پاکستان دہشت گردی کی نئی لہر کی لپیٹ میں ہے۔ مارچ کا مہینہ درجنوں قیمتی جانیں لے گیا، بولان میں جعفر ایکسپریس ٹرین اغوا کاروں کے ہاتھ سے رہا تو ہو گئی لیکن بارہ روز گزرنے کے باوجود دوبارہ پٹری پر نہ آ سکی۔ اس کے انجن اور ڈبوں کو شدید نقصان پہنچا ہے جن کا متبادل شاید موجود نہ تھا۔ ابتداء میں کہا گیا کہ چند روز کے تعطل کے بعد ٹرین معمول کے مطابق اپنے سفر پر نظر آئے گی لیکن اب واضح خبر آ گئی کہ اسے غیر معینہ مدت کیلئے بند کر دیا گیا ہے۔ کیا یہ ممکن نہ تھا کہ جعفر ایکسپریس کو بہترین حفاظتی انتظامات کے تحت رواں دواں رکھا جاتا۔ یوں دہشت گردوں کو پیغام ملتا کہ وہ بلوچستان کا زمینی رابطہ دیگر ملک سے کاٹنے میں ناکام ہیں اور آئندہ بھی کبھی کامیاب نہیں ہوں گے۔ عید کے موقع پر کوئٹہ سے ملک کے دیگر شہروں کو آنے کے لئے سال بھر سے منصوبہ بندی کرنے والے ناامید ہو گئے ہیں، اب انہیں متبادل ذرائع استعمال کرنا ہوں گے۔ زمینی راستے سے آنے والے متعدد مرتبہ تخریب کاروں کے نرغے میں آئے ہیں۔ جب خاص طور پر پنجاب کے رہائشیوں کے شناختی کارڈ دیکھ کر انہیں بے دردی سے موت کے گھاٹ اتار دیا گیا۔ اس قسم کے واقعات کا ایک تسلسل ہے جو ’’نرم ریاست کے نرم سلوک‘‘ کے طفیل ختم نہیں ہو سکا۔ اہم سوال یہ ہے کہ اگر بینک کی کسی برانچ میں ڈکیتی کی واردات ہو جائے تو اس کی تمام برانچیں بند کر دی جاتی ہیں یا حفاظتی انتظامات کو بہتر بنایا جاتا ہے؟ گرفتار دہشت گردوں کو سات پردوں میں رکھ کر سزا سنانے کی بجائے انہیں تمام دنیا کے سامنے فائرنگ سکواڈ کے سامنے کھڑا کرکے اڑا دیا جائے تو دہشت گردوں کے ساتھیوں کو عبرت حاصل ہوگی اور جن کے پیارے دہشت گردانہ کارروائیوں کا نشانہ بنے انہیں یک گونہ سکون حاصل ہوگا۔ ملک دشمن عناصر کو نیا سبق یہ پڑھایا گیا ہے کہ جس طرح مشرقی پاکستان کا فضائی راستہ بند ہونے پر مکتی باہنی کے روپ میں موجود بھارتی فوج کو کامیابی ملی تھی، پاکستانی فوج کو کمک تک نہ پہنچائی جا سکی۔ اسی طرح اگر وہ بلوچستان کا زمینی راستہ منقطع کر دیں تو انہیں بڑی کامیابی مل سکتی ہے، ملک دشمن عناصر کی سرکوبی پر مامور اس چال کا کیا سدباب کرتے ہیں، وہی بہتر جانتے ہیں اور یقینا اس میں کامیاب رہیں گے۔ قوم ان کی پشت پر کھڑی ہے اور ہر دم ان کیلئے دعاگو ہے۔ اسلامی نظام قائم کرنے کے خواہشمند ایک دہشت گرد کو گرفتار کرکے پوچھا گیا کہ کلمہ سنائو وہ کلمہ نہ سنا سکا۔ اس سے پوچھا گیا ہم مسلمان کس کی امت ہیں۔ اس نے جواب دیا اللہ تعالیٰ کی۔ پوچھا کس نماز میں کتنی رکعتیں ہوتی ہیں۔ جواب ملا جتنی مرضی پڑھ لو۔ سوال کیا گیا دعائے قنوت سنا دو۔ اس نے کہا وہ تو میں نے سیکھی ہی نہیں کیونکہ میں سکول نہیں گیا پھر سوال کیا گیا اسلامی نظام کی چند خصوصیات بتائو وہ مکمل خاموش رہا اور ادھر ادھر دیکھنے لگا۔ اس کلپ کو زیادہ سے زیادہ وائرل کرنا چاہئے بلکہ تمام ملکی ٹی وی چینل سے متعدد مرتبہ دکھانا چاہئے، اسے دیکھ کر یہ جاننا مشکل نہیں کہ وہ کہاں سے آیا ہے اور کس نے اسے پاکستان بھیجا ہے۔ آخری سوال تھا تمہارا ختنہ ہوا ہے۔ جواب تھا وہ کیا ہوتا ہے؟۔دہشت گردوں کی طرف سے جو فرمائشیں سامنے آ رہی ہیں وہ کچھ یوں ہیں۔ وہ علاقے جو فاٹا میں شامل تھے انہیں دوبارہ فاٹا نظام میں لایا جائے اور مقامی لوگوں کے سپرد کر دیا جائے۔ پاکستان آرمی ان علاقوں سے نکل جائے اور انہیں موقع دیا جائے کہ وہ ان علاقوں میں اسلامی نظام نافذ کر سکیں۔ کون سا اسلامی نظام، وہی جس کی ایک جھلک اس دہشت گرد کی گفتگو میں ملتی ہے جس کا کلپ سوشل میڈیا پر موجود ہے۔
دہشت گردوں کیخلاف آپریشن ناگزیر ہے اور ہو کر رہے گا۔ اس کے علاوہ کوئی چارہ نہیں۔ مریض طبیعت خراب ہونے پر ڈاکٹر کے پاس لایا جاتا ہے جو اسے کچھ ادویات تجویز کرتا ہے، کچھ پرہیز بتاتا ہے اور غذا میں کچھ چیزیں ضرور شامل کرنے اور کچھ چیزیں منہا کرنے کا کہتا ہے۔ ساتھ ہی تاکید کرتا ہے کہ دس روز بعد دوبارہ معائنے کیلئے آئے۔
مریض کو اس کے اہل خانہ پھر لے کر آتے ہیں اور بتاتے ہیں کہ اس کی فلاں جگہ میں درد ختم نہیں ہوا بلکہ بڑھ گیا ہے۔ ڈاکٹر انہیں کچھ ٹیسٹ لکھ کر دیتا ہے، ٹیسٹ ہو جاتے ہیں، رپورٹ آ جاتی ہے جنہیں دیکھ کر معلوم ہوتا ہے کہ پیٹ میں رسولی ہے جو دوائوں سے ختم نہ ہوگی، آپریشن ہی کرنا پڑیگا۔ مریض اور اس کے اہل خانہ کو بتا کر مریض کو ہسپتال داخل کر لیا جاتا ہے اور مریض کو جسمانی طور پر آپریشن کیلئے تیار کرنے کے خیال سے اسے کچھ دوائیاں، ڈرپس لگائی جاتی ہیں پھر آپریشن کرکے رسول نکال دی جاتی ہے۔ اس آپریشن کے دوران مریض کی ضرورت کے مطابق خون کی بوتلیں اور دیگر اشیا تیار رکھی جاتی ہیں۔ پیٹ کھول کر بندہ بازار نہیں بھیجا جاتا کہ جائو اور فلاں چیز لے آئو۔ سرجن آتا ہے، سرجری مکمل کرکے چلا جاتا ہے۔ مریض کو ہسپتال کے وارڈ یا کمرے میں منتقل کر دیا جاتا ہے جہاں آپریشن کے بعد کی دیکھ بھال شروع ہو جاتی ہے۔ مریض کے زخم کا دن میں دوبار معائنہ کیا جاتا ہے کہ زخم سے خون تو نہیں رس رہا۔ مریض کے ٹانکوں میں پیپ تو نہیں پڑ رہی، مریض کو ایسی غذا دی جا رہی ہے جو وہ باآسانی ہضم کر سکے، اسے ایسی دوائیاں دی جا رہی ہیں جو اس کے جسم میں قوت مدافعت پیدا کریں اور وہ جلد از جلد اپنے پائوں پر کھڑا ہو سکے۔ چند روز بعد اسے کہا جاتا ہے کہ خود کھڑا ہونے اور قدم اٹھانے کی کوشش کرے۔ ساتھ ہی اٹنڈینٹ سے کہا جاتا ہے۔ اس کے قریب رہے اور اسے سہارا دے، مزید دو روز بعد مریض اس قابل ہو جاتا ہے کہ خود سے چل کر واش روم تک جا سکے۔ اسے گھر منتقل ہونے کی اجازت مل جاتی ہے اور تاکید کی جاتی ہے کہ کم از کم دس روز مزید آرام کرے، وزن نہ اٹھائے، بھاگ دوڑ نہ کرے بلکہ سنبھل سنبھل کر قدم اٹھائے، ڈرائیونگ سے پرہیز کرے، تمام ہدایات پر عمل کرنے کے بعد مریض صحت مند ہو جاتا ہے اور سرجن اسے معمول کی زندگی گزارنے کی اجازت دے دیتا ہے۔ سرجن سرجری کا ماہر ہے، وہ یہی کر سکتا ہے دہشت گردوں کے خلاف سرجن آپریشن تو کر لے گا بعد از آپریشن مریض کی دیکھ بھال کرنے والا عملہ موجود ہے؟ اگر ہے تو کیا اس میں اتنی صلاحیت، عقل، سمجھ اور اخلاص بھی ہے کہ وہ مریض کی نگہداشت کو سرکاری نوکری سمجھ کر نہیں اپنا فرض سمجھ کر جاری رکھے؟ یہاں آ کر سرجن سوچ میں ڈوب جاتا ہے اور پوچھتا ہے کب تک گورننس کے خلا کو فوج اور شہدا کے خون سے بھرتے رہیں گے؟ سرجن کا سوال بہت اہم ہے۔