Wed, September 16, 2026

افغانستان سے ابھرنے والے خطرات

 افغانستان سے ابھرنے والے خطرات

افغانستان کی سرزمین ایک بار پھر عالمی اور علاقائی طاقتوں کے لیے دردِ سر بنتی جا رہی ہے۔ امریکی انخلا کے بعد جہاں طالبان نے اقتدار پر قبضہ کیا وہیں مختلف دہشت گرد تنظیموں نے اس خلاء کو اپنے حق میں استعمال کرنا شروع کر دیا۔ ان تنظیموں میں القاعدہ انڈین سب کانٹی نینٹ (AQIS)، داعش خراسان (ISIS-K)، تحریک طالبان پاکستان (TTP)، اور ازبک و تاجک عسکری گروہ شامل ہیں جو افغانستان کے مختلف حصوں میں منظم انداز میں متحرک ہیں۔ ان میں سے ہر ایک گروہ اپنے اپنے مفادات اور اہداف کے لیے افغانستان کی غیر مستحکم صورتحال سے فائدہ اٹھا رہا ہے اور اس کے اثرات پاکستان، چین، ایران، بھارت اور روس تک پھیل چکے ہیں۔
افغانستان جو کبھی ’’قبرستانِ امپائرز‘‘کہلاتا تھا، آج ’’جنم گاہِ دہشت گردی‘‘ میں بدل چکا ہے۔ طالبان حکومت کی محدود گورننس، کمزور سیکورٹی اسٹرکچر، داخلی اختلافات، اور عالمی سطح پر غیر تسلیم شدہ حیثیت نے ان تنظیموں کے لیے محفوظ پناہ گاہیں فراہم کر دی ہیں۔ افغان طالبان اگرچہ بظاہر یہ دعویٰ کرتے ہیں کہ وہ اپنی سرزمین کسی دوسرے ملک کے خلاف استعمال نہیں ہونے دیں گے مگر زمینی حقائق اس کے برعکس ہیں۔
القاعدہ انڈین سب کانٹی نینٹ (AQIS) جنوبی ایشیا کے لیے القاعدہ کا نیا چہرہ ہے جس کا قیام 2014ء میں ہوا۔ اس کا بنیادی مقصد بھارت، بنگلہ دیش، میانمار، اور پاکستان میں اسلامک گورننس کے قیام کے لیے جدوجہد کرنا ہے۔ اس تنظیم کے زیادہ تر رہنما اور جنگجو افغانستان میں چھپے ہوئے ہیں جہاں انہیں طالبان کے کچھ دھڑوں کی خاموش حمایت حاصل ہے۔بھارت کے لیے AQIS آنے والے وقتوں میں ایک سنگین چیلنج بن سکتا ہے۔ مقبوضہ کشمیر میں بھارتی مظالم، مسلمانوں کے خلاف بڑھتی ہوئی انتہا پسندی، اور ہندوتوا نظریے کے زیرِ اثر پالیسیاں AQIS کے لیے ایک مضبوط بیانیہ فراہم کر رہی ہیں۔ یہ تنظیم نوجوان مسلمانوں کو ’’جہاد‘‘ کے نام پر بھارت مخالف سرگرمیوں کے لیے بھرتی کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔ اگر طالبان حکومت نے اس پر قابو نہ پایا تو بھارت کو اپنی سرزمین پر AQIS کے حملوں یا اندرونی انتہا پسندی میں اضافے کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ آج تو بھارت پاکستان کی دشمنی میں طالبان سے بغلگیر ہو رہا ہے کل کو یہی طالبان اور القاعدہ انڈین سب کانٹینٹ بھارت کے گلے کا ایسا طوق بن کر بھارت کی اینٹ سے اینٹ بجا کر رکھ دیں گے۔داعش خراسان خطے کی سب سے خطرناک اور بے رحم دہشت گرد تنظیم بن چکی ہے۔ اس کے نشانے پر نہ صرف طالبان حکومت ہے بلکہ چین، روس، ایران، اور وسط ایشیائی ممالک بھی ہیں۔ داعش خراسان چین کے خلاف خاص طور پر نفرت رکھتی ہے۔
داعش خراسان کے ترجمانوں نے متعدد بار چین کے خلاف بیانات دیئے ہیں اور چینی سرمایہ کاری کے منصوبے جیسے سی پیک (CPEC) اور بیلٹ اینڈ روڈ انیشی ایٹو (BRI) کو’’اسلام دشمن‘‘ منصوبے قرار دیا ہے۔ مستقبل میں داعش خراسان افغانستان کے شمالی اور مشرقی علاقوں سے نکل کر چین کے مغربی سرحدی علاقوں میں دہشت گردانہ کارروائیاں کر سکتی ہے۔ اسی طرح روس کے زیرِ اثر وسط ایشیائی ریاستیں بھی داعش کے ممکنہ اہداف میں شامل ہیں۔پاکستان کے لیے TTP سب سے بڑا چیلنج ہے جس کے رہنما اور جنگجو افغان سرزمین پر موجود ہیں۔ طالبان حکومت کی بارہا یقین دہانیوں کے باوجود TTP نے پاکستان کے خلاف دہشت گردی کی کارروائیاں بڑھا دی ہیں۔ افغانستان میں موجود TTP کے ٹھکانے نہ صرف پاکستان بلکہ خطے کے دیگر ممالک کے لیے بھی خطرہ ہیں کیونکہ ان کے روابط داعش خراسان اور ازبک عسکریت پسندوں کے ساتھ قائم ہیں۔یہ حقیقت واضح ہے کہ افغانستان میں موجود دہشت گرد گروہ صرف ایک ملک کے لیے نہیں بلکہ پورے خطے کے لیے خطرہ ہیں۔ بھارت، چین اور روس اپنے اپنے مفادات کے تحت طالبان حکومت سے رابطے میں ہیں۔ چین اور روس کے طالبان سے تعلق کی بنیاد اقتصادیات جبکہ بھارت کے طالبان سے تعلق کی بنیاد اس کی پاکستان سے دشمنی پر مبنی ہے۔ ایران بھی اپنی سرحدی سلامتی کے حوالے سے محتاط رویہ اپنائے ہوئے ہے۔اگر یہ ممالک دہشت گردی کے خلاف مشترکہ محاذ تشکیل نہیں دیتے تو آنے والے برسوں میں خطہ بدترین بدامنی کی لپیٹ میں آسکتا ہے۔ بھارت کے لیے AQIS اور چین کے لیے داعش خراسان مستقبل میں وہی کردار ادا کر سکتے ہیں جو ماضی میں القاعدہ اور TTP نے پاکستان کے خلاف ادا کیا تھا۔
چین کی پالیسی ہمیشہ سکیورٹی کے ساتھ اقتصادی تعلقات کو جوڑنے کی رہی ہے۔ بیجنگ افغانستان کے ساتھ سفارتی سطح پر تعلقات قائم رکھنے اور وہاں سرمایہ کاری کے ذریعے اثرورسوخ بڑھانے کی کوشش کر رہا ہے۔ لیکن اگر داعش خراسان نے چینی مفادات پر حملے کیے تو چین کو اپنی نرم پالیسی پر نظرثانی کرنا پڑے گی۔ بیجنگ ممکنہ طور پر طالبان پر دباؤ بڑھائے گا کہ وہ داعش کے خلاف سخت کارروائی کرے یا پھر روس اور ایران کے ساتھ مل کر انسدادِ دہشت گردی کے لیے مشترکہ کارروائیاں شروع کرے۔بھارت دوسری طرف AQIS کے بڑھتے ہوئے اثر سے فکرمند ہے۔ نئی دہلی کو خوف ہے کہ افغانستان میں سرگرم گروہ کشمیر میں شدت پسندی کو نئی توانائی دے سکتے ہیں۔ بھارت اپنی انٹیلی جنس اور فوجی صلاحیتوں کو بہتر بنا کر داخلی سکیورٹی کو مضبوط کرنے کی کوشش کرے گا مگر یہ اقدام صرف وقتی حل ثابت ہو گا جب تک خطے میں اجتماعی ردعمل نہیں دیا جاتا۔افغانستان سے ابھرنے والے خطرات کا مقابلہ صرف انفرادی اقدامات سے ممکن نہیں۔ پاکستان، چین، بھارت، ایران، روس، اور وسط ایشیائی ریاستوں کو ایک مشترکہ انسدادِ دہشت گردی فورم تشکیل دینا ہو گا جو طالبان حکومت پر اجتماعی دباؤ ڈال سکے کہ وہ اپنی سرزمین پر موجود دہشت گرد گروہوں کے خلاف عملی کارروائی کرے۔ لیکن بھارت طالبان کو پاکستان دشمنی میں گلے لگا کر خطے میں جس آگ کو دہکانے کی کوشش کر رہا ہے نفرت اور دہشت گردی کی وہی آگ اس کو بھی جلا کر راکھ کر سکتی ہے۔  
افغانستان کی اقتصادی بحالی اور عوامی فلاح کے منصوبے بھی ان گروہوں کے اثر کو کم کر سکتے ہیں۔ جب تک افغان نوجوانوں کو تعلیم، روزگار اور تحفظ فراہم نہیں کیا جاتا، دہشت گرد تنظیمیں ان کے ذہنوں کو استعمال کرتی رہیں گی۔افغانستان ایک بار پھر عالمی سیاست کے مرکزی نقطے پر کھڑا ہے۔ دہشت گرد تنظیموں کی موجودگی نہ صرف افغانستان کے لیے بلکہ پورے جنوبی اور وسط ایشیا کے لیے خطرے کی گھنٹی ہے۔ اگر خطے کے ممالک نے بروقت اجتماعی اور جامع حکمتِ عملی اختیار نہ کی تو القاعدہ انڈین سب کانٹی نینٹ، داعش خراسان اور ٹی ٹی پی مستقبل میں وہ عفریت ثابت ہوں گی جو بھارت اور پورے خطے کے امن کو نگل جائیں گی۔ 

ٹیگز: