کل پاکستان کے ایک بڑے اخبار میں لیڈ سٹوری تھی کہ ارب پتی ٹیکس چوروں کے خلاف کارروائی، ایف بی آر نے مہنگی گاڑیوں، جیولری اور لائف سٹائل کا سراغ لگا لیا۔ اس خبر کا تاثر یہ ہے کہ ایک غریب آدمی کو تھوڑا ریلیف اورتھوڑی خوشی ملے کہ چلو اب امیرلوگوں سے اضافی دولت لے کرغریبوں پرخرچ کی جائے گی۔ حالانکہ ایسا نہیں ہے۔ سرمایہ دارانہ نظام کے عنوان سے قائم حکومتیں ’’رابن ہڈ ازم‘‘ کلچر کے تحت نہیں چلتیں۔ اس طرح کی حکومتی خبریں تھوڑا سا خوف و دبدبہ اور تھو ڑی عوامی شہرت کی خاطر لگوائی جاتی ہیں۔ دوسرا ایف بی آر کا مسئلہ یہ ہے کہ 2025 کے پہلے کوارٹر میں 200 ارب کاشارٹ فال ہے جواس نے ہر حالت میں پورا کرنا ہے۔ ٹیکس ٹارگٹ میں مسلسل اضافوں اور معاشی شرح نمو میں مسلسل کمی، غربت اور بے روزگاری میں اضافہ دراصل اس سوچ اور نظریے کی پیداوار ہے جس کی اساس پرارض وطن کا معاشی نظام استوار ہے۔ اس وقت لگ بھگ پوری دنیا پر استحصالی سرمایہ دارانہ نظام کا غلبہ ہے۔ اقوام متحدہ، بین الاقوامی مالیاتی اداروں اور قابل بھروسہ بینکس کی رپورٹس کے مطابق اقوام عالم کی دولت کا تخمینہ 415 سے 420 ٹریلین (بیالیس ہزار ارب) ڈالر ہے۔ اس دولت کا نصف (50 فیصد) دنیا کے صرف ایک فیصد انتہائی امیر افراد اور کارپوریشنز کے کنٹرول میں ہے۔ ان ارب پتی افراد کا زیادہ تر تعلق امریکہ، یورپ، چین،روس اورعرب ممالک سے ہے۔ باقی 25 فی صد سرمایہ بھی انہی سے جڑے امیر لوگوں (25 فیصد آبادی) کے تصرف میں ہے۔ باقی 25 فیصد دولت متوسط، غریب اور غربت کی سطح سے نیچے افراد (4ارب سے زائد) کے حصے میں آتی ہے۔ حالانکہ انہی افراد کی محنت سے یہ زائد دولت پیدا ہوتی ہے۔ رپورٹس کے مطابق بقیہ ساڑھے چار ارب آبادی میں سے 50 فیصد لوگ غریب یا غربت کی سطح سے نیچے کی زندگی بسر کر رہے ہیں۔ پاکستان کے اعداد وشماربھی ہو بہو اس عالمی معاشی منظرنامے کی تصویر کشی کرتے ہیں۔ جہاں کل قومی دولت کا نصف صرف ایک فیصد امیرخاندانوں اور اداروں کی تجوریوں میں بند ہے۔ باقی دولت پر بھی اس سسٹم کے چلانے والے 20 سے 25 فیصد حامیوں کاقبضہ ہے۔ پاکستان کا 20 فیصد نیم متوسط اور 50 فیصد غریب اور انتہائی غریب طبقہ بھاری ٹیکسوں، سہولیات کی عدم دستیابی، مہنگائی، بجلی، گیس،پانی
کے بلوں اور بے روزگاری کے پتھروں کے نیچے دبا مشکل سے سانس لے رہا ہے۔ سوچنے کی بات یہ ہے کہ عام پاکستانیوں پران پتھروں کا بوجھ ڈالنے والا نظام کونسا ہے؟ یہ کس فکر و فلسفے کے تحت کام کرتا ہے؟ جبکہ حقیقی خوشحالی پیدا کرنے کے لئے کس اصول اور فلسفے کے تحت کام کرنے کی ضرورت ہے؟ ہم سب اپنی خراب معیشت کا رونا تو روتے ہیں لیکن عام طور پر ان موضوعات پرعقلی طور پر سوچنے یا گفتگو کا رجحان بہت کم دیکھنے کو ملتا ہے۔ اس کی بڑی وجہ موجودہ نظام کے پیدا کردہ وہ نظریات ہیں جس میں بطور مسلمان قرآن حکیم اور سیرت طیبہ ﷺ سے استفادے کوبہت محدود نقطہ نظرسے پیش کیاگیاہے۔ اسلام کوآسمان سے اوپراور زمین سے نیچے کی دنیا کا مذہب بنا کر پیش کیا جاتا ہے۔ حالانکہ دیگر تمام مذاہب کے بر عکس اسلام دنیا کا واحد مذہب ہے جوپورے سماجی نظام (سیاست،معیشت،عدالت وغیرہ) کو عصری تقاضوں کیمطابق پیش کرنے کی صلاحیت و استعداد رکھتا ہے۔ آج اکثریتی مسلمانوں کو اس مغالطے میں مبتلا کردیا گیا ہے کہ جی اسلام کا سیاسی نظام توآج قابل عمل نہیں جبکہ اسلام کا کوئی باقاعدہ معاشی نظام تو ہے ہی نہیں۔ بھولے بادشاہو آج آپ کی فیکٹری، دفتر،آپ کاگھر،آپ کا مدرسہ و یونیورسٹی کسی نظام کے بغیر نہیں چل سکتے تو پھر کیسے ایک ہزار سال تک پوری دنیا میں اسلامی نظام معیشت اورسیاست کا غلبہ قائم رہا۔ جس سے کثیر انسانیت مستفید ہوتی رہی ہے۔ اب ہمارے نظام چلانے والے، معیشت دان، علما اور پروفیسر حضرات کہتے ہیں کہ جی کلمہ تو ہم نبی اکرم ﷺ کا پڑھیں گے لیکن معیشت ایڈم سمتھ اور الفرڈمارشل کے اصولوں پر چلائیں گے۔ جن کا مطمع نظر (اصول و قواعد) صرف اتنا ہے کہ زیادہ سے زیادہ دولت کیسے پیدا کی جائے؟ زیادہ سے زیادہ دولت کیسے اکٹھی کی جائے؟ دولت کو زیادہ سے زیادہ کیسے استعمال (پروڈکشن آف ویلتھ) کیا جائے؟ یعنی ایڈم سمتھ (ویلتھ آف دی نیشن،1776) کے ماننے والوں کا پورا فلسفہ دولت کے گرد گھومتاہے۔ جس میں رفاہیت کا کلی انکار نظر آتا ہے اور دولت چند ہاتھوں میں سمٹ جاتی ہے۔ اس سرمایہ داری نظریے کو یورپی مفکر کارل مارکس نے اپنی کتاب داس کیپیٹل(1867) میں توڑاہے اور بتایا ہے کہ دولت کی ’’قدرزائد‘‘ مزدوروں کی اضافی محنت سے پیدا ہوتی ہے۔ بعد ازاں سوشل ازم کے معاشی نظریے پر روس میں بالشویک انقلاب (1917) بپا ہوا۔ جس کے بعد مجبواً یورپ کے سرمایہ داری معاشرے میں محدود رفاہیت (مشروط) کاتصور آیا لیکن اس نے بھی عام انسان کو کولہو کے بیل کی طرح معاشی نظام میں جوت کررکھا ہوا ہے۔ دیگرانسانی تقاضوں کے انکارکے باعث آج سوشل ازم بھی اپنی اصل میں سرمایہ داری کے مقابل ناکام ہوچکاہے۔ دراصل سرمایہ داری(کیپیٹل ازم) کی اصل ضد اور حل اسلام کا معاشی نظام ہے۔ اسلام کی اعلیٰ ترین شکل حضرت محمدﷺ کے دور میں قرآنی فکر کے تناظر میں پیش گئی جس پرباقاعدہ سیاسی و معاشی نظام قائم کیاگیا۔ جوایک ہزارسال (دورمحمدیہ ﷺ، خلفاء راشدین، بنوامیہ، بنوعباس، بنوعثمان اور برصغیر میں مغل خلافت) تک قائم رہا۔ بعد ازاں اسلام کے دور زوال میں برصغیر کی عالیشان شخصیت امام شاہ ولی اللہ ؒ، جن پر مسلمانوں کے تمام مکتبہ فکرمتفق ہیں۔ انھوں نے اسلام کے نظریہ معیشت کو ایک ہزار سالہ دور کے علمی ورثے کی روشنی میں ایڈم سمتھ (کیپٹل ازم کابانی) سے 40سال قبل اور کارل مارکس(سوشل ازم کا بانی) سے 150 سال پہلے پیش کیا۔ دین اسلام کے تناظر میں پیدائش دولت، تقسیم دولت، تبادلہ دولت اور صرف دولت کے اصول و قوانین کیا ہیں؟انسانی احتیاجات کے معیارات کیا ہوں گے؟ اور ان احتیاجات کی تسکین کے لئے حصولِ وسائلِ معاش کے معیارات کیا ہوں گے؟ اس ضمن میں امام شاہ ولی اللہ ؒ کی تصانیف حجتہ اللہ البالغہ اورالبدورالبازغہ میں وضاحت سے اسلامی معاشی نظام کی تفصیل پیش کی گئی ہے۔ عصر حاضر میں ان کتب اور امام شاہ ولی اللہ ؒ کے سلسلہ فکر پر اتھارٹی حضرت مفتی عبدالخالق آزاد رائے پوری صاحب کے مختلف یونیورسٹیز میں ’’اسلام کے نظریہ معیشت‘‘ پرلیکچرز، کتابی صورت میں ’’مقالات معیشت‘‘ کے عنوان سے شائع ہوچکے ہیں۔ یہ خطبات اسلام کے معاشی نظام اورکل انسانیت کی فلاح کا واضح روڈ میپ پیش کرتے ہیں۔ نظریہ اسلام کی روشنی میں آج جدید ٹیکنالوجی پر مبنی معاشی نظام کیسا ہونا چاہئے؟ معاشی نظام کے لیے ایک مضبوط سیاسی و اخلاقی نظام کی ضرورت کیوں ہے؟ خصوصاً پاکستان میں کس طرح اس کو بروئے کار لایا جا سکتا ہے؟ مزید تفصیل ان شاء اللہ اگلے کالم میں۔