غزہ : غزہ میں اسرائیلی فوج کی وحشیانہ کارروائیاں جاری ہیں۔ آج اسرائیلی فورسز نے النصر اسپتال کو نشانہ بنایا، جس کے نتیجے میں کم از کم 21 افراد شہید ہو گئے، جن میں 4 صحافی بھی شامل ہیں۔
شہید صحافیوں میں عالمی میڈیا اداروں سے تعلق رکھنے والے رپورٹرز اور کیمرا مین شامل تھے، جن میں رائٹرز کے حسام المصری، اے پی اور انڈیپنڈنٹ کی نمائندہ مریم ابودقہ، این بی سی کے صحافی ابو طحٰہ اور الجزیرہ کے فوٹو جرنلسٹ محمد سلامہ شامل ہیں۔
عرب میڈیا کا کہنا ہے کہ اسرائیلی حکومت اور فوج نے حملے پر تاحال کوئی بیان جاری نہیں کیا۔ اس تازہ واقعے کے بعد غزہ میں اکتوبر 2023 سے اب تک شہید ہونے والے صحافیوں کی تعداد 244 ہو گئی ہے۔
ادھر غزہ پر اسرائیلی بمباری کا سلسلہ بھی تھم نہیں رہا۔ صرف ایک دن میں اسرائیلی حملوں کے باعث 66 فلسطینی شہید ہوئے، جن میں امداد لینے کی کوشش میں مصروف 24 افراد بھی شامل تھے۔ مزید 8 فلسطینی بھوک کے باعث جاں بحق ہو گئے۔ شمالی، جنوبی اور وسطی غزہ میں ہزاروں عمارتیں مکمل تباہ ہو چکی ہیں۔
اب تک اسرائیلی حملوں میں غزہ کے شہداء کی تعداد 62 ہزار 600 سے تجاوز کر چکی ہے، جب کہ زخمیوں کی تعداد 1 لاکھ 57 ہزار سے زیادہ ہو گئی ہے۔ ان میں زیادہ تر خواتین اور بچے شامل ہیں۔
اسرائیلی فوج نے مغربی کنارے کے شہر رام اللہ سے 14 فلسطینیوں کو گرفتار کر لیا ہے، جبکہ یمن کے دارالحکومت صنعا پر بھی اسرائیلی فضائی حملوں میں 6 افراد جاں بحق اور 67 زخمی ہوئے ہیں۔ حملوں میں صدارتی کمپلیکس، ایندھن کے گودام اور بجلی گھروں کو نشانہ بنایا گیا۔
غزہ کی سول ڈیفنس کے ترجمان محمود بصل نے دنیا سے اپیل کی ہے کہ اسرائیل کو اسپتالوں پر حملے روکنے اور انسانی امداد کی رسائی کی اجازت دی جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ اسرائیل بھوک، بیماری اور بمباری کے ذریعے غزہ میں شہری زندگی مکمل طور پر ختم کرنا چاہتا ہے۔