Wed, September 16, 2026

محترمہ شہید کی جماعت اور زبان درازیاں

محترمہ شہید کی جماعت اور زبان درازیاں

پاکستان پیپلز پارٹی کو ممکن ہے آپ سیاسی جماعت سمجھتے ہوں لیکن میرا تجربہ اورمشاہدہ اس سے برعکس ہے ۔ یہ کبھی واقعی بہت بڑی سیاسی جماعت تھی ذوالفقار علی بھٹو کا ڈنکا پوری دنیا میں بجتا تھا لیکن جب بھٹو صاحب کا قتل ہو ا تو اُس وقت بھٹو صاحب مغرب میں اُس طرح مقبول نہ تھے جیسے عالمی قائدین دنیا میں ہوتے ہیں ۔ مغرب اُن کا مخالف تھا اور اُس نے پوری طاقت کے ساتھ بھٹو کی مخالفت کی یقینا اُس وقت دنیا بلاکوں میں بٹی ہوئی تھی اور پھر بھٹو صاحب کی گرفتاری اور۱ُس سے پہلے نظام مصطفی کی تحریک کے پیچھے جو قوتیں کھڑی تھیں وہ اُس وقت پسِ پردہ ضرور تھیں لیکن آج ہر حقیقت کھل کر سامنے آ چکی ہے ۔ بھٹو مقبول تھا اور اتنا مقبول کے لوگوں نے ا ُس کیلئے کوڑے کھائے ٗ خودی سوزیاں کیں ٗ قیدیں کاٹیں ٗ پھانسیوں پرجھول گئے لیکن بھٹو آج بھی پاکستان کی سیاست میں دھمال ڈال رہا ہے۔ اُس کا ورکر ضیا کے گیارہ سال میں بدترین تشدد کا سامنا کرتا رہا ہے۔ دنیا بھر سے جہادی اکھٹے کیے گئے جو 5جولائی 1977ء سے لے کر 27دسمبر 1979ء تک ہماری شمال مغربی سرحد اور اُس وقت کے علاقہ غیر کے قبائل کا حصہ بنتے رہے اور پھر یہ سلسلہ ایک دہائی سے زائد عرصہ تک جاری رہا ۔ یہ وہی تاریخ ہے جب روسی فوجیں افغانستان میں داخل ہوئی تھیں یہ مجھے اس لئے بھی ہمیشہ کیلئے یاد رہ گئی کہ محترمہ بھی اسی تاریخ کو دہشتگردوں کے ہاتھوں شہید ہوئیں ۔ بھٹو صاحب کے دونوں بیٹے قتل کردیئے گئے ٗ نصرت بھٹو ایک طویل عرصہ کوما میں رہیں اور27دسمبر کی وہ خونی شام جب راولپنڈی کے لیاقت باغ میں محترمہ کو شہید کردیا گیا اس باغ کی پشت پر وہ جیل ہے جہاں بھٹو صاحب کو پھانسی دی گئی تھی اور یہی وہ باغ ہے جہاں لیاقت علی خان کو گولی مارکر شہید کیا گیاتھا ۔ پنڈی پاکستان کے وزراء اعظم کا مقتل ہی ثابت ہوا ہے۔ محترمہ بے نظیر بھٹو کے ساتھ ہم نے کام کیا ہے ۔ اُن سے گفتگو کی ہیں۔ انہیں سنا ہے ٗان کی تحریریں پڑھی ہیں اور جیسا سوگ اُن کی موت پر ہوا شاید پاکستان میں دوبار کبھی کسی کو یہ عزت نصیب نہ ہو ۔ کارساز سے لے کر لیاقت باغ تک پیپلز پارٹی کے ورکروں کی قربانیوں کی لازوال داستانیں ہیں جو ضیا دور میں نہیں طالبانی بلائوںکے ہاتھوں شہید ہوئے ۔ میںنے گورنر پنجاب سے کہا تھا کہ یہ ٹھیک ہے کہ پاکستان پیپلز پارٹی کبھی سیاسی جماعت تھی لیکن اب یہ پاکستانیوں کا مشترکہ رومانس ہے ۔ کوئی پیپلز پارٹی کو ووٹ دے یانہ دے لیکن یہ ممکن نہیں کہ آپ بھٹو یا بے نظیر کو گالی بک کر پاکستان میں بڑے سیاستدان بن سکیں ۔ محترمہ بے نظیر بھٹو نے جس اخلاقیات کی بنیاد رکھی ٗ گالی گلوچ سے پاک سیاست کی اور اپنے بدترین مخالفین کو بھی ہمیشہ آپ جناب کہہ کر پکارا ۔ محترمہ فاطمہ جناح تو مادر ِ ملت ہیں لیکن محترمہ بے نظیر ہی وہ اصل خاتون ہیں جنہوںنے پاکستان میں خواتین کیلئے سیاست کی راہ ہموار کی ۔ اِس گھٹن زدہ معاشرے میں نئی کھڑکیا ں اور دروازے بنائے تاکہ لوگ بھی آتے جاتے رہیں او ر تازہ ہوا بھی سب کو میسر آئے ۔ پاکستان پیپلز پارٹی کی خواتین کے بارے میں یہ عام تاثر ہے کہ و ہ انتہائی تعلیم یافتہ ٗ با وقار اور رکھ رکھائو والی خواتین ہیں کیونکہ اُن کی تربیت محترمہ بے نظیر بھٹو کے ہاتھوں ہوئی ہے۔ ایک بڑے دماغ نے انہیں سیاست کے اسرار و رموز سے آشنا کیا تھا جس کو ہم آج بھی پیپلز پارٹی میں دیکھ سکتے ہیں لیکن بزرگو ں کا کہنا ہے کہ ایک مچھلی سارے تالاب کو گند ہ کرتی ہے ۔
میں نے اپنے گزشتہ کالم میں بھی تحریر کیا تھا کہ پلوشہ خان کسی صورت بھی عبد العلیم خا ن کے معاملے کو ختم نہیں ہونے دیں گی کیونکہ یہ سب کچھ وہ اپنے بل بوتے پر نہیں کر رہیں یہ تیر کسی اورکمان سے نکلا ہوا ہے لیکن مجھے انتہائی معذرت اور شرمندگی کے ساتھ لکھنا پڑرہا ہے جو زبان وہ استعمال کر رہی ہیں وہ نہ تو محترمہ شہید کی زبان ہے اور نہ ہی پیپلز پارٹی کی خواتین کی ۔ جس سے مجھے یہ خیال آتا ہے چونکہ پلوشہ خان صاحبہ نے پاکستان پیپلز پارٹی محترمہ بے نظیر بھٹو کی شہادت کے بعد جوائن کی تھی سو وہ اُس تربیت سے محروم رہی ہیں ۔ آج وہ ایک نان ایشو کو ایشو بنا کر انتہائی بازاری زبان استعمال کر رہی ہیں جو کسی صورت نہ تو ہمارے کلچر کو زیب دیتی ہے اور نہ ہی یہ پیپلز پارٹی کے مکالمے کا کلچر ہے۔ عبد العلیم خان نے معذرت کے بعد ابھی تک اُس کا کوئی جواب نہیں دیا شاید کسی خاتون کی ایسی گفتگو کا جواب دینا ہی نہیں چاہتے۔ باقی سیاست میں کولیگز کے درمیان بہت کچھ گرم سرد ہو جاتا ہے لیکن اُس کا مطلب ہرگز یہ نہیں ہوتا کہ آپ اپنی ذات کی خاطر ملکی مفاد کو نقصان پہنچانا شروع کردیں ۔اگر پلوشہ خان صاحبہ کوئی ہمدردی حاصل کرنا چاہتی ہیں تووہ یقینا مایوس ہوں گی کیونکہ آپ لوگوں نے ابھی تک عوام کودیا ہی کیا ہے سوائے تنخواہیں لینے اور گلچھڑے اڑانے کے کہ آپ کے ساتھ ہمدردی کی جائے۔ عوامی ہمدردیاں ہمیشہ ڈلیور کرنے والے حکمرانوں کے ساتھ ہوتی ہیں ۔ بھٹو نے ڈلیور کیا تولوگوں نے اُسے آج تک یاد رکھا ہوا ہے۔ محترمہ نے اُن طالبانی بدمعاشوں کو کھلے بندوں للکاراجن سے سورمے بھی خوف کھاتے تھے۔ آپ کو تو بنی بنائی پیپلز پارٹی اور اور بہترین سیاسی معروض میسر آیا ہے کہ آپ لوگوں کی ریاست کو ضرورت ہے ورنہ جتنا نقصان آپ نے عوام کیا کیا ہے اور جو کچھ سندھ کے ساتھ گزشتہ پچیس سال میں ہو چکا ہے وہ شاید ٹھیک کرتے کرتے بھی کئی دہائیاں لگا جائیں ۔ پاکستان کے تمام سیاستدانوں کا کچا چٹھا سب کو معلوم ہے ۔ انٹرویوز کس کس کے ہوئے اور اتحادی حکومت کیسے بنی ۔ لوگ آپ لوگوں سے اتنے بدظن تھے کہ انہوںنے آ پ پر آپ سے بھی کم درجے کے جھوٹے کو فوقیت دی ۔ باقی ذات کے حوالے سے عبد العلیم خان نے کوئی بات نہیں کی ۔ آپ نے مشتعل کرکے اپنے مقاصد حاصل کیے ہیں لیکن خدایا کچھ احساس کریں ۔ کل محترمہ کا یوم ِ شہادت ہے وہ عالم ِ برزخ سے آپ لوگوں کی تمام حرکات و سکنات دیکھی رہی ہو گی۔ عبد العلیم خان کا آپ کچھ بگاڑ سکتی ہیں اور نہ ہی آپ کے ساتھیوں کی اتنی بساط ہے کیونکہ وہ آپ کا اتحادی ہی نہیں۔ عبد العلیم خان مسلم لیگ ن کا اتحادی ہے اور اگر کل حالات بدلتے ہیں تووہ اپنا نیا فیصلہ خود کرے گا مگر فی الحال وہ آپ کی رینج سے باہر ہے۔

ٹیگز: