دنیا میں میر جعفروں کی کمی نہیں اسی لئے امریکہ اپنے مفادات کےلئے میرجعفروں کی ”ٹوہ “میں رہتا ہے اور وہ مخالفین کو استعمال کرکے اپنے مقاصد حاصل کرتا ہے وینزویلا ایک بار پھر عالمی توجہ کا مرکز بن گیا ہے اور اس کی وجہ صرف سیاسی بحران نہیں بلکہ وہ بے پناہ قدرتی دولت ہے جسے دنیا کی سب سے بڑی معیشتیں سٹرٹیجک اہمیت دیتی ہیں،وینزویلا کے پاس دنیا کے سب سے بڑے ثابت شدہ تیل کے ذخائر موجود ہیں، جن کی مقدار تقریباً 303 ارب بیرل بتائی جاتی ہے، تیل کے علاوہ وینزویلا قدرتی گیس کے ذخائر میں بھی دنیا کے سرفہرست ممالک میں شامل ہے، جہاں 6.3 ٹریلین مکعب میٹر سے زائد گیس موجود ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر سیاسی رکاوٹیں دور ہوں تو قدرتی گیس وینزویلا کی معیشت کو تیزی سے سہارا دے سکتی ہے، ماہرین کے مطابق وینزویلا کی اصل آزمائش وسائل کی کمی نہیں بلکہ سیاسی استحکام، شفاف نظامِ حکمرانی اور عالمی اعتماد کی بحالی ہے۔ اگر یہ عناصر میسر آ جائیں تو وینزویلا خطے میں توانائی، تجارت اور معیشت کا ایک اہم مرکز بن سکتا ہے لیکن اندرونی توڑپھوڑکاوینزویلا کی تباہی میں اہم کردار ہے جس سے امریکہ نے فائدہ اٹھایا،دس بیس سال قبل امریکہ کے پاس اتنی جدید ٹیکنالوجی نہیں تھی اس کا ثبوت یہ ہے کہ 70 میں ایران سے یرغمالی نکالنے کےلئے امریکہ نے کوشش کی تھی جو بری طرح ناکام ہوئی لیکن اب یہ جدید ٹیکنالوجی امریکہ اور اسرائیل کے پاس ہے اس کی مثال ایرانی جرنیلوں اورحماس قیادت کی شہادت ہے اور انہیں یہ بھی پتہ تھا کہ اسماعیل ہنیہ کس کمپاﺅنڈ میں ہیں اسی لئے اب امریکہ اور اسرائیل کسی کو خاطر میں نہیں لاتے اور جہاں جی کرے بدمعاشی کرتے ہیں اس کا ثبوت وینزویلا ہے جس کے صدرمودوروکوامریکہ نے کسی مزاحمت کے بغیراہلیہ سمیت حراست میں لے لیا جس سے یہ بھی اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ وینز ویلا میں اندر سے میر جعفردشمن سے ملے ہوئے تھے دوسری طرف امریکی ٹیکنالوجی سے ڈیفنس سسٹم جام ہوکر رہ گیا جس سے مودورو کو گرفتار کرنا اور آسان ہو گیاکہا گیا ہے کہ سی آئی اے نے منصوبہ بندی سے کارروائی کی کیونکہ وینزویلا کے صدر نے کئی پناہ گاہوں کو اپنے لئے بنا رکھا تھا کہ جہاں سے انہیں پکڑنا مشکل تھا لیکن یہاں بھی میر جعفروں نے کام کر دکھایاکیونکہ ملک میں غربت مہنگائی سے لوگ پریشان تھے بے چینی ہو تو پھر غداروں کو ڈھونڈنا مشکل نہیں ہوتاجیسے وینزویلا کے صدر کو گرفتار کرتے وقت ہواامریکہ نے پہلے دھمکی بھی دی تھی کہ مودورو کو اگر ہمارے حوالے نہ کیا گیا تو عراق،افغانستان کی طرح انجام کےلئے تیار رہوشائد اسی لئے کسی نے مزاحمت نہ کی اور چپ چاپ اپنے صدرکو امریکی ہم منصب کے حوالے کر دیا گیااس سے ثابت ہو گیا کہ جو طاقتور ملک ہے وہ جو چاہے کرے اس کےلئے کوئی قائدہ قانون نہیں وینز ویلا کے معاملے پرکچھ ملکوں کی ردعمل بھی آیا اور کئی فلسطین کی طرح مذمتوں میں لگے ہیں وینز ویلا تیل پیدا کرنے والا ایک بڑا ملک ہے امریکہ بھی تیل پر قبضہ ہی کرنا چاہتا ہے ورنہ اسے وینزویلا کے غربت کے مارے عوام سے کوئی غرض نہیں وینزویلا میں چین اورروس کے بھی مفادات ہیں اور وہ یو این او میں ہنگامہ آرائی کریں گے اور یہ مسئلہ ہنگامہ آرائی سے آگے جائے گا بھی نہیں ؟وینزویلا میں اس وقت دو تین گروپ کام کررہے ہیں جنہیں اپنے اپنے مفادات عزیز ہیں ٹرمپ چین کی لا طینی امریکہ سے بڑھتی قربتوں سے خائف تھا وینزویلا میں چینی اثر رسوخ بھی اسے ایک آنکھ نہ بھاتا تھا وینزویلا کے صدر کی گرفتاری چائنا کےلئے بھی پیغام ہے اب دیکھنا یہ ہے کہ دنیا کی ردعمل کی ہوتا ہے یا وہ مقبوضہ کشمیر اور فلسطین میں مظالم کو دیکھتے ہوئے کبوتر کی طرح آنکھیں بند کرکے تماشا دیکھتے ہیں یا مظلوموں کا ساتھ دیتے ہیں یہ آنے والا وقت ہی بتائے گا لیکن آج جو ممالک امریکہ کو اپنا دوست سمجھتے ہیں کیا کل کلاں کو ٹرمپ کی ہاں میں ہاں نہیں ملاتے تو پھر جدید ٹیکنالوجی سے ان ممالک کے سربراہوں کو بھی پکڑ کر زندان میں ڈال دیا جائے گا یہ بھی سوچنے والی بات ہے،کسی بھی ملک کے داخلی امور میں مداخلت امریکی وتیرہ ہے ،کسی بھی ملک کے اندرونی مسائل میں مداخلت، وہاں سازش کے تحت خلفشار اور عدم استحکام پیدا کرنادنیا کے لئے کوئی نئی بات نہیں اگر کسی ملک میں امریکہ کی مرضی کے خلاف کوئی حکومت قائم ہو تو اس کا یہ مطلب ہرگز نہیں امریکہ اور اسرائیل کا گٹھ جوڑ اسلامی ممالک کے خلاف اس بات کا ثبوت ہے کہ وہ خودمختار اور آزاد اسلامی ریاستوں کی آزادی، حریت اور استقلال کو برداشت کرنے پر آمادہ نہیں جس طرح ایران نے ماضی میں امریکی و اسرائیلی جارحیت کے مقابلے میں استقامت دکھائی اور جارح کو رسوا کن ناکامی و شکست کا سامنا کرنا پڑا، اسی طرح آئندہ بھی اگر کوئی شرارت کی گئی تو پورا عالم اسلام متحد ہو کر ایران کے ساتھ کھڑا ہوگا اور اس جارحیت کو ناکام بنائیں گے ، طویل عرصے سے عائد پابندیوں اور سیاسی عدم استحکام کے باعث وینزویلا اپنی قدرتی دولت سے بھرپور فائدہ نہیں اٹھا سکا، تاہم صدر نکولس مادورو کی گرفتاری کے بعد یہ سوال دوبارہ اٹھ کھڑا ہوا ہے کہ آیا یہ وسائل اب عالمی طاقتوں کے قبضے میں آ جائیں گے؟ یہی امریکہ چاہتا تھا جس میں وہ میر جعفروں کے ذریعے کامیاب ہوا ہے۔