Wed, September 16, 2026

اسرائیلی بدمعاشی تو ختم ہوئی

اسرائیلی بدمعاشی تو ختم ہوئی

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران اسرائیل جنگ کو بند کرا کر یقینا دنیا اور خاص طور پر مشرق وسطیٰ کے امن کے لئے ایک بڑا کام کیا ہے ۔ گذشتہ مہینے پاک بھارت جنگ بندی اور ابھی ایران اسرائیل جنگ بندی میں کچھ باتیں مشترک ہیں۔ ہندوستان نے بھی پاکستان پر جب حملہ کیا تھا تویہی سوچ کر کیا تھا کہ اس کے پاس رافیل جیسے جدید ترین جنگی طیارے ہیں ۔S-400 جیسا موثر دفاعی نظام ہے تو میرا کسی نے کیابگاڑنا ہے لیکن جب پاکستان نے پلٹ کر وار کیا تو پھر لینے کے دینے پڑ گئے اور اتنی سرعت کے ساتھ فقط پانچ گھنٹوں میں ہندوستان کا اتنا کچھ بگڑ گیا کہ اسے ٹرمپ کے پائوں پکڑنے پڑ گئے اور پھر ٹرمپ کو مودی کی فیس سیونگ کے لئے میدان میں آنا پڑا اور دونوں ملکوں میں صلح کرانا پڑی۔ یہی حال اسرائیل کا تھا کہ جب سے اس کاقیام عمل میں آیا ہے یہ اس پورے خطے کا بدمعاش بنا بیٹھا ہے ۔ اس نے فلسطینیوں پر جو ظلم کے پہاڑ ڈھائے وہ اس مہذب انسانی دور کا ایک سیاہ باب ہے لیکن فلسطینیوں پر جو بھی ظلم ہو رہا ہے اس میں امریکہ اور یورپی ممالک بھی برابر کے شریک ہیں ۔ موجودہ تنازع کے تناظر میں اگر بات کریں تو آئی اے ای اے کی رپورٹ کے مطابق ایران کا نیو کلیئر پروگرام سول نیو کلیئر توانائی کے حصول کے لئے تھا۔ ایران نے کسی ملک پر حملہ نہیں کیا ۔ اس کے برعکس اسرائیل کی تاریخ اپنے پڑوسیوں پر حملوں سے بھری پڑی ہے ۔ ایران سے کس بات کا مطالبہ کیا جا رہا تھا کہ وہ نیو کلیئر بم نہیں بنا سکتا اور اس کے لئے پورا یورپ اسرائیل کے ساتھ تھا حتیٰ کہ امریکہ نے ایرانی نیوکلیئر سائٹس پر جو حملے کئے ان پر بھی یورپین یونین نے امریکہ کے حق میں بیان دیا یعنی یہ سارا کھڑاک ایران کو ایٹم بم بنانے سے روکنے کے لئے تھا لیکن ایران پر حملہ کس نے کیا اسرائیل نے جو خود اعلانیہ نیو کلیئر پاور ہے۔ ایرانی نیوکلیئر سائٹس پر امریکہ نے حملہ کیا کہ انسانی تاریخ میں امریکہ ہی وہ ملک ہے کہ جس نے دوسری جنگ عظیم میں جاپان کے دو شہروں پر ایٹم بم گرا کر تباہی کی داستانیں رقم کیں لیکن اسرائیل کو حق حاصل ہے کہ وہ نیو کلیر بم بنائے اور اس نے ایٹمی عدم پھیلائو کے معاہدے این پی ٹی پر بھی دستخط نہیں کئے جبکہ ایران اس پر دستخط کر چکا ہے۔ اب سوچا یہی تھا کہ ایران پر حملہ کر کے بالکل وہی کہانی دوبارہ دہرائیں گے کہ جو عراق اور لیبیا میں دہرائی جا چکی ہے ۔ فرق بس یہ تھا کہ دونوں جگہ پر فوجی قیادت کو خرید لیا گیا تھا جبکہ یہاں پر عسکری قیادت کو پہلے حملے میں ہی اڑا دیا گیا۔ اس کے بعد رجیم چینج کے بہت بیان آئے لیکن بات بن نہیںسکی بلکہ ایران کو تباہ کرنے کی خواہشات رکھنے والے اسرائیل کے شہر تباہی و بربادی کے مناظر پیش کرنے لگے اور دنیا کو اندازہ نہ ہو سکے کہ کس قدر تباہی ہوئی ہے اسرائیل نے پہلے تو متاثرہ جگہوں پر میڈیا کو جانے سے روک دیا اور پھر میڈیا کو اسرائیل سے ہی باہر نکال دیا اور جب اس سے بھی کام نہیںبنا تو پھر مودی کی طرح ٹرمپ کے پائوں پکڑ کر صلح کے لئے کہنا پڑا ۔ 
 سیانے کہتے ہیں کہ چور چوری سے جاتا ہے ہیرا پھیری سے نہیں جاتا تو اسرائیل کے خمیر میں خباثت لکھ دی گئی ہے اور یہ آج سے نہیں بلکہ اس کا فیصلہ صدیوں پہلے خدائے بزرگ و برتر کی ذات پاک نے قران پاک میںکر دیا تھا تو یہ اپنی حرکتوں سے تو باز نہیں آئے گا لیکن وہ جو پوری دنیا میں ایک تاثر بن چکا تھا کہ اسرائیل اس خطہ کا بد معاش ہے اور اس کے پاس اس قدر جدید ٹیکنالوجی ہے کہ کسی ملک کو اور خاص طور پر اس خطے کے ممالک کو جرأت نہیں کہ وہ اسرائیل کی جانب ٹیڑھی آنکھ سے دیکھ بھی سکیں کہ اس کے پاس آئرن ڈوم ایسا ڈیفنس میزائل سسٹم ہے جو امریکہ نے اسے خاص طور پر دیا ہوا ہے لیکن اس جنگ میں سب دبھڑ دوس ہو کر رہ گیا اور حالت یہ ہو گئی تھی کہ اسرائیلی شہری سڑکوں پر رو رو کر ایران سے جنگ بند کرنے کی اپیلیں کر رہے تھے جبکہ صفحہ اول کی اپنی پوری عسکری قیادت اور نامور سائنس دانوں کی موت کے بعد بھی ایرانی شہری سڑکوں پر جشن منا رہے تھے۔ گذشتہ مہینے جب پاک بھارت جنگ ہوئی تھی تو یہی فرق پاکستان اور ہندوستان کے شہریوں میں دیکھا گیا تھا اور در حقیقت یہ فرق ایک مسلمان اور کافر کی سوچ کا ہے ۔
ہمیں زیادہ تو علم نہیں لیکن اتنا ضرور کہہ سکتے ہیں کہ جب کسی نیو کلیئر سائٹ کو تباہ کیا جاتا ہے تو وہاں معمول سے زیادہ تابکاری پیدا ہوتی ہے لیکن امریکہ نے جن تین ایرانی نیوکلیئر سائٹس نطنز، اصفہان اور فردو کو تباہ کرنے کا دعویٰ کیا ہے وہاں پر آئی اے ای اے کی رپورٹ کے مطابق معمول سے زیادہ تابکاری نہیں نکل رہی تو اس کا مطلب ہے کہ پھر ایرانی دعویٰ درست ہے کہ انھوں نے حملوں سے پہلے ہی وہاں سے سارا ساز و سامان منتقل کر دیا تھا اور یہ بات بی بی سی نے سیٹلائٹ تصاویر کی مدد سے بتائی بھی ہے۔ جنگ ختم ہو گئی ہے اور اس کا کریڈٹ بھی یقینا ٹرمپ بہادر لیں گے اور امن کا نوبل انعام حاصل کرنے کی شدید خواہش اب مزید بڑھ گئی ہو گی اور وہ اس کے لئے کوشش بھی کریں گے اور اس کے ساتھ ساتھ حکومت پاکستان نے انھیں جس طرح سب سے پہلے نوبل امن ایوارڈ کے لئے نامزدکیا ہے تو اعتراضات اپنی جگہ لیکن اب اس فیصلے کا دفاع کرنا ممکن ہو گیا ہے ۔ 

ٹیگز: