Wed, September 16, 2026

محترمہ مریم نواز اور فیصل آباد پولیس

محترمہ مریم نواز اور فیصل آباد پولیس

محترمہ مریم نواز نے گزشتہ روز بڑی اچھی بات کی" اللہ تعالیٰ نے انہیں مخلوق کی خدمت کے لئے چنا ہے، موقع دیا ہے اور یہ موقع پروٹوکول انجوائے کرنے، پیسے بنانے کے لئے نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ کے دئے ہوئے موقع سے فائدہ اٹھاتے ہوئے اس کی مخلوق کی خدمت کر کے دنیا اور آخرت بنانی ہے۔ لیکن ان کے اس وژن کو ادارے ناکام بنانے پر تلے ہوئے ہیں۔ ہر محکمہ میں خوفِ خدا اور عہدے کے فرائض وہ لوگ بھولے ہوئے ہیں۔ یہی حال محکمہ پولیس فیصل آباد کا ہے۔ اس حوالے سے گزشتہ روز مسلم لیگ(ن) سے تعلق رکھنے والے موجودہ و سابقہ اراکینِ اسمبلی اور تنظیمی عہدیداروں نے سی پی او فیصل آباد بلال عمر سے ملاقات میں بھی کی کہ فیصل آباد شہر آج کچے کے علاقے کا منظر پیش کر رہا ہے۔ شہر میں جرائم پیشہ افراد کا راج ہے جب کہ شریف شہریوں کی جان و مال اور عزت و آبرو غیر محفوظ ہو چکی ہے اور سائیلین سے بد تمیزی، گالم گلوچ، دھمکیاں اور ان سے برا سلوک تو پولیس کا معمول ہے، شہر کے ایس ایچ او صاحبان اتنے طاقتور ہیں کہ ان کے سامنے یہ پولیس افسران بے بس ہوتے ہیں۔ ضلعی پولیس کی اکثریت کسی نہ کسی اعتبار کسی نہ کسی جرم میں شریک ہے۔ 
شہر میں گھریلو ملازمین کے حوالے سے صورتحال بڑی خراب ہے ڈومیسٹک ورکرز کے طور کام کرنے والی عورتوں میں آج کل جرائم پیشہ افراد نے ایسی خواتین شامل کر دی ہیں ، جن کا کام صرف چوری چکاری کرنا ہے۔ وہ مسلسل چھوٹی موٹی چیزیں چوری کرتے رہتے ہیں بلکہ زیورات اور قیمتی اشیاء بھی چرا لیتے ہیں اور پھر یہ چپکے سے غائب ہو جاتے ہیں جب ان چوریوں کی اطلاع مقامی پولیس کو دی جاتی ہے تو وہ کبھی ان کی تفتیش نہیں کرتی۔ 
میں یہاں اپنا ذاتی واقعہ شیئر کرتا کرتا ہوں کہ میں دو ڈھائی سال قبل گھر بنا رہا تھا میرے گھر میں لگے ہوئے 50000 مالیت کے پانی والے پمپ کو اتار لیا گیا میں جب اس کی ایف آئی آر درج کروانے تھارنے گیا تو پہلے ایس ایچ او کہنے لگا کہ اتنی مالیت کی کیا ایف آئی آر کاٹی جائے۔ میں نے سی پی او کے پی آر او سے رابطہ ان کی مداخلت سے ایف آئی آر کاٹ دی گئی،وہی پی آر او آج بھی سی پی او آفس میں تعینات ہیں جو اس وقت تھے۔ ایف آئی آر تو کاٹ دی گئی۔مجرموں کی تلاش تو درکنار میرے کئی بار رابطہ کرنے کے باوجود ایک بار بھی کوئی اہلکار جائے وقوعہ پر دیکھنے کے لئے نہیں آیا اور اس طرح چھ ماہ کے بعد مجھے اطلاع دی گئی کہ آپ کی ایف آئی آر داخل دفتر کر دی گئی ہے۔ بعد میں مجھے کسی نے بتایا کہ یہ چھوٹی موٹی چوریاں کرنے والے انہی پولیس افسران کی آشیر باد سے سرگرمِ عمل ہوتے ہیں تو بھلا یہ انہیں کیوں پکڑیں گے۔
پولیس کے محکمے کے لوگ پریس میں اپنے خلاف شائع ہونے والی کسی خبر یا شکایت کی عرضی کسی بات کی پرواہ نہیں کرتے کیونکہ ان کے ساتھ زیادہ سے زیادہ یہ ہوتا ہے کہ انہیں چند ہفتوں کے لئے معطل کر دیا جاتا ہے جس کے بعد وہ پہلے سے بھی زیادہ جوش و خروش کے ساتھ انہی سرگرمیوں میں مصروف ہو جاتے ہیں۔ ان کے خیال میں وہ پولیس افسر ہی نہیں جو اپنی مدتِ ملازمت میں دس بیس دفعہ معطل یا اس پر پرچے نہ ہوں۔ ایجنسیاں مجرموں کی مدد کرنے میں اور زیادہ خوش ہوتی ہیں کیونکہ انہیں بھی اس لوٹ مار کے مال میں سے وافر حصہ مل جاتا ہے۔ ان کا مٔوقف ہے کہ اگر کوئی پکڑا بھی گیا تو تو کرپٹ پولیس اسے چھوڑ دے گی یا وہ ہمارے قانونی نظام کے سقم سے فائدہ اٹھاتے ہوئے عدالت سے بری ہو جائے گا لہٰذا کیا یہ بہتر نہیں کہ وہ شروع میں ہی لوٹ کے مال سے اپنا حصہ نکال لیں۔ یہی وجہ ہے کہ آج فیصل آباد شہر میں جرائم کی شرع عروج پر ہے۔ 
اس سے اندازہ کیا جا سکتا ہے کہ گزشتہ 77 سالوں میں ہماری پولیس نے اپنا وطیرہ تبدیل نہیں کیا اور اپنے معمولات غلامی کے دور کی طرح روا رکھے ہوئے ہیں۔برطانوی سامراجی دور کے قائم کردہ تھانوں کا مقصد یہاں کے لوگوں کو اپنا مطیع اور فرماں بردار بنانا تھا۔ ہمارے ہاں آج بھی معمولی اصلاحات کے بعد پولیس کا اصل ڈھانچا 1861ء کی بنیادوں ہی پر کھڑا ہے۔ پولیس اسٹیشن بنانے کا مقصد عوام کے جان و مال کے تحفظ کو یقینی بنانا ہوتا ہے تا کہ لوگ آرام و سکون سے زندگی بسر کر سکے، مگر ہمارے معاشرے میں معاملہ اس کے برعکس ہے۔ محترمہ مریم نواز تو اختیار کو فریضہ سمجھ کے ادا کرنا چاہتی ہیں، وہ بہت دور اندیش ہیں سمجھتی ہیں کہ اگر ہم نے ایسا نہ کیا تو ایک وقت ایسا آ جائے گا کہ جب لوگ خود سے منصف بن جائیں گے۔

ٹیگز: