Wed, September 16, 2026

زرعی یونیورسٹی فیصل آباد کا ایک اور اعزاز

زرعی یونیورسٹی فیصل آباد کا ایک اور اعزاز

انگریزوں نے 1906ء میں ساندل بار کے بے آب و گیاہ علاقے کو سرسبز کھیتیوں میں تبدیل کرنے کے لئے جب تین نہروں کے ذریعے آبپاشی کا اہتمام کیا اس وقت شاید کوئی اندازہ نہیں لگا سکتا تھا کہ یہ علاقہ دیکھتے ہی دیکھتے اس خطے کی معیشت کے لئے ایک مرکزی حیثیت کا حامل علاقہ قرار پائے گا۔ ان تین نہروں میں گوگیرہ برانچ، جھنگ برانچ اور رکھ برانچ شامل تھیں اور پورے برصغیر سے لوگ کھیتیاں آباد کرنے کے لئے لائل پور کا رخ کرنے لگے۔ آٹھ بازاروں کا یہ شہر دراصل ہجرت کر کے منتقل ہونے والے کثیرالثقافتی تشخص کے حامل افراد نے لائل پور کو ایک متحرک اور فعال شہر کے طور پر پوری دنیا میں متعارف کرایا۔ جب یہاں زرعی فصلات کے اگاؤ کے لئے نئی ٹیکنالوجیز کی ضرورت محسوس کی گئی تو اس وقت پنجاب زراعتی کالج اینڈ ریسرچ انسٹی ٹیوٹ لائل پور کے نام سے برصغیر پاک و ہند کا علوم زراعت کا اولین ادارہ قائم کیا گیا۔ 1906ء میں پنجاب زراعتی کالج و تحقیقاتی ادارہ لائل پور نہ صرف تربیت یافتہ افرادی قوت فراہم کر رہا تھا بلکہ یہاں سے نئے بیجوں کی دریافت اور نئی زرعی ٹیکنالوجی کی ترقی کا اہتمام کرنے میں پیش پیش تھا اور 1961ء میں مغربی پاکستان زرعی یونیورسٹی لائل پور کے طور پر اس کالج کو ترقی دے دی گئی ۔ 
زرعی یونیورسٹی کے پہلے وائس چانسلر ڈاکٹر زیڈ اے ہاشمی اور ان کے بعد آنے والے وائس چانسلرز نے ملک میں زرعی تعلیم کے لئے ہمہ جہت کوششیں کیں۔ 2025ء میں زرعی یونیورسٹی فیصل آباد کی قیادت یونیورسٹی آف سڈنی آسٹریلیا اور جیانگسو ایکیڈمی آف ایگریکلچرل سائنسزنانجنگ چائنہ سے پوسٹ ڈاکٹریٹ کی ڈگری حاصل کرنے والے بین الاقوامی شہرت کے حامل وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر ذوالفقار علی نے سنبھالی تو ان کے پاس دنیا کے متعدد ممالک میں خدمات سرانجام دینے کا وسیع ترین تجربہ تھا۔ انہوں نے اپنی انتظامی صلاحیتوں کی بدولت یونیورسٹی کی بہتری کے لئے نئے آئیڈیاز پر کام شروع کر دیا اور اس میں انہیں چائنہ کا تعاون بھی حاصل رہا۔
گزشتہ روزچین کے قونصل جنرل نے وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر ذوالفقار علی کو ان کی شاندار خدمات، بصیرت افراز قیادت اور پاکستان و چین کے درمیان مضبوط و پائیدار دوستی کے فروغ میں نمایاں کردار کے اعتراف میں پاک چین دوستی ایوارڈ 
عطا کیا۔ یہ اعزاز انہیں چین کے قونصل جنرل ژاؤ شیرین نے گورنر ہاؤس لاہور میں منعقدہ ایک تقریب میں پیش کیا۔ڈاکٹر ذوالفقار علی کی خدمات کو نہ صرف ملکی بلکہ بین الاقوامی سطح پر بھی عزت و تعظیم کے ساتھ دیکھا جاتا ہے۔ ان کی علمی برتری کے اعتراف میں صدرِ پاکستان کی جانب سے نیشنل لیول ایچ ای سی بیسٹ یونیورسٹی ٹیچرایوارڈ 2020ء دیا گیا تھا۔ 2025ء میں ایسوسی ایشن آف پرائیویٹ سیکٹر یونیورسٹی آف پاکستان کی جانب سے اکیڈمک ایکسی لینس ایوارڈ جب کہ ان کی تحقیقی خدمات کو پاکستان اکیڈمی آف سائنسزنے 2017ء میں بایو ٹیکنالوجی کے شعبے میں گولڈ دیا گیا۔ ڈاکٹر ذوالفقار علی نے قازقستان کے دارالحکومت آستانہ میں او آئی سی کے ذیلی ادارے برائے غذائی استحکام اسلامک آرگنائزیشن فار فوڈ سکیورٹی میں ڈائریکٹر پروگرامز اینڈ پراجیکٹس کے طور پر خدمات سر انجام دے چکے ہیں۔ 
یہاں یہ امر قابلِ ذکر ہے کہ پاک چین تعلقات کے تحت زرعی یوینیورسٹی فیصل آباد کے 83 اساتذاہ چینی جامعات سے اعلیٰ تعلیم حاصل کر چکے ہیں۔ اسی طرح 50 سے زائد اساتذاہ نے چین میں اعلیٰ تربیت اور فیلو شپس حاصل کیں۔ چینی شراکت داروں کے تعاون سے زرعی یونیورسٹی فیصل آباد نے سمارٹ فارمنگ اور بائیو انرجی جیسے شعبوں میں 14 مشترکہ تحقیقی منصوبے مکمل کئے اور متعدد مشترکہ لیبارٹریاں قائم کیں۔ زرعی یونیورسٹی فیصل آباد میں قائم کنفیوشس انسٹی ٹیوٹ کو عالمی سطح کا مثالی ادارہ تسلیم کیا گیا ہے۔ جس نے اب تک 35 ہزار سے زائد طلبہ کو چینی زبان کی تعلیم فراہم کی۔ پروفیسر ڈاکٹر ذوالفقار علی نے ڈوم گندم کی قسم " چناب پاستا 24 ـ" اور کم گلوٹن گندم کی قسم " چناب ایل جی" تیار کیں ان کی قیادت میں جامعہ زرعیہ فیصل آباد نے انقلابی اقدامات کئے اور ادارے کو نئی بلندیوں تک پہنچانے کے لئے مٔوثر پیش رفت جاری رکھی ہوئی ہے۔زرعی یونیورسٹی فیصل آباد ساندل بار میں علم و دانش کی پہلی آماجگاہ کے طور پر جانی جاتی ہے۔ یہاں سے فارغ التحصیل ہونے والے قابل سائنسدان ملک سے غربت کے خاتمے اور بڑھتی ہوئی آبادی کے لئے خوراک کی ضروریات پوری کرنے میں نمایاں کردار ادا کر رہے ہیں۔ آج پاکستان کا زرعی و لائیوسٹاک کا شعبہ جس طرح ملکی ضروریات کے مطابق دودھ اور خوراک پیدا کر رہا ہے وہ یہاں سے فارغ التحصیل ہونے والے سائنسدانوں کی محنت کا نتیجہ ہے۔ان کا عزم ہے کہ وہ یونیورسٹی کو آئند ہ چند ماہ میں دنیا کی 500ممتا ز جامعات کی فہرست کا حصہ بنانے کی حکمت عملی پر عمل پیرا ہیں۔
یونیورسٹی وزیراعلیٰ پنجاب کے ویژن کے مطابق جامعہ میں کلین و گرین پاکستان پروگرام کو آگے بڑھا رہے ہیںاور اس حوالے سے زرعی یونیورسٹی میں اس پر بہت توجہ دی جا رہی ہے۔ یونیورسٹی کو ملک کی سب سے کلین و گرین یونیورسٹی بنادیا گیا ہے۔ یونیورسٹی میں ایسے پروگرامز کی ترویج کی جا رہی ہے جس سے اسے سوسائٹی میں خوشگوار اور پائیدار اثرات کا حامل ادارہ بنایا جا سکے۔ یونیورسٹی سیڈ پراسیسنگ یونٹ کے قیام کے ساتھ ساتھ چھوٹے زرعی آلات کو عام کرنے کی راہ پر گامزن ہے جس سے زیادہ پیداوار کے ساتھ ساتھ پیداواری لاگت میں کمی لاکر کسان کی معاشی حالت میں بہتری لائی جا سکے۔ یونیورسٹی خطے میں غذائی استحکام کے ساتھ ساتھ گریجوایٹ ہونیوالے نوجوانوں کو اپنے بزنس آئیڈیاز کے ساتھ خود روزگار کیلئے تیا کر رہی ہے تاکہ انہیں جاب مارکیٹ میں ملازمت کے بجائے کامیاب بزنس مین کے طور پر پروان چڑھایا جا سکے۔ یونیورسٹی اقوام متحدہ کے پائیدار ترقیاتی اہداف کے حصول کیلئے کوشاں ہیں اور خصوصی طور پربھوک اور غربت کے خاتمے کیلئے ترجیحی طور پر کام کر رہی ہے۔ 
وائس چانسلر ڈاکٹر ذوالفقار علی کی قیادت میں زرعی یونیورسٹی فیصل آباد ملکی زراعت کی ترقی کے لئے کوشاں ہے۔جامعہ زرعیہ فیصل آباد کو ملک کی ممتاز یونیورسٹی بنانے کیلئے وہ تمام پہلوئوں سے پیش رفت کر رہے ہیں اور توقع رکھتے ہیں کہ جلد ہی اسے دنیا کی 500بہترین جامعات میں شامل کرانے میں کامیاب ہونگے۔ کسانوں کو بہترین بیج اور دوسری خدمات فراہم کی جا رہی ہیں، یہاں سے فارغ التحصیل طلبا ملک کے کونے کونے میں اپنی خدمات سر انجام دے رہے ہیں ۔ یہاں ہونے والے ریسرچ ورک سے تیزی سے بڑھتی ہوئی آبادی کی غذائی ضروریات پوری کرنے میں مدد مل رہی ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ سماجی مسائل کے حل کے لئے بھی جامعہ زرعیہ اپنا کردار ادا کر رہی ہے۔فیصل آباد زیادہ آلودگی والے شہروں کی فہرست میں شامل ہے تاہم یونیورسٹی کیمپس میں شجر کاری مہم پر خصوصی توجو دی جاتی ہے، جس سے مستقبل میں سموگ کی شدت میں بتدریج کمی آئے گی۔

ٹیگز: