حکومتی استدلال کے مطابق پاکستانیوں کو پی آئی اے جیسے بوجھ سے آزاد کرانے پر ستائش و تحسین نہ کرنا زیادتی ہے۔ حاکمانِ وقت کی چوکھٹ پر سجدہ ریز قلمکار تو پی آئی اے کی نجکاری کو ایک معرکہ ثابت کرنے میں مصروف ہیں لیکن واقفانِ حال اِس نجکاری کو شفاف کی بجائے طے شدہ قرار دیتے ہیں۔ اپنے اِس دعوے کو درست ثابت کرنے کے لیے خریدار کو دی جانے والی ایسی مراعات کا تذکرہ کرتے ہیں جن کا سرے سے مطالبہ ہی نہیں کیا گیا نیز یہ کوشش کہ چاہے حکومت کو وصولی نہ بھی ہو لیکن خریدار کسی صورت خسارے میں نہ رہے۔
نجکاری کا عمل غلط یا غیر قانونی نہیں اکثر حکومتیں خسارے والے اِداروں کو نجی تحویل میں دے کر نفع بخش بناتی ہیں۔ بھارت، برطانیہ، پرتگال، جاپان، یونان سمیت کئی ممالک خسارے والی فضائی کمپنیوں سے نجات پا چکے ہیں۔ پی آئی اے بھی دو عشروں سے خسارے میں ہے۔ اِس کی ایک بڑی وجہ تو پیپلزپارٹی کا نااہل جیالوں کو بے جا نوازنا ہے۔ یوں پی آئی اے میں ضرورت سے زائد ایسے ملازمین کی بھرتی ہو گئی جو کام کرنے کی بجائے صرف تنخواہیں اور مراعات لینے تک محدود تھے۔ ایسی نوازشات سے 2013 کے اختتام تک خسارے کی رقم 44 ارب تک جا پہنچی۔ مزید ستم یہ کہ ن لیگ کے ادوار میں اندرونی اور بیرونی دوروں کے لیے پی آئی اے کو بے دریغ استعمال کیا گیا۔ اکثر نئے جہاز صرف حکمرانوں کے دوروں کے لیے وقف ہو کر رہ گئے جبکہ پُرانے جہازوں کی بروقت مرمت کرانے میں بھی کوتاہی کی گئی۔ اِس طرح یہ اِدارہ فضائی سروس دینے میں ناکام ہوتا گیا مزید ایک وجہ ن لیگ کے کچھ اہم لوگوں کا اپنی فضائی کمپنی ائر بلیو کو کامیاب کرانا ہے جس کا نتیجہ یہ نکلا کہ خسارہ پچاس ارب سے زائد ہو گیا۔ اِس کے بعد پی ٹی آئی کی ذہین اور دیانتدار حکومت نے تو حد ہی کر دی اس جماعت کے وزیر ہوا بازی غلام سرور خان نے شہرہ آفاق بیان داغا کہ ہمارے تو اکثر پائلٹوں کے لائسنس ہی جعلی ہیں، اس سے ڈرکر لوگ پی آئی اے پر سفر کرنے سے کترانے لگے اور یورپی یونین نے بھی پابندی لگا دی۔ مسافر کم ہونے کے ساتھ کئی منافع بخش روٹ ختم ہونا ایسا بھاری نقصان تھا جس
سے پھر یہ اِدارہ سنبھل نہ سکا اور پچاس ارب کا خسارہ اچانک 88 ارب کے ہندسے کو چھونے لگا اب جبکہ یورپی یونین نے پابندی ہٹا دی ہے اور پی آئی اے کے جہاز امریکہ، یورپ تک جانے لگے ہیں اور اِس کا دوبارہ نفع میں جانا یقینی ہے تو حکومت 75 فیصد حصص 135 ارب میں بیچ کر کچھ اِس طرح الگ ہو گئی ہے کہ پی آئی اے کے ذمہ واجب الادا 650 ارب اپنے ذمے لے لیے ہیں نئے جہازوں کی خریداری یا لیز پر عائد 18 فیصد جی ایس ٹی کی پندرہ برس تک چھوٹ الگ دیدی ہے۔ اِس اِدارے کے ریٹائرڈ ملازمین کی پنشن، میڈیکل بِل اور مفت فضائی ٹکٹ جیسے اخراجات سے نئے مالکان کو آزاد کرتے ہوئے یہ سارا بوجھ بھی اپنے سر لے لیا ہے۔ ایسی نوازشات سے ہی نجکاری کے عمل میں شفافیت کے فقدان کی قیاس آرائیاں ہونے لگی ہیں جب حکومت کا ملکی اخراجات کے لیے قرضوں پر انحصار ہے اِس کے باوجود ایسی دریا دلی اور سخاوت دکھانا سمجھ سے بالاتر ہے۔
خسارے میں جانے کے باوجود پی آئی اے کی ساکھ، اثاثے، روٹ اور طیاروں کی اِتنی مالیت ہے جو کسی بھی سرمایہ کار کے لیے کشش کا باعث ہو سکتی ہے۔ اگر اندرونِ ملک پروازوں کی بجائے صرف بیرونی 64 روٹس پر ہی ہفتہ وار پروازیں شروع کر دی جائیں تو بھاری منافع ممکن ہے لیکن طیارے ہونے کے باوجود سوچے سمجھے منصوبے کے تحت پیرس، بارسلونا، مال پینسا، کوپن ہیگن اور اوسلو کی پروازیں بند کر دی گئی ہیں۔ مقصد صرف یہ ثابت کرنا ہے کہ یہ اِدارہ مکمل طور پر تباہ ہو چکا ہے لہٰذا جتنی جلدی ممکن ہو سکے گلو خلاصی بہتر ہے۔ پی آئی اے کی نجکاری کو اپنا کارنامہ ثابت کرنے کی کوششیں دراصل حکمرانوں کی ناکامی کا اعتراف ہے۔ اگر حکمران باصلاحیت ہوتے تو ملک کی شناخت اِدارہ بیچ کر قوم کو مبارکباد دینے کی بجائے اِس کی بحالی پر توجہ دیتے۔ ارے بھئی قوم نے آپ کو ووٹ دئیے ہیں تبھی حکومت میں آئے ہو لیکن ایسا کرنے کی بجائے اِدارہ ہی اِس شرط پر بیچ دیا کہ ایک برس تک کسی ملازم کو نکالا نہیں جائے گا۔
پی آئی اے کے بوجھ سے قوم کو آزادی کی نوید سُنانے والے حکمران حساب کتاب میں بھی اناڑی لگتے ہیں تبھی فروخت کے 135 ارب وصول کرنے میں کوئی دلچسپی نہیں خود صرف دس ارب لے کر خوش ہیں البتہ مشیر نجکاری محمد علی 55 ارب وصولی کا دعویٰ کرتے پھرتے ہیں جبکہ بقیہ 125 ارب پی آئی اے کی بحالی کے لیے خریدار کو دے دئیے ہیں حالانکہ پی آئی اے اب بھی چالیس کے قریب طیاروں کی مالک ہے جن میں سے 19 آپریشنل ہیں سالانہ لاکھوں مسافروں کو سفری سہولت فراہم کرنے والی اِس ائر لائن کے پاس بوئنگ طیارے بھی ہیں جن میں سے صرف ایک جہاز 777 کی مالیت 400 ملین ڈالر ہے مگر پورے اِدارے کی لگائی جانے والی کُل بولی ایک جہازکی قیمت سے بھی کم لگائی گئی ہے۔ یہ اِدارہ اب بھی بیس جہازوں کا مالک ہے جبکہ مزید 13 جہاز لیز پر بھی ہیں۔ علاوہ ازیں 2010 سے پہلے کے 24 طیارے الگ ہیں اگر تمام جہازوں کو کچرے میں بھی فروخت کیا جائے تو لگائی جانے والی کُل بولی سے زیادہ وصولی ممکن ہے اسی بنا پر لوگ حیران ہیں کہ ہمارے باصلاحیت اور مقبول ترین وزیرِ اعظم نے تو عوامی مسائل حل کرنے کے لیے اپنے کپڑے بیچنے کی بات کی تھی لیکن پوری پی آئی اے کو ہی کچھ حاصل کیے بغیر بیچ دیا ہے۔ بظاہر عارف حبیب کنسورشیم سب سے زیادہ بولی دیکر پی آئی اے کو خرید چکا ہے لیکن حکومت نے نوازشات کی حد کرتے ہوئے انہیں بقیہ 25فیصد حصص خریدنے کا اختیار بھی تفویض کر دیا ہے کہ ادائیگی کے بعد سو فیصد حصص کے مالک بن جائیں۔ فروخت کرتے ہی یہ اختیار دینا سوالوں کو جنم دیتا ہے۔ اِس عنایت کو غنیمت جان کر فوجی فرٹیلائزر پہلے بولی سے الگ ہوئی، اب نئے مالکان سے شراکت داری بھی کر لی ہے اور ایسا کرنے کی حکومت نے اجازت بھی دیدی ہے۔ قوم تو بس اِتنا جاننا چاہتی ہے جب وصولی سے حکومت کو کوئی دلچسپی ہی نہیں تو ٹی وی پر ڈرامے نہ کرے رفقا و اقربا کو ملکی اِدارے تحفے میں دیکر خوشحال بنا دے کون سا کوئی سوال کرنے کی جرا¿ت کر سکتا ہے۔ لوگ تو یہ سوچ کر حیران ہیں کہ ایک گھڑی بیچنے سے تو جوہری ملک ڈوبنے کا خدشہ تھا لیکن ایک مکمل اِدارہ ختم کرنے سے کیسے تیرنے لگے گا؟۔