی نظام کو دوبارہ زیادہ بہتر طریقے سے بحال کرسکیں ۔ ان دو ٹکے کے لوگوں نے نہ تو عربوں کی تاریخ پڑھی ہے اور نہ ہی ایران کی تاریخ سے واقف ہیں یعنی جس کے بارے میں اقبالؒ نے کہاتھا کہ :
کوئی قابل ہو تو ہم شانِ کئی دیتے ہیں 
ڈھونڈنے والوں کو دنیا بھی نئی دیتے ہیں 
انہوں نے نہ تو ہخامنشی سلطنت کو پڑھا ہے اور نہ ہی ساسانی ان کی نظروں سے گزرے ہیں ¾ انہیں نہ تو صفویوں کا علم ہے اور نہ قاجار سلطنت کا ۔ ایران جس نے زرتشت ¾ مولانا روم ¾ حافظ ¾ شیرازی ¾ سعدی جیسے ہزاروں دانشور پیدا کیے جو فلسفہ ¾ منطق ¾ ریاضیات ¾ فلکیات اور حربی مہارت کی منہ بولتی تصویر ہیں وہ یونہی کسی جھانسے میں آ جائیں گے۔جن کی اپنی پانچ ہزار سال کی تاریخ ہے اور اس تاریخ پر انہیں فخر ہے وہ جان تو دے سکتے ہیں لیکن کسی یوتھیے کی طرح سوچنے کی صلاحیت نہیں رکھتے ۔وہ بہادر ماﺅں کے بیٹے ہیں اور انہوں نے امریکہ اور اسرائیل کا مردانہ وار مقابلہ کیا ہے لیکن جنگ نے کہیں تو رکنا ہے سو اگر بہت زیادہ نقصان ہونے سے پہلے روک لیا جائے تو زیادہ بہتر ہے لیکن عمران نیازی کی غیر اعلانیہ سپاہ اور فتنہ الخوارج اور فتنہ الہندوستان کے پے رول پر بھکاریوں کی طرح کھڑے ان بے شرموں کو معلوم نہیں کہ اب تک اس جنگ نے آٹھ ارب انسانوں کو عذاب میں مبتلاکر رکھا ہے ۔ یہ ملک دشمن چاہتے ہیں کہ جنگ طویل سے طویل ہوتی جائے تاکہ بھوک سے مارے وہ لوگ باہر نکلیں جو عمران نیازی کے کسی بیانیے کیلئے نہیں نکلے ۔گدھوں کے اس ہجوم نے کبھی ٹرمپ کی جیت پر بھنگڑے ڈالے اور کبھی بھارت کو آپریشن سندورٹو کرنے کی دعوت دی ۔ بھارت کے ساتھ جنگ کے دوران اسے نورا کشتی کہتے رہے اور اب جب کہ دو ملک ایک خوفناک جنگ لڑ رہے ہیں۔ یہ بے غم اور بے فکرے ڈالر میڈصحافی پاکستانی حکومت ¾ افواج پاکستان اور اس کے دوسرے اداروں کے خلاف جھوٹا ¾ بے بنیاد اور منفی بیانیہ بنا کر ساری دنیا میں پھیلانے چاہتے ہیں تاکہ پاکستان ایک 
خوفناک خانہ جنگی کی طرف چلا جائے اور ان کے وہ مقاصد پورے ہو جائیں جن کا خواب عمران نیازی نے دیکھا تھا ۔ ایسا بولنے اور لکھنے والوں کی اپنی اوقات یہ ہے کہ یہ پاکستان کی سرزمین پر قدم بھی رکھنے کیلئے تیار نہیں ۔ کوئی مردہ باپ کے انگوٹھے لگواتا پکڑا گیا اور کوئی پاکستان کے ساتھ مرنے جینے کی قسم کھا کر خچر پر بیٹھ کر برطانیہ پہنچ گیا ۔ ایسے تمام یوٹیوبرز جو پاکستان سے باہر بیٹھ کر منفی پروپیگنڈا کا حصہ بنے بیٹھے ہیں اُن کے رابطے پاکستان تحریک انضاف کی تمام مرکزی قیادت سے ہیں اور یہ انہیں بھارت سے ملنے والے ہر کنٹنٹ کا حصہ بنادیتے ہیں ۔ جنگ تو بہت دور کی بات ہے یہ لوگ دو انسانوں کے درمیان جھگڑے نمٹانے کی صلاحیت بھی نہیں رکھتے لیکن انہیں یہ معلوم ہے کہ پاکستان ایران کو دھوکا دینا چاہتا ہے اور اس کیلئے انہوں نے گلگت کے ایک شیعہ لیڈر کو بھی سینیٹر بنا رکھا ہے جس کی رسائی گلگت سے باہر بھی نہیں لیکن آرمی چیف بقول اُس رہنما کے یہ کہا ہے کہ جس کو ایران پسند ہے وہ ایران چلا جائے ۔ ایسے بے شرم اور ننگ وطن لوگوں کو شرم سے ڈوب مرنا چاہیے کہ تمہار ے نجس وجود کا اس دھرتی سے تعلق بھی نا قابل قبول ہے۔ ان شاءاللہ جنگ ختم ہو گی اور اس میں پاکستان کا کلیدی کردار ہو گا اور وہ ایسے مائنڈ سیٹ کے تابوت میں آخری کیل ثابت ہو گی لیکن ابھی صبر کیجیے۔

ٹیگز: