Wed, September 16, 2026

تھانہ کلچر تبدیل کریں، جرائم کم ہوں گے

تھانہ کلچر تبدیل کریں، جرائم کم ہوں گے

پنجاب میں پولیس کا نظام بہتر کرنے کے لیے متعدد افسر ہیں جو کہ صدق دل سے چاہتے ہیں کہ عوام اور پولیس کے درمیان دوری کو کم کیا جائے اور پولیس سٹیشن آنے والے ہر سائل کو انصاف ملے لیکن محکمہ پولیس میں چھپی کالی بھیڑیں ایسا نہیں ہونے دیتیں۔ متعدد پولیس کے افسران نے اس بات کا گلہ کیا ہے کہ حکومت ہمیں ملزمان کو عدالت تک جانے اور ان کو کھانا کھلانے کے لیے کوئی بھی پیسہ ادا نہیں کرتی اور نہ ہی حکومت اس سلسلے میں پولیس والوں کو پٹرول الائونس یا ملزمان کو کھانا کھلانے کا دیتی ہے مجھے خود بھی مختلف تھانوں اور پولیس کے اعلیٰ اور دوسری افسروں کو ملنے کا اتفاق ہوتا ہے میرے دیکھنے میں متعدد تھانوں میں تفشیشی افسران کے کمروں میں ایئر کنڈیشن لگے ہوئے ہیں جبکہ زیادہ تر تفتیشیوں کے کمروں میں اے سی تو دور کی بات پانی کا کولر بھی موجود نہیں ہوتے جبکہ انسپکٹر جنرل پولیس پنجاب ڈاکٹر عثمان انور اچھی اور بڑی محفل میں پولیس ملازمین کی محکمہ کی طرف سے دی جانے والی مراعات کا ذکر کرتے ہیں میں ان سے یہ پوچھنا چاہتا ہوں کہ کیا کبھی انہوں نے تھانوں میں سفید کاغذ پنسل تھمب پیڈ اور دیگر ضروری اشیاء مہیا کرنے کے لیے رقوم جاری کی ہیں ، پولیس والے کہتے ہیں کہ ہمارے پاس تو پنسل نہیں ہے ہمارے پاس تھمب پیڈ نہیں ہے اور وہ فوری طور پر سائل کو یہ کہہ کے منگواتے ہیں اور پھر کارروائی کا آغاز کرتے ہیں یہ بلا تفریق ملزم اور مدعی دونوں کے ساتھ سلوک کیا جاتا ہے۔ ڈاکٹر عثمان انور دیکھنے میں تو یہ باتیں بہت ہی چھوٹی اور کم ہیں لیکن اگر ان چیزوں پر آپ توجہ دیں تو ممکن ہے آپ کی پولیس ان چھوٹے چھوٹے کاموں کے لیے رشوت لینے سے باز آ جائے اور عوام تھاموں میں جانے سے گھبرانے کی بجائے اپنے مسائل لے کر جا سکیں اور یہاں یہ بھی دیکھنے کو آیا ہے لین دین میں زیادہ تر جو کاروباری لوگ پولیس تھانوں کا رخ کرتے ہیں ملازم پیسے دینے والوں کو سبز خواب دکھاتے ہیں جبکہ پاکستان کی اعلیٰ عدالتوں کے فیصلوں کاروبار لین دین پر مقدمات کھڑی کرنے کے بجائے دونوں فریقین کو آپس میں بیٹھ کر پنچایتی فیصلے کرنے کی ترغیب کی ضرورت ہے۔ دیکھنے میں یہ بھی آیا ہے آپس میں لین دین اور رشتہ دار ہونے کے ناتے ایف آئی آر میں ان دفعات کو نہیں لگایا جاتا وہ بھی406 لگا دی جاتی ہے جبکہ قانون واضح ہے رشتہ داروں کی آپس کی لڑائیاں لین دین کے جھگڑے اور کاروبار معاملات میں پولیس کو دخل اندازی کی بجائے آنے والے حضرات کو عدالت کا راستہ دکھانا چاہیے لیکن پولیس کے افسران اپنی چاندی کرنے کے لیے آپس کے کاروباری لین دین والوں کی ایف آئی آر درج کرتے ہیں اور ان کو پرچہ اندراج سے بے خبر رکھ کر جب وہ تھانے میں آتا ہے اسے گرفتار کر لیا جاتا ہے یہ بھی قانون کی سراسرخلاف ورزی ہے جب کہ پاکستان اور پنجاب کا قانون ہر شہری کو یہ اجازت دیتا ہے کہ کوئی بھی مقدمہ جو اس کے خلاف درج ہوں وہ ضمانت قبل از گرفتاری کرا سکتا ہے پولیس کو پاکستان میں کرائم کم کرنے کے لیے عوام کو قانون کے مطابق یہ سہولت لے لینی چاہیے  جبکہ پولیس مین پیسے لے کر ضمنی لکھنے کی نوید سناتے ہیں کہ میں آپ کے حق میں ضمنی لکھوں گا آپ کا مقدمہ خارج اور آپ کی ضمانت ہو جائے گی۔

ٹیگز: