گزشتہ روز پنجاب کی وزیرِ اعلیٰ محترمہ مریم نواز صاحبہ فیصل آباد تشریف لائیں۔ جہاں انہوں نے کئی اہم اعلانات کئے، جن میں فیصل آباد میں اے آر ٹی میٹرو بس سروس کا آغاز، اس موقع پر وزیرِ اعلیٰ نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ وہ یہاں کے عوام کے لئے ڈیڑھ سو ماحول دوست الیکٹرک بسیں لے کر آئی ہیں اور چند ہفتوں میں فیصل آباد میں میٹرو کی تعمیر شروع ہو جائے گی۔ فیصل آباد آئی ٹی سٹی کے قیام کا اعلان، فیصل آباد میں 40 ارب روپے کی لاگت سے واٹر اینڈ سینی ٹیشن سسٹم کا جلد افتتاح، فیصل آباد کے الائیڈ ہسپتال میں کینسر کے علاج کے لئے کو- ابلیشن مشین دینے کا اعلان کیا۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ وہ وقت دور نہیں جب فیصل آباد لاہور سے زیادہ ترقی یافتہ شہر ہو گا۔
اس میں کوئی رائے نہیں ہے کہ فیصل آباد ملک کا تیسرا بڑا اور پنجاب کا دوسرا بڑا شہر ہے جس کے مزدوروں اور صنعتکاروں نے ملکی معاشی ترقی میں بڑا اہم کردار ادا کیا ہے۔ جو شہر آج سے تقریباً سو سال قبل ایک زرعی منڈی کے طور پر لائلپور کے نام سے آباد کیا گیا تھا آج وہ ایک کروڑ سے زائد کی آبادی پر مشتمل ہے۔ یہ بنیادی طور پر مزدوروں، محنت کشوں کا شہر ہے جنہوں نے اپنے آپ کو سہولتوں سے محروم رکھ کر غربت و افلاس میں ملکی ترقی کے لئے اپنا خون پسینہ ایک کیا ہے۔ لیکن بڑے دکھ سے کہنا پڑتا ہے کہ اس شہر کے باسیوں کو کبھی وہ اہمیت نہیں دی گئی جو ان کا حق ہے۔ اب وزیرِ اعلیٰ پنجاب محترمہ مریم نواز نے ایک بہت بڑے پیکیج کا اعلان کیا ہے یقیناً ان سارے منصوبوں کی تکمیل کے بعد فیصل آباد کی شکل بدل جائے گی۔ اس سے ثابت ہوتا ہے کہ ان کا وژن
صرف اعلانات تک محدود نہیں ہے بلکہ عملی اقدامات کے ذریعے عوامی مسائل کا حل ہے۔ زرعی یونیورسٹی کے طلباء نے جس والہانہ انداز میں ان کا استقبال کیا یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ نوجوان نسل بھی اس کو اپنے بہترین مستقبل کے مترادف سمجھ رہی ہے۔ وزیرِ اعلیٰ کا عملی خدمت کا رویہ ان کے عوام دوست رویے کی عکاسی کرتا ہے۔
پاکستان ایک غریب ملک ہے جہاں 45 فیصد سے زائد افراد غربت کی انتہائی سطح سے نیچے زندگی گزار رہے ہیں۔ لیکن جب اپنی ہاں کی اشرافیہ کو دیکھتے ہیں تو ہمیں احساس ہوتا ہے کہ ان کے لئے مراعات ہی مراعات ہیں۔ اس وقت ہم کس نہج پر کھڑے ہیں اور ہمارے مسائل میں کمی ہونے کی بجائے دن بہ دن اضافہ کیوں ہوتا جا رہا ہے، اس کی وجوہات کیا ہیں۔ جن انگریز افسران نے ہندوستان میں ملازمت کی، جب وہ برطانیہ واپس جاتے تو انہیں وہاں کسی بھی اہم پبلک پوسٹ کی ذمہ داری نہ دی جاتی۔ دلیل یہ تھی کہ جن انگریز افسروں نے ایک غلام قوم پر حکومت کی ہو، ان کے رویوں میں زمین آسمان کا فرق آ جاتا ہے۔ یہاں اگر اس طرح کی کوئی ذمہ داری برطانیہ میں بھی دی جائے تو تم آزاد انگریز قوم کو بھی اسی طرح ڈیل کرو گے جس طرح تم ہندوستان کی غلام قوم کو جوتی کی نوک پر رکھتے تھے۔ ہمیں انگریزوں سے آزاد ہوئے 78 سال ہو چلے ہیں لیکن گورے انگریز تو رخصت ہو گئے مگر اب ہم پر کالے انگریز وہی طور طریقے استعمال کر رہے ہیں جو ان کے آقا کیا کرتے تھے۔ آج بھی حکمرانوں اور بیورو کریسی سمیت سب کے حقوق ہیں لیکن اس کے برعکس عوام کے کوئی حقوق نہیں۔ جہاں جہاں تک نظر جاتی ہے پاکستانی عوام ہی مشقِ ستم بنی نظر آتے ہیں۔
پاکستان کی بیورو کریسی طاقتور تو ہے لیکن ملکی ترقی کے فیصلے کرنے میں وہ کردار ادا نہیں کر سکی جس کی اس سے توقع کی جا رہی تھی۔ سول بیورو کریسی میں بروقت اور بہتر فیصلہ سازی کے فقدان کی وجہ یہی ہے کہ ان میں عوامی امنگوں کے مطابق اہلیت ہی نہیں ہے۔ سول بیورو کریسی کے ناکام ہونے کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ عموماً ایسے افسران کو اہم ترین عہدوں پر تعینات کیا جاتا ہے جو کہ تربیت، قابلیت اور فٹنس کے مسائل پر پورا نہیں اترتے اور اپنے آپ کو ریاست کا ملازم سمجھنے کی بجائے عوام کا آقا اور عقلِ کل سمجھنے لگتے ہیں۔بیورو کریسی کا عوام کے ساتھ تضحیک آمیز رویہ اور عوام کے مسائل حل کرنے میں عدم دلچسپی کی ایک بڑی وجہ نتائج کے لئے اندرونی احتساب اور سزا اور جزا کے نظام کا نہ ہونا ہے۔ ہماری نظر میں سول سروسز اصلاحات کے بنیادی دو مقاصد ہونے چاہئیں، ایک یہ کہ عوام کو زیادہ سے زیادہ سہولتیں مہیا کی جائیں جس سے عام آدمی کا معیارِ زندگی بہتر ہو اورا سے ایک ایسا نظام میسر آئے جس میں ان کے مسائل احسن طریقے سے حل ہو سکیں۔ ایک وقت تھا جب بیورو کریسی میں قابل ترین افسران شامل تھے لیکن بد قسمتی سے اب ایسا نہیں ہے، سول سروس میں اصلاحات کی جائیں جو دوبارہ ملک کے ذہین ترین لوگوں کے لئے باعثِ کشش بن سکیں۔ اب تک تو زیادہ تر منفی دیانتدار مردم بیزار اور غیر معمولی صلاحیتوں سے عاری افسروں کا ہی انتخاب کیا گیا ہے، اسی وجہ سے اعلیٰ ترین سروس تیزی سے روبہ زوال ہو رہی ہے۔ بے شک محترمہ مریم نواز یا کوئی بھی حکومت کچھ بھی منصوبے بناتی رہے لیکن ان کی کامیابی کا سارا دارو مدار بیورو کریسی پر ہوتا ہے اگر بیورو کریسی ذہین اور ایماندار ہے تو وہ منصوبے کامیاب ہوں گے بصورت دیگر ناکامی کا منہ دیکھنا پڑے گا۔