پاک بھارت کشیدگی بظاہر کم ہوتی نظر آرہی ہے تاہم درحقیقت جنگ ابھی ختم نہیں ہوئی۔ ہاں اس نے اپنی ہیئت ضرور تبدیل کی ہے۔ پاکستان کا مسئلہ یہ ہے کہ اس کا دشمن بزدل ، دھوکے باز اور کم ظرف ہے۔ مکر و فریب اور جھوٹ اس کی گتھی میں ہے۔ وہ بولتا ہے تو جھوٹ بولتا ہے ، معاملات طے کرتا ہے تو ان کی بنیاد دھوکہ دہی اور وعدہ خلافی پر رکھتا ہے۔ ایسے کمینے دشمن کے لیے پاکستان کو ہر وقت تیار اور چوکنا رہنا پڑے گا۔ ہندو توا کی زہریلی سوچ کے حامل بھارت کے وزیراعظم نریندر مودی کی سربراہی میں موجودہ قیادت کی اس وقت حالت کھسیانی بلی کھمبا نوچے کے مصداق ہے جو پاکستان کے ہاتھوں بُری طرح مار کھانے کے بعد اس وقت اپنے زخم چاٹ رہی ہے تام مکار لومڑی کی طرح اب بھی ایسے موقع کی تلاش میں ہے جس سے وہ پاکستان کو نقصان پہنچا سکے۔ اس سے قبل بھارت کے وحشیانہ حملوں میں 40 شہریوں اور 11 جوانوں نے بھی جام شہادت نوش کیا۔ پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے مطابق 6 اور 7 مئی کی درمیانی شب، بھارتی افواج نے بلا اشتعال اور قابل مذمت وحشیانہ حملے شروع کیے، ان حملوں میں خواتین، بچوں اور بوڑھوں سمیت معصوم شہریوں کو نشانہ بنایا گیا۔ بھارتی حملوں میں 40 شہری شہید ہوئے جن میں 7 خواتین اور 15 بچے شامل ہیں جب کہ حملوں میں 10 خواتین اور 27 بچوں سمیت 121 افراد زخمی ہوئے۔
جہاں تک تعلق ہے کہ پاکستان نے بھارت کو اس دفعہ کیسے چھٹی کا دودھ یاد دلا دیا تو اس کی سب سے بڑی وجہ وہ فرق ہے جو پاکستان کے سپہ سالار جنرل آصف منیر کی وطن سے سچی محبت اور بے خوف قیادت کی صورت میں سامنے آیا ہے۔ یقیناً جب سپہ سالار مضبوط اعصاب کا مالک ہو اور بھارت جیسے دشمن کو ناکوں چنے چبوانے کا حوصلہ رکھتا ہو تو پھر وہی نتائج برآمد ہوتے ہیں جو اس وقت سامنے آئے ہیں۔ نریندر مودی اور اس کے حواریوں کو نہ صرف بھارت کے اندر بلکہ دنیا بھر میں ہزیمت کا سامنا ہے۔
جہاں تک امریکہ کا سوال ہے تو ڈونلڈ ٹرمپ اور امریکی انتظامیہ پہلے تو پاک بھارت کشیدگی میں اپنا کوئی کردار ادا کرنے سے انکاری تھے تاہم جیسے ہی افواج پاکستان کی طرف سے بھارتی فوج کو زناٹے دار تھپڑ پڑنا شروع ہوئے اور امریکی انتظامیہ پر یہ واضح ہو گیا کہ اگر پاکستان کو نہ روکا گیا تو اگلے کچھ ہی گھنٹوں میں بھارت کو ناقابل تلافی نقصان پہنچ سکتا ہے تو امریکی انتظامیہ اپنے بغل بچے کو بچانے کے لیے میدان میں کود پڑی۔ ٹرمپ کی طرف سے کشمیر کے مسئلے پر ثالثی کی آفر کو بڑی باریک بینی سے دیکھنا ہو گا پاکستان کی عسکری و سیاسی قیادت کو اس امر کو ذہن نشین رکھنا ہو گا کہ پاکستان کا گزشتہ کئی دہائیوں سے صرف ایک ہی موقف رہا ہے کہ کشمیر کا مسئلہ اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق استصواب رائے کے ذریعے حل ہونا چاہیے۔ اس کے علاوہ کشمیر کا کوئی بھی حل نہ صرف کشمیریوں کو ناقابل قبول ہو گا بلکہ پاکستانی عوام بھی اس کو تسلیم نہیں کریں گے۔
پاکستانی قیادت نے جن تین حل طلب نکات کی بات کی ہے ان میں کشمیر، دہشت گردی اور سندھ طاس معاہدہ شامل ہے۔ جہاں تک دہشت گردی کا تعلق ہے تو بھارت پوری دنیا میں دہشت گردی ایکسپورٹ کرنے کا مرکز بن چکا ہے کینیڈا میں سکھ رہنما کا قتل ہو یا امریکہ میں سکھ رہنماؤں کے قتل کی سازش یا پھر پاکستان میں افغانستان کے راستے گزشتہ کئی دہائیوں سے جاری دہشت گردی کی پراکسی وار، جس میں اب تک ایک لاکھ سے زائد پاکستانی شہید جبکہ پاکستانی معیشت کو ڈیڑھ سو بلین ڈالر کا نقصان پہنچ چکا ہے، بھارت اس میں پوری طرح ملوث ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ بھارت کی جانب سے پاکستان پر لگائے جانے والے دہشت گردی کے الزامات پر وضاحتی پوزیشن لینے کے بجائے اسلام آباد کو دہشت گردی میں ملوث بھارت کا مکروہ چہرہ دنیا پر عیاں کرنا ہو گا اسکے لیے ایک جامع حکمت عملی کے تحت زبردست سفارت کاری کا مظاہرہ کرنا ہو گا۔ سندھ طاس معاہدے اور کشمیر پر ذرا بھی لچک دکھانے کی ضرورت نہیں۔ کشمیر پر اقوام متحدہ کی قراردادیں موجود ہیں جبکہ سندھ طاس معاہدہ کی گارنٹی ورلڈ بینک نے دی ہوئی ہے بھارت اس سے راہ فرار اختیار کرنا بھی چاہے تو نہیں کر پائے گا۔
سب سے اہم بات یہ ہے پاکستان کی قیادت کو اسرائیل پر اس وقت پوری نظر رکھنا ہو گی۔ ہمارے شہروں میں اسرائیلی ڈرون آنے کے بعد پاکستان اسرائیل کے خلاف کسی بھی طرح کی کارروائی کرنے کے لیے حق بجانب ہے۔ پاکستان کے دشمنوں جس میں امریکہ، اسرائیل اور بھارت سر فہرست ہیں کا گٹھ جوڑ کھل کر سامنے آ چکا ہے۔ پاکستان کو اس وقت نہ صرف فلسطینیوں کی کھل کر مدد کرنی چاہیے بلکہ اسرائیل مخالف قوتوں کی اخلاقی کے ساتھ عسکری مدد بھی کرنی چاہیے۔ جہاں تک تعلق ہے پاکستان کے اندر ایسی قوتوں کا جو درپردہ بھارت کے ساتھ ملی ہوئی ہیں انہیں اس وقت منہ کی کھانا پڑی ہے خاص طور پر پی ٹی آئی کے بیانیے کا دھڑن تختہ ہو چکا ہے، پوری قوم پاک فوج کے حق میں باہر آ چکی ہے دنیا بھر میں پاکستان کی قیادت کے حق میں مظاہرے ہو رہے ہیں۔ دنیا کی نظریں اس وقت پاکستان پر لگی ہوئی ہیں عرب ممالک ہوں چین ہو، روس ہو یا پھر جنوبی ایشیا کے ممالک پاکستان کی فوجی صلاحیت پر انگشت بہ دندان ہیں۔ ہر کوئی اس وقت پاکستان کی خوشنودی کا طالب نظر آتا ہے۔