Wed, September 16, 2026

ڈاکٹر عافیہ کیس پر دیے گئے بیان پر اسحاق ڈار کی وضاحتی ٹویٹ

ڈاکٹر عافیہ کیس پر دیے گئے بیان پر اسحاق ڈار کی وضاحتی ٹویٹ

اسلام آباد: نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے اپنے حالیہ بیان کے حوالے سے وضاحت جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ ڈاکٹر عافیہ صدیقی کے کیس کا تذکرہ ایک مثال کے طور پر کیا گیا، جسے غلط مفہوم میں پیش کیا جا رہا ہے۔

سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس (سابقہ ٹوئٹر) پر جاری بیان میں اسحاق ڈار نے کہا کہ اٹلانٹک کونسل واشنگٹن میں ایک سوال کے جواب میں انہوں نے عمران خان کیس کے تناظر میں بات کی تھی، لیکن اس میں عافیہ صدیقی سے متعلق جملے کو بنیادی سیاق و سباق سے الگ کر کے پھیلایا جا رہا ہے۔

انہوں نے کہا کہ مسلم لیگ (ن) کی حکومتوں نے ہمیشہ ڈاکٹر عافیہ صدیقی کی رہائی کے لیے بھرپور سفارتی اور قانونی کوششیں کی ہیں، اور یہ سلسلہ اس وقت تک جاری رہے گا جب تک یہ معاملہ مکمل حل نہیں ہو جاتا۔

اسحاق ڈار کا کہنا تھا کہ ہر ریاست کا اپنا عدالتی نظام اور قانونی طریقہ کار ہوتا ہے، جس کا احترام ضروری ہے، چاہے وہ پاکستان ہو یا امریکہ۔

انہوں نے زور دیتے ہوئے کہا کہ ڈاکٹر عافیہ صدیقی کے کیس پر حکومت پاکستان کا موقف واضح، مستقل اور غیر مبہم ہے اور ہم انسانی ہمدردی کے اصولوں کے تحت ہر ممکن کوشش کرتے رہیں گے۔

واضح رہے کہ اٹلانٹک کونسل میں گفتگو کے دوران ایک سوال کے جواب میں اسحاق ڈار نے کہا تھا کہ قانونی کارروائی پاکستان میں شفاف انداز سے جاری ہے، جیسے کہ عافیہ صدیقی کا معاملہ برسوں سے امریکی عدالتوں میں زیر بحث رہا اور اس کے بعد سزا دی گئی۔

اسحاق ڈار نے کہا کہ اگر یہ فیصلہ قانونی ضابطے کے تحت کیا گیا ہے تو دنیا بھر میں اسی معیار کو اپنایا جانا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ سیاسی معاملات اور عدالتی فیصلوں کو آپس میں خلط ملط کرنا مناسب نہیں۔

 
 

ٹیگز: