مظفرآباد : پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کی جانب سے خیبر پختونخوا سے باہر اپنی سیاسی مقبولیت ثابت کرنے کی کوشش کو مظفرآباد میں بڑا دھچکا لگا ہے۔ وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی کی آمد کے لیے کیے گئے وسیع انتظامات کے باوجود عوامی شرکت نہ ہونے کے برابر رہی، جس نے جماعت کی آزاد کشمیر میں تنظیمی گرفت پر سوالات اٹھا دیے ہیں۔
رپورٹ کےمطابق جلسے کے لیے جہاں شہر کو بینرز سے سجایا گیا اور 1100 سے زائد کرسیاں لگا کر ایک "عظیم الشان" اجتماع کا تاثر دینے کی کوشش کی گئی، وہیں حقیقت اس کے برعکس نکلی۔ وزیراعلیٰ سہیل آفریدی نے جب خطاب شروع کیا تو تقریباً 300 سے زائد کرسیاں خالی پڑی تھیں، جو پی ٹی آئی کی موبلائزیشن ٹیم کی ناکامی کا واضح ثبوت تھا۔
سیاسی حلقوں میں اس جلسے کو ایک "سیاسی انتباہ" کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ مبصرین کا کہنا ہے کہ جو جماعت لاکھوں کا مجمع اکٹھا کرنے کی دعویدار تھی، اس کے لیے مظفرآباد میں ایک ہزار کرسیاں بھرنا بھی مشکل ثابت ہوا۔ یہ ایونٹ ثابت کر گیا کہ مقبولیت صرف سوشل میڈیا یا سٹیج کے بیانیے تک محدود نہیں ہونی چاہیے، بلکہ اسے زمین پر ثابت کرنے کے لیے کارکنوں سے دوبارہ رابطہ جوڑنا ضروری ہے۔
یہ جلسہ پی ٹی آئی کے لیے اپنی رسائی کے دعووں کو سچ ثابت کرنے کے بجائے ایک سبق بن کر سامنے آیا ہے۔ خالی نشستوں نے یہ پیغام دے دیا ہے کہ صرف وزیراعلیٰ اور بینرز لے آنا کافی نہیں، جب تک عوام کا اعتماد اور کارکنوں کی فعالیت ساتھ نہ ہو۔ پی ٹی آئی کو اب مظفرآباد کے اس تجربے کو 'اسپن' دینے کے بجائے اپنی انتخابی اور تنظیمی حکمتِ عملی پر سنجیدگی سے نظرِ ثانی کرنی ہوگی۔