ہر شخص اپنے ہمسایہ میںہمیشہ یہ خواہش رکھتا ہے کہ اسکا پڑوسی ایک اچھا انسان ہو ، علاقے میں مسائل پیدا نہ کرے ، ایک اچھے دوست اور مدد گار ہونے کا مظاہرہ کرے، یہ خواہشات ملکوں کی بھی ہوتی ہے اگر کسی ملک کا پڑوسی مثبت افعال کا مالک ہو تو وہ رحمت ہوتا ہے، دونوں ممالک کے عوام اور ممالک میں معاشی ترقی ہو ، جو صرف اور صرف ان ممالک میں امن وامان کے ذریعے ہی ہو سکتی ہے ۔ مگر بدقسمتی سے پاکستان کو کچھ پڑوس اچھے نہیں ملے ہندوستان تو قیام پاکستان سے آج تک پا کستان دشمنی پر لگا ہے مگر الحمدللہ ہماری بہادر افواج کی وجہ ہمیشہ منہ کی کھا رہا اور نہ صرف نقصان اٹھا رہا ہے بلکہ دنیا میں بھی رسوا ہو رہا ہے۔ ایک دفعہ سقوط ڈھاکہ کا افسوس ناک واقعہ ہوا اس بھارتی سازش میں ہمارے ہی کچھ لوگ شامل تھے لیکن آج پاکستان جس مقام پر کھڑا ہے اس کے بعد پڑوسیوںکو بھی ہوش کے ناخن لینے کی ضرورت ہے، بھارت کی ہی حمایت سے ہی افغانستان میں مو جود ڈرپوک دہشت گرد پاکستان میں مسلسل ریشہ دوانیوں میں مصروف ہیں۔ تحقیقات بتاتی ہیں کہ پاکستان میں ہونے والی دہشت گردکارروائیوں میں افغان باشندے اب انہیں طالبان کہہ لیں یا جو جی چاہے، اس میں سرحد پار سے آنے والے افغان ہوں یا پاکستان میں بیٹھے غیر قانونی مقیم طالبان تحقیقات کے نتیجے میں ان دہشت گرد کارروائیوں کے پشت پر پھر بھارت ہی نکلتا ہے، افغانستان کے مسئلے اور دہشت گردی کی وجہ سے پاکستان کو نہ صرف ہزاروں نوجوانوں، ننھے بچوں، خواتین ہر عمر کے لوگوںکو جام شہادت نوش کرنا پڑا ہے، 16 دسمبر 2014 کے سانحہ آرمی پبلک سکول پشاور آج تک ہر پاکستانی نے آنسو بہائے جس میں 150 سے زائد افراد ہلاک ہوئے، جن میں 132 بچے بھی شامل ہیں زیادہ تر متاثرین کی عمریں 8 سے 18 سال کے درمیان تھیں حملہ آور تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) سے وابستہ 7 عسکریت پسند تھے انہوں نے نیم فوجی وردی میں بھیس بدل کر سکول پر دھاوا بول دیا اور واقعہ کی ذمہ داری لیتے ہوئے ایک بکواس کی کہ یہ حملہ قبائلی علاقوں میں ان کے خلاف آپریشن ضرب عضب کا بدلہ تھا۔ دراصل مسئلہ یہ ہے کہ افغان باشندے جو دہشت گردی کرنا چاہتے ہیں انہیں پاکستان کے خلاف مالی تعاون پڑوس سے ہو جاتا ہے بقیہ ہتھیار تو امریکہ افغانستان سے بھاگتے ہوئے (اسی بھاگنا ہی کہا جا سکتا ہے، یہ عمل وہ ویت نام میں بھی انجام دے چکا ہے)چھوڑ گیا تھا۔ مسئلہ یہ ہے کہ شکل سے معصوم اور مذہبی دکھنے والے جب کہیں اپنے مقاصد کیلئے دہشت گرد ی کر کے معصوموںکو شہید کرتے ہیں تو وہ ثواب سمجھتے ہیں اور اپنے آپ کیلئے جنت از خود تصور کر لیتے ہیں۔ امریکی محکمہ دفاع کی کانگریس کو موصول ہونے والی ایک رپورٹ میں افغان نیشنل ڈیفنس اینڈ سکیورٹی فورسز (اے این ڈی ایس ایف) کو منتقل کیے گئے سازو سامان کی مالیت 18.6 بلین ڈالر بتائی گئی ہے۔ اس میں سے تقریباً 7.12 بلین ڈالر کا اسلحہ امریکی انخلا مکمل ہونے کے بعد افغانستان میں رہ گیا جن میں ہوائی جہاز شامل تھے۔ اسلحہ بارود فوجی گاڑیاں (ہزاروں ہمویز سمیت)، چھوٹے ہتھیار، مواصلاتی گیئر، نائٹ ویژن گاگل، نگرانی، بائیو میٹرک اور پوزیشننگ کا سامان وغیرہ خاص طور پر گولہ بارود موجود ہے۔ جب امریکہ نے 2021 میں انخلا کیا، تو طالبان نے امریکہ کی طرف سے چھوڑے گئے بڑی تعداد میں ملٹری سامان (بندوقیں، گاڑیاں، طیارے، گولہ بارود وغیرہ) پر دوبارہ کنٹرول حاصل کر لیا۔ اس سامان میں سے بعض کو طالبان نے اپنی مقاصد کے لیے استعمال کیا ہے، بشمول امریکی گاڑیوں اور چھوٹی بندوقوں کا پریڈ کرنا۔ تقریباً پانچ لاکھ ہتھیار، اشیاء جو اصل میں طالبان کے کنٹرول میں آئیں یا چھوڑ دی گئی تھیں، اب ’’گمشدہ، فروخت شدہ یا سمگل‘‘ ہو چکی ہیں۔ ان میں سے کچھ اشیاء دوسرے غیر طالبان عسکری گروپوں کے استعمال میں نظر آتی ہیں، ممکنہ طور بلیک مارکیٹ کے ذریعے نہ جانے کن کن دہشت گردوں تک پہنچا ہے۔ امریکی صدر کی پالیسیوںکو دیکھا جائے تو یہ کہا جا سکتا ہے کہ امریکی امداد جو انسانیت کے نام پر افغانستان پہنچتی ہے وہ انسانی ہمدردی کیلئے نہیں بلکہ انسانوں کو مٹانے کیلئے دہشت گرد استعمال کرتے ہیں۔ ہمارا مسئلہ یہ بھی ہے ہمارے سیاست دان بہت ’’محب وطن‘‘ ہیں، یہ د نیا کو پتہ ہے۔ جب ملک سے غیر قانونی افغانیوںکو نکالنے کی بات ہو، بارڈر بند کرنے کی بات ہو، تو مولانا فضل الرحمان، گنڈہ پور یا اس علاقے کے دیگر سیاست دان پاکستان اور افغانستان کی تاریخ بتانا شروع کر دیتے ہیں۔ مسلسل دہشت گردی کے نتیجے میں ہماری عسکری قیادت کو کہنا پڑا کہ پاکستان کے پاس ٹھوس اور ناقابلِ تردید شواہد موجود ہیں کہ غیر قانونی طور پر مقیم افغان باشندے اور بھارتی فوج کے افسران پاکستان میں دہشت گردی کی کارروائیوں میں ملوث ہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ پاکستان نے گزشتہ چار دہائیوں تک لاکھوں افغان مہاجرین کو نہ صرف پناہ دی بلکہ ان کی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے ہر ممکن کوشش کی۔ افغان مہاجرین کو پناہ دینے کی بنیادی وجہ غیر ملکی مداخلت اور ملک میں خانہ جنگی تھی، لیکن اب وہ حالات تبدیل ہو چکے ہیں اور یہ وجوہات باقی نہیں رہیں۔ غیر قانونی طور پر مقیم افغان باشندوں کی ایک بڑی تعداد دہشت گردی اور سنگین جرائم میں ملوث ہے۔ دوسری طرف اقوام متحدہ کی رپورٹس اس حقیقت کی تصدیق کرتی ہیں کہ پاکستان میں ہونے والی دہشت گردی کی زیادہ تر کارروائیاں افغانستان سے کی جاتی ہیں
رپورٹس کے مطابق ٹی ٹی پی کو طالبان حکومت کی سرپرستی حاصل ہے، جو خود بھارتی اثر و رسوخ کے زیرِ اثر ہے۔ لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے درست نشاندہی کی کہ غیر قانونی افغان باشندوں کی موجودگی پاکستان کی سلامتی کے لیے سنگین خطرہ بن چکی ہے۔ ایران نے بھی اسی طرح غیر قانونی مہاجرین کے خلاف سخت اقدامات اٹھائے ہیں، جو ایک قابلِ تقلید مثال ہے۔ بھارت کی جانب سے پاکستان میں دہشت گردی کو فروغ دینے کے شواہد ناقابلِ تردید ہیں۔ کلبھوشن یادیو کی گرفتاری اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ بھارتی فوجی افسران پاکستان میں دہشت گردی کی کارروائیوں میں براہِ راست ملوث ہیں۔ بالآخر وزیراعظم شہباز شریف نے بنوں میں فیلڈ مارشل آرمی چیف عاصم منیر کے ساتھ اہم ترین سکیورٹی اجلاس میں افغانستان کو دوٹوک پیغام دیا کہ افغانستان، فتنہ الخوارج یا پاکستان میں سے کسی ایک کا انتخاب کرے۔ پاکستان متعدد مرتبہ بڑے عالمی فورمز پر اور افغانستان کی قیادت کو یہ بتا چکا ہے کہ افغان سرزمین پاکستان کے خلاف استعمال ہو رہی ہے جس سے پاکستان کو ناقابل تلافی نقصان پہنچا جس میں سکیورٹی فورسز پر حملے اور خیبر پختونخوا میں دہشت گردی کی وارداتیں شامل ہیں۔