یورپ کے ساتھ ساتھ پوری دنیا کے ممالک کو امریکہ کے پنجہ استبداد سے نکلنے کا پہلا اور آخری موقع مل رہا ہے۔ اگر یہ موقع ضائع کر دیا گیا تو پھر شاید دوسرا موقع اس وقت آئے جب بعض من پسند ممالک امریکہ کے مکمل قبضے میں جا چکے ہوں انہیں بے دست و پا کر کے ہمیشہ کے لئے امریکی غلامی میں لے لیا جائے پھر ان کا وہی حشر ہو جو متحد نہ ہونے کی صورت میں اور ایک دوسرے کی ٹانگ کھینچنے کے بعد اہم ترین مسلمان ملکوں کا ہو چکا ہے۔
ورلڈ اکنامک فورم کا اجلاس اپنے اختتام کے بعد اس میں شریک ممالک کے لئے اہم فیصلوں کا متقاضی ہے۔ انہیں یہ فیصلے جلد کرنا ہوں گے کیونکہ صدر امریکہ نے تو اپنا ایجنڈا دنیا کے سامنے رکھ دیا ہے کہ وہ کیا کرنے والے ہیں۔ اس اجلاس میں کوئی ان سے پوچھنے والا نہ تھا کہ امریکہ جو کچھ کر رہا ہے اور کرنے جا رہا ہے اس کا کوئی اخلاقی قانونی اور معاشرتی جواز نہیں البتہ ایک شخصیت نے اپنی سترہ منٹ کی تقریر میں وہ سب کچھ کہہ دیا جو کوئی کہنے کی جرأت نہ کر سکا۔ ورلڈ اکنامک فورم کا یہ اجلاس دو حوالوں سے ہمیشہ یاد رکھا جائے گا۔ ڈونلڈ ٹرمپ نے تو جو کہنا تھا اس کی توقع کی جا رہی تھی لیکن کینیڈا کے وزیراعظم کا جرأت مندانہ خطاب دنیا کی آنکھیں کھولنے کے حوالے سے ہمیشہ یاد رکھا جائے گا۔ مارک کارنی نے بڑی طاقتوں کے کرتوت اور عزائم پر کھل کر اظہار کیا، ان کا خطاب فارن افیئرز، ڈپلومیسی پس پردہ کام کرنے والوں اور ان شعبوں کے طلبا کے لئے نصابوں اور کتابوں میں شامل کرنا چاہیے جس کے بعد اس اجلاس میں شریک ہر شخصیت نے کھڑے ہو کر انہیں داد دی گویا انہوں نے وہ باتیں کینیڈین وزیراعظم کی زبان سے سنیں جو ان کے دل کی بات تو تھی لیکن وہ اسے کہنے کا حوصلہ نہ رکھتے تھے۔ مارک کارنی نے واضح کہا اقوام متحدہ ڈبلیو ٹی او اور اس قسم کے نصف درجن ادارے جن مقاصد کیلئے بنائے گئے وہ بڑی طاقتوں کے ہاتھوں یرغمال بنے رہے اور کوئی ڈھنگ کا کام نہ کر سکے۔
یہ حقیقت اب کوئی راز نہیں کہ بڑی طاقتوں نے جو کام بھی کیا جو قدم بھی اٹھایا اس میں کسی طبقے کے لئے کسی ملک کے بسنے والوں کے لئے کوئی خیر کا جذبہ نہیں بلکہ اپنی منفعت تھی۔ دوسرے ملکوں کے وسائل پر قبضے میں خیر کا پہلو تلاش کرنے والے دراصل اسی بین الاقوامی مافیا کے ساتھی تھے۔ وہ آج بھی یہ کہہ رہے ہیں کہ ہم وینزویلا کا تیل بیچ کر وہاں کے عوام پر یہ دولت خرچ کریں گے اور ان کی زندگی کو بہتر بنائیں گے۔ گویا وہ نئے دور کے سلطانہ ڈاکو ہیں۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ کینیڈا کی طرف سے دی گئی بیداری کی کال کون کون سنتا ہے اور کون کان لپیٹے پڑا رہتا ہے۔ کینیڈا نے مستقبل کے چیلنجز سے نمٹنے کے لیے جو کچھ کیا ہے وہ حیرت انگیز ہے۔ وہ اس روڈ میپ پر عمل کر کے یقینا کامیابی حاصل کریں گے۔ کینیڈا نے سرمایہ کاری پر ٹیکس کم کیے ہیں۔ بین الاقوامی تجارت کی راہ میں حائل رکاوٹیں یکسر ختم کر دی ہیں۔ توانائی، آرٹیفشل انٹیلی جنس معدنیات اور تجارتی راہداریوں کو اپ گریڈ کرنے میں ایک کھرب ڈالر کی سرمایہ کاری کا فیصلہ کرنے کے بعد اس پر عمل کی رفتار کو تیز کر دیا ہے۔ وہ اپنی مقامی صنعتوں کو مضبوط کرتے ہوئے 2030ء تک اپنے دفاعی بجٹ کو دوگنا کرنے جا رہے ہیں جبکہ امریکہ فقط نئے ممالک نئے جزیروں پر قبضے کے پروگرام بنا رہا ہے اور دنیا بھر کے ان تمام ممالک پر ٹیکسز میں اضافہ کر رہا ہے جنہیں وہ اپنے عزائم کی راہ میں رکاوٹ سمجھتا ہے۔
امریکی پالیسیوں کے سبب پورا یورپ ہی نہیں بلکہ خطے کے دیگر ممالک اب ذہنی طور پر امریکہ سے دور ہوتے جا رہے ہیں اور کسی اور کا اتحادی بننے کی خواہش رکھتے ہیں۔ کینیڈا کبھی امریکہ کا سب سے بڑا اتحادی تھا۔ اب وہ چین کی طرف تیزی سے بڑھ رہا ہے، اس کی بڑی وجہ یہی تھی کہ امریکی صدر نے کینیڈا کو امریکہ کی ایک ریاست بنانے کا پرزور مطالبہ کیا۔ انہیں باری کرانے کی کوشش کی کہ آج کینیڈا ہے تو صرف امریکہ کی وجہ سے ہے۔ کل کو وہ برطانیہ یا کسی اور یورپی ملک کے لئے بھی یہ دعویٰ کر سکتا ہے۔ پس وینزویلا پر یلغار گرین لینڈ ہتھیانے کی ہوس اور غزہ پر قبضے کے لئے کیے جانے والے اقدامات اور خواہ مخواہ کی ایران کے خلاف قریباً نصف صدی کی محاذ آرائی نے دنیا کی آنکھیں کسی حد تک کھول دی ہیں۔ امریکہ نے فرانس کے ساتھ بلاجواز بگاڑ پیدا کیا، نتیجتاً فرانس، اب چین اور روسی بلاک سے تعلقات بہتر کرتے ہوئے چین کے ساتھ اہم تجارتی معاہدے کر رہا ہے۔ امریکہ کا سب سے بڑا بغل بچہ اور اتحادی برطانیہ ہے جو دوسری جنگ عظیم کے بعد سے امریکی تسلط کو قائم رکھنے اسے بڑھانے میں اور اس کی پالیسیوں پر عمل پیرا ہونے میں سب سے آگے آگے نظر آتا تھا۔ وہ بھی امریکہ سے خوش نہیں۔ برطانیہ نے عراق پر امریکی اور نیٹو یلغار میں سب سے زیادہ معاونت کی اور کیمیائی ہتھیاروں کی عراق میں موجودگی کی جھوٹی اطلاعات اور تحقیقات کے سبب اپنا منہ کالا کیا لیکن آج وہ امریکہ کی شدید خواہش کے باوجود غزہ پیس بورڈ کا حصہ بننے کے لیے تیار نہیں حالانکہ خیال کیا جا رہا تھا کہ برطانیہ وہ پہلا ملک ہو گا جو اس بورڈ کا حصہ بنے گا۔ برطانیہ کے علاوہ روس، چین، بھارت، جرمنی، فرانس اور دیگر اہم طاقتیں ٹرمپ کی خواہش کے باوجود پیس بورڈ میں شامل ہونے کی خواہش نہیں رکھتی بعض طاقتوں کی طرف سے کھلے لفظوں میں کہا گیا ہے کہ غزہ پیس بورڈ کی تشکیل سے قبل جو اغراض و مقاصد بتائے گئے تھے، انکار مرکزی نکتہ غزہ میں جنگ بندی آزاد ریاست فلسطین کا قیام تھا جو بورڈ کی تشکیل کے بعد نظر نہیں آ رہا جبکہ بادیٔ النظر میں لگتا ہے کہ بعض دیگر مقاصد کے لئے پیس بورڈ میں شامل ممالک کی طاقت اہمیت اور ان کے وسائل کو استعمال کیا جائے گا۔ فلسطینی ریاست اور فلسطینی عوام کہیں پیچھے رہ جائیں گے۔
غزہ پیس بورڈ کی جو شکل آج نظر آ رہی ہے، ضروری نہیں وہ اگلے برس تک برقرار رہے، اس میں تبدیلی ہو سکتی ہے۔ آج جو ممالک اپنے ساتھیوں سمیت اس بورڈ میں شامل ہو رہے ہیں۔ ان پر کسی قسم کا پریشر بھی ہے لیکن سب کو نومبر 2026ء کا انتظار ہے۔ امریکی صدر کی قسمت کا فیصلہ مڈٹرم الیکشن میں ہونا ہے، بعض طاقتیں اس بات کے لئے کوشاں ہیں کہ وہ اکثریت حاصل نہ کر سکیں یوں ان کے خلاف عدم اعتماد کی راہ ہموار ہو اور امریکی صدر کی تبدیلی کے ساتھ بہت کچھ بدل جائے۔ پیس بورڈ اجلاس کے دوران امریکی صدر اور وزیراعظم پاکستان ایک دوسرے کے ساتھ سرگوشیاں کرتے ہاتھ دباتے شانے پر ہاتھ رکھتے نظر آئے یوں لگا جیسے یک جان دو قالب ہیں پھر وزیراعظم پاکستان نے کسی طرف اشارہ کیا۔ ڈونلڈ ٹرمپ نے ادھر دیکھا اور خوشی و اطمینان کا اظہار کیا۔ وزیراعظم نے انہیں ہاتھ کے اشارے سے بتایا کہ آج ہم نے جو کامیابیاں حاصل کی ہیں وہ ان کا کریڈٹ ہے جبکہ ایک دوسری تشریح یہ ہے کہ انہوں نے اب تک پاک امریکہ تعلقات میں پیش رفت کی تمام ذمہ داری بھی اسی شخصیت پر ڈال دی ہے کیا پاکستان نے امریکہ بھارت میں آنے والی دراڑ کو خوب استعمال کیا ہے یا استعمال ہوا ہے؟ اہم سوال کا جواب ملنے میں کچھ وقت لگے گا۔