پنجاب میں پولیس اصلاحات کی کہانی اتنی پرانی ہو چکی ہے کہ اب اس پر یقین کرنا مشکل لگتا ہے۔ ہر حکومت آئی، تھانہ کلچر بدلنے کا وعدہ کیا، فنڈز جاری ہوئے، نئی گاڑیاں خریدی گئیں، عمارتیں چمکائی گئیں، مگر تھانے کے دروازے پر کھڑا شہری آج بھی خود کو کمزور اور بے بس محسوس کرتا ہے۔
اصل سوال یہ ہے کہ کیا اس بار واقعی نظام بدلے گا یا صرف پریس کانفرنسوں کا سکرپٹ؟۔
اس وقت قیادت وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز کے ہاتھ میں ہے، جنہوں نے تین ماہ کی ٹائم لائن دے کر اصلاحات کا اعلان کیا ہے۔ ٹائم لائن دینا آسان ہے، مگر دہائیوں پرانی سوچ کو بدلنا کسی نوٹیفکیشن سے ممکن نہیں ہوتا۔
پینک بٹن، 14 ہزار باڈی کیمز، آن لائن ایف آئی آر ٹریکنگ، ویڈیو و آڈیو ریکارڈنگ، موبائل پولیس سٹیشن… یہ سب اقدامات سننے میں جدید اور خوش آئند ہیں۔ شہریوں کو ‘‘سر’’ اور ‘‘جناب’’ کہنے کی ہدایت بھی دی گئی ہے۔ مگر کیا زبان بدلنے سے رویہ بدل جائے گا؟ کیا کیمرہ لگنے سے انصاف پیدا ہو جائے گا؟۔
پولیسنگ محض آلات سے نہیں، احتساب اور ذہنیت سے بدلتی ہے۔
تفتیش: سچ کی تلاش یا اعتراف کی مجبوری؟ یہ تلخ حقیقت تسلیم کرنا ہوگی کہ ہمارے ہاں تفتیشی نظام اب بھی اعترافِ جرم کے گرد گھومتا ہے۔ دباؤ، دھمکی اور تشدد…یہ وہ الفاظ ہیں جنہیں ہم چھپاتے ضرور ہیں مگر ختم نہیں کر پاتے۔
دنیا ڈی این اے، ڈیجیٹل فرانزک اور کرائم ڈیٹا اینالیسز پر کھڑی ہے، جبکہ ہم اب بھی پرانے طریقوں پر انحصار کر رہے ہیں۔
ویڈیو ریکارڈنگ کا فیصلہ مثبت ہے، مگر کیا تفتیشی افسر کو سائنسی بنیادوں پر تربیت دی جا رہی ہے؟ کیا فرانزک نظام کو مضبوط کیا جا رہا ہے؟ یا ہم صرف کیمرے لگا کر سمجھ لیں گے کہ انصاف شفاف ہو گیا؟۔
ذہن بدلے بغیر نظام نہیں بدلتا۔
ہمارے پاس کرمنالوجی میں ماسٹرز کرنے والے نوجوان موجود ہیں۔ وہ جرم کے سماجی اسباب، مجرمانہ نفسیات اور جدید تفتیشی اصولوں سے واقف ہیں۔ مگر سوال یہ ہے کہ کیا نظام انہیں قبول کرنے کو تیار ہے؟۔
بدقسمتی سے پولیسنگ کو آج بھی طاقت کا مظاہرہ سمجھا جاتا ہے، علم کا شعبہ نہیں۔
جب تک کرمنالوجی کے ماہرین کو پالیسی سازی، ریسرچ، انویسٹی گیشن سپورٹ اور کرائم اینالیسز میں شامل نہیں کیا جائے گا، اصلاحات محض نمائشی رہیں گی۔ تعلیم یافتہ افرادی قوت کو نظر انداز کرنا دراصل ریاستی نااہلی ہے۔
یہ حقیقت چونکا دینے والی ہے کہ پولیس میں باقاعدہ ریسرچ اینڈ ڈیولپمنٹ ونگ موجود نہیں۔ دنیا کے قانون نافذ کرنے والے ادارے ڈیٹا پر فیصلے کرتے ہیں۔ جرائم کے رجحانات، سائبر کرائم، منشیات نیٹ ورکس… ہر چیز پر مسلسل تحقیق ہوتی ہے۔ ہم اب بھی واقعہ ہونے کے بعد حرکت میں آتے ہیں۔ پیشگی حکمت عملی ہمارے ہاں نعرہ ہے، نظام نہیں۔ اگر مضبوط آر اینڈ ڈی ونگ قائم نہ کیا گیا تو اصلاحات وقتی ہوں گی، ادارہ جاتی نہیں۔
سب سے بنیادی سوال احتساب کا ہے۔ جس کے خلاف شکایت ہو، اگر وہی محکمہ اپنی ہی جانچ کرے تو انصاف کیسا؟ غیر جانبداری کہاں سے آئے گی؟۔ ایک آزاد اور خودمختار احتسابی ادارے کے بغیر پولیس پر عوام کا اعتماد بحال نہیں ہو سکتا۔ احتساب کے بغیر اصلاحات محض خوبصورت الفاظ ہیں۔
اہلکار کو ’’سر‘‘ یا ’’جناب‘‘ کہنے کا حکم دینا ایک انتظامی ہدایت ہو سکتی ہے، مگر عزت الفاظ سے نہیں، رویے سے ملتی ہے۔ جب تک اہلکار خود کو عوام کا خادم نہیں سمجھے گا بلکہ طاقت کا نمائندہ سمجھتا رہے گا، تھانہ کلچر نہیں بدلے گا۔ اصل اصلاح ذہنی اور اخلاقی تربیت سے آتی ہے، نہ کہ سرکلر جاری کرنے سے۔
اصلاحات کے اعلانات خوش آئند ہیں۔ جرائم میں کمی کے دعوے بھی سامنے آ رہے ہیں۔ مگر اصل سوال ابھی بھی وہی ہے:
کیا پولیسنگ کو علمی بنیادوں پر استوار کیا جائے گا؟۔
کیا کرمنالوجی کے ماہرین کو جگہ دی جائے گی؟۔
کیا ریسرچ اینڈ ڈیولپمنٹ کو ادارہ جاتی شکل دی جائے گی؟۔
کیا احتساب واقعی آزاد ہوگا؟۔
کیا پولیس کے رویے اور ذہنی ساخت میں تبدیلی آئے گی؟۔
اگر جواب ہاں میں ہے تو یقیناً تھانہ کلچر بدل سکتا ہے۔
اگر نہیں… تو یہ بھی ایک اور اصلاحاتی پیکیج ہو گا جو فائلوں میں دب جائے گا، اور عوام ایک بار پھر وہی خوف اپنے دل میں لے کر تھانے کا دروازہ کھٹکھٹائے گی۔
بات اب نعروں سے آگے بڑھ چکی ہے۔
عوام اب تقریریں نہیں سننا چاہتی… وہ تبدیلی کو محسوس کرنا چاہتی ہے۔
اور اگر اس بار بھی صرف چہرے بدلے اور کلچر نہ بدلا، تو تاریخ ایک اور وعدہ ناکام اصلاحات کی فہرست میں درج کر لے گی۔